یورپی ایئرلائن پنجابی بنے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ہندوستانی تاجر نے بھاری معاوضہ کے عوض پرائیوٹ یورپی فضائی کپمنی ’ایئرسلوواکیا‘ کو خرید لیا ہے۔ ہرجندر سنگھ نام کے یہ پنجابی تاجر برطانوی شہریت رکھتے ہیں اور برطانیہ میں ہی رہائش پزید ہیں۔ ہرجندر کے بیٹے رقبال عرف روکی سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے والد اس ساٹھ ملازمین والی ایئر لائن کو پنجابی تہذیب اور رہن سہن کے طریقے سے چلانا چاہتے ہیں۔ اس ایئرلائن کو چلانے کے لۓ پنجابی ملازم رکھے جائیں گے اور جہاز کے اندر پنجابی کھانا کھلایا جائے گا اور پنجابی زبان کی فلمیں دکھائی جائیں گی۔ رقبال ، جوخود اپنے والد کی خریدی ہوئی ایئر لائن کے ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ ایئرلائن کا ہیڈ کوارٹر بھارتی پنجاب کے شہر جالندھر میں ہوگا اور اس کے جہاز ریاست پنجاب میں بھی اڑیں گے۔ مسٹر سنگھ نے مزید بتایا کہ ’ہمارے بیشتر مسافر پنجاب سے ہیں یا وہ پنجابی ہیں جو برطانیہ میں آکر بس گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایئر سلوواکیا کو پنجابی تہذیب کا اثر دینا چاہتے ہیں۔ ہماری فضائی میزبانیں، اسٹیورڈز اور کھانا پنجابی ہی ہوگا۔‘ مسٹر سنگھ نے بتایا کہ جب ایئرلائن شروع ہوجائےگی تو اس کا ایک پنجابی نام بھی ہوگا۔ ہندوستان میں پنجابی نام سے ہی ٹکٹ بکیں گےاور جہازوں پر بھی وہی پنجابی نام چھپا ہوگا۔‘ حال میں ایئرسلوواکیا نے تین طیارے خریدے تھے جن میں سے دو بوئنگ 757 ہیں جبکہ ایک بوئنگ 373 ہے۔ اس ائرلائن کا آغاز 1993 میں سلوواکیا کے ایک تاجر نے کیا تھا۔ ایئرلائن کے نئے مالک مسٹر سنگھ آئندہ برس چھ مزید نئے جہاز خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایئر لائن کی پروازیں میلان، سلوواکیا کے سہر براتیسلاوہ، برمنگھم، لندن اور جرمنی سے اڑیں گی۔ فی الوقت جو مسافر اس ایئرلائن سے سفر کرتے ہیں وہ اس کی خدمات سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ ایئرسلوواکیا کی ویب سائٹ پر بعض مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ اس کی سروس سے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔
ایسے ہی ایک مسافر نے ویب سائٹ کے ذریعے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ ’میں لوگوں سے یہی کہوں گا کہ وہ کبھی بھی ایئر سلوواکیا میں سفر نہ کریں۔ طیاروں میں نہ تو بیٹھنے کی جگہ ہے۔ مسافر اپنی سیٹ پر ٹھیک سے پاؤں بھی نہیں پھیلا سکتے، سٹاف کا رویہ روکھا ہے اور کھانا بھی خراب ہے۔‘ ایک دوسرے مسافر کا کہنا تھا کہ ’ایئر ہوسٹسز اور اسٹیورڈز کو انگریزی نہیں آتی اور نہ ہی انہیں کسی ایشیائی زبان کا علم ہے۔ انہیں پتہ ہونا چاہیۓ کہ اس ایئر لائن میں سفر کرنے والے زیادہ تر مسافروں کا تعلق ایشیاء سے ہوتا ہے۔‘ مسٹر سنگھ نےیہ تسلیم کیا کہ ایئرلائن کی خدمات کے متعلق کچھ شکایات ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ وہ انہیں جلد ہی ٹھیک کرلیں گے۔ مسٹر سنگھ نے مزید کہا ہے کہ ’ایئر سلوواکیا کے مالک کو پنجاب کے مسافروں کی ضروریات کا اندازہ نہیں تھا لیکن اب جب سے ہم نے اسے سنبھالا ہے حالات بہتر ہیں۔‘ ہرجندر سنگھ کا تعلق پنجاب سے ہے اور وہ سولہ برس کی عمر میں پنجاب سے لندن چلے گئے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ پیٹرول اور پراپرٹی کا کاروبار کرتے ہیں۔وہ گزشتہ تین برس سے لندن اور پنجاب کے درمیان چارٹڈ ایئرلائنز چلا رہے ہیں اور گزشتہ ایک برس سے لندن سے باہر ایئر سلوواکیا کے ٹکٹ فروخت کر رہے ہیں۔ رقبال سنگھ نے بتایا کہ شروع میں ان کے والد سلوواکیا ایئرلائن کی ساتھ مل کر کام کررہے تھے لیکن انہوں نے بعد میں اسے خریدنے کا ارادہ کر لیا جس کو انہوں نے گزّشتہ ہفتے عملی شکل دے دی۔ | اسی بارے میں ’دِل اپنا پنجابی‘ بازی لے گئی24 September, 2006 | فن فنکار اک دِھی پنجاب دی31 October, 2005 | انڈیا پنجابیوں نے اپنی نئی نسل کو کیا دیا؟25 August, 2005 | قلم اور کالم ائرپورٹس ٹھیکے نجی کمپنیوں کو 01 February, 2006 | انڈیا 100 پاکستانی کمپنیاں امرتسر میں06 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||