بھوپال سروے ، بیس سال بعد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سانحۂ بھوپال کے ٹھیک بیس سال بعد مدھیہ پردیش کی حکومت نے کیمیائی فیکٹری کے بقایاجات کی صفائی کے لیے ایک سروے کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیکٹری سے زہریلی گیس کے اخراج کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ایک وزیر کے مطابق ایک بھارتی کمپنی کو کہا گیا ہے کہ وہ علاقے کا سروے کرنے کے بعد معاملے کی سنگینی کا جائزہ لے۔ اوما شنکر گپتا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’ یہ سروے رپورٹ علاقے کی صفائی کے لیے اٹھایا جانے والا پہلا قدم ہے‘۔ تین دسمبر انیس سو چوراسی کو یونین کاربائیڈ کے کارخانے سےایم آئی سی گزشتہ بیس سال کے دوران پندرہ ہزار افراد اس سانحہ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ماحولیاتی بیماریوں کے نتیجے میں ہلاک ہوئے جبکہ علاقے کے باسی آج بھی سانس کی بیماریوں کا مستقل شکار ہیں۔ وسطی بھارت کے اس شہر کی مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ اس کارخانے کے زہریلے مادے آج بھی ان کے پینے کے پانے کو آلودہ کر رہے ہیں۔ بھارت کی وفاقی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس سروے کے بارے میں کوئی انجینیئرز انڈیا لمیٹڈ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک بھوپال میں کسی سروے کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی ہے۔ ترجمان نے اس سروے سے متعلق کمپنی اور حکومت کے درمیان کسی قسم کے مذاکرات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ سانحۂ بھوپال کے متاثرین کی بحالی اور اس حادثہ کے ذمہ دار افراد کو سزا دلوانے کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے نمائندے عبدالجبار کا کہنا تھا کہ ’ یہ سروے صرف وقت کا ضیاع ہے‘۔ بھارتی حکومت امریکی عدالت میں سنے جانے والے اس مقدمے کے فیصلے کی منتظر ہے جس میں یہ طے ہو گا کہ کارخانہ کی موجودہ مالک کمپنی ڈاؤ کیمیکلز علاقے کی صفائی کرے گی یا نہیں۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صفائی کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی گئی ہے جس میں مرکزی و ریاستی حکومت کے نمانئدوں کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی کے ماہرین بھی شامل کیے گئے ہیں۔ یونین کاربائیڈ نے اس سانحہ کے ہرجانے کے طور پر پانچ سو ملین امریکی ڈالر دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||