BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 June, 2007, 15:09 GMT 20:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایئرہوسٹس کا وزن، عدالتی جنگ

زیر تربیت ایئر ہوسٹس
بیس پچیس برس کی عمر تک وزن اور جسم کو اچھا رکھنے میں کوئی مشکل نہیں آتی ہے لیکن تیس یا پینتیس برس بعد ایئر ہوسٹس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے: ایئر ہوسٹس
ہندوستان میں سرکاری ایئر لائن ’ایئر انڈیا‘ کی سینئر ایئر ہوسٹسوں نے دِلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں زیادہ وزن رکھنے والی ایئر ہوسٹس کی کام سے بے دخلی کودرست بتایا گیا ہے۔

دلی ہائی کورٹ نے اپنے اہم ایک فیصلے میں کہا ہے کہ اس مقابلہ کے دور میں ایئر لائنز اپنے تجارتی مفاد کے لیے زیادہ وزن اور بے ڈول جسم والی ایئر ہوسٹس کو کام سے بے دخل کرنے کی مجاز ہیں۔ ہائی کورٹ کے مطابق: ’پیشے کی نوعیت کی مناسبت سے ایئرہوٹس کو چاہیے کو وہ اپنے جسم کے پھیلاؤ پر قابو رکھیں، جسم کو بے ڈول نا ہونے دیں اور وزن ضابطہ کے تحت ہونا چاہیے‘۔

ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ ان ایئر ہوسٹسوں کی عرضی پر سماعت کے بعد دیا ہے جنہیں زیادہ وزن ہونے کے سبب کام سے بے دخل کردیا گیا تھا۔ معاملے کے وکیل روندرا شرما کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ڈبل بینچ میں اپیل کریں گے۔

’ہم نے اس سرکلر کو چیلنچ کیا تھا جس میں زیادہ وزن کو کسی بھی قیمت پر برداشت نا کرنے کو کہا گیا تھا، صرف آدھا کلو زیادہ وزن کیسے سروس متاثر کرسکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی خاص ضابطہ بھی نہیں ہے پھر بھی ہمای عرضی خارج کردی گئی‘۔

مسٹر شرما کا کہنا تھا کہ ایئر کارپوریشن کے پرانے ضابطے کالعدم ہوچکے ہیں اور نئے سرکلر کے تحت کسی بھی ایئر ہرسٹس کو اس وقت تک ڈیوٹی پر نہیں بلایا جاتا ہے جب تک وہ وزن کم نہیں کر لیتی اور اس دوران اسے تنخواہ بھی نہیں ملتی ہے۔ بقول ان کے یہ ملازمت کے ضابطوں کے بھی خلاف ہے۔

عرضی گزار ایک ایئر ہوٹس شیلا جوشی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیصلے سے’ایئر انڈیا‘ کی ڈیڑھ سو ایئر ہوسٹسیں متاثر ہوں گی۔’سرکاری ملازم کسی دوسری جگہ کام نہیں کرسکتا اور عمر رسیدہ خواتین کو وزن کم کرنے میں وقت لگتا ہے، حالت یہ ہے کہ آدھا کلو وزن زیادہ ہونے پر بھی کام سے نکال دیا جاتا ہے اور پیسے نہیں ملتے ہیں جس سے ہماری روزی روٹی متاثر ہوتی ہے۔

شیلا جوشی کا کہنا تھا کہ بہت سی ایئر ہوسٹسوں کو دس یا بارہ سال سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔’اگر ملازمت سے نکال دیا جائے تو کوئی دوسرا کام پکڑا جا سکتا ہے لیکن مشکل تو یہ ہے کہ ملازمت ہوتے ہوئے بھی کام نہ ملے تو پیسے نہیں ملتے‘۔

شیلا کا کہنا تھا کہ بیس پچیس برس کی عمر تک وزن اور جسم کو اچھا رکھنے میں کوئی مشکل نہیں آتی ہے لیکن تیس یا پینتیس برس بعد ایئر ہوسٹس کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے جسم اور وزن کو کیسے متوازن رکھیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے پچیس سال ملازمت کی ہے اوراب میں پچاس برس کی ہوں، میری لمبائی ایک سو باسٹھ انچ ہے۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق میرا وزن کم سے کم 53 کلو گرام اور زیادہ سے زیادہ 63 کلوگرام ہونا چاہیے لیکن اب یہ 67 کلوگرام ہے اس لیے نہ ہی کام ہے اور نہ ہی پیسے۔‘

ایئر انڈیا کے حکام کی دلیل یہ ہے کہ اس دور میں اسے دوسری ایئر لائنز مقابلہ بہت زیادہ ہے اور بہتر معیار کی خدمات دینے کے لیے ایک حد سے زیادہ سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد