پنجابیوں نے اپنی نئی نسل کو کیا دیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فنون لطیفہ میں گہری دلچسپی رکھنے والے ایک پاکستانی امریکی نوجوان کا کہنا ہے کہ جس طرح امریکہ میں نئے گانے اور ناچ کی بنیاد نیویارک کی ہارلم جیسی غریب بستیوں میں کالے امریکیوں نے ڈالی اسی طرح برطانیہ میں یہ کام برصغیر پاک و ہند کی نئی نسلیں کر رہی ہیں۔ اس بارے میں ان کی توجیح یہ ہے کہ جس طرح کالے امریکہ میں معاشرے کی سب سے نچلی سیڑھی پر تھے اسی طرح برطانیہ میں ہمارے دیسی لوگ صدیوں سے انگریز کی غلامی کی وجہ سے دبے ہوئے تھے۔ یعنی امریکہ اور برطانیہ میں نیا ناچ اور گانا جبر اور استحصال کے تجربے سے پیدا ہوا ہے۔ اس نوجوان کی پیش گوئی تھی کہ نائن الیون کے بعد امریکہ میں پاکستانیوں کی جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اس کے تحت وہ بھی اب کالے امریکیوں کی طرح کے جبر و استحصال کا تجربہ کریں گے۔ اس نوجوان کا مشاہدہ قابل داد ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ برطانیہ میں برصغیر کے کون لوگ موسیقی اور ناچ کی نئی طرح (ریپ وغیرہ) کی تخلیق کر رہے ہیں اور کون لوگ خود کش حملے کر رہے ہیں؟ عام مشاہدہ ہے کہ بھنگڑے سے لے کر ریپ تک میں آگے بڑھنے والے نوجوانوں کا تعلق مشرقی پنجاب کی تارکین وطن کی کمیونٹی سے ہے۔
پاکستان اور پاکستانی پنجاب سے آنے والے تارکین وطن کی نئی نسلوں میں اس طرح کا تخلیقی رجحان بہت کم ہے۔ یہی سلسلہ امریکہ میں بھی ہے۔ امریکہ میں بھی بھنگڑے کی بہت سے ٹیمیں ہیں اور ان کے سالانہ مقابلے بھی ہوتے ہیں لیکن ان میں پاکستانی نژاد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن کی نئی نسلیں کسی نہ کسی عنوان سے مذہبی تنظیموں میں شامل ہے اور یا پھر پاکستانی سفارت خانے کی سیاسی ٹیم کا حصہ ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھنگڑے، ریپ اور موسیقی کی نئی اختراع غیر مسلمان پنجابیوں کی نئی نسل کے ہاتھوں ہی کیوں ہوئی جبکہ مسلمان پنجابیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے؟ کیا تارکین وطن پنجابیوں میں مسلمان صرف مذہب اور غیر مسلم پنجابی (بالخصوص سکھ) کلچر اور فنون لطیفہ کی طرف مائل ہیں؟ خود اس فرق کی بنیادی وجہ کیا ہے جبکہ تمام پنجابی ایک ہی مٹی سے بنے ہیں اور باوجود حالیہ تفریق مذہب کے مشترکہ ذاتوں (جاٹ، راجپوت، گجر وغیرہ) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک آدھ صدی پہلے ان کا مذہب بھی ایک ہی تھا۔ ان سوالوں کا کوئی سیدھا سادا جواب تو ہے نہیں کیونکہ اگر پاکستان اور برطانیہ میں جہادیوں کی زیادہ تعداد پاکستانی پنجابیوں کی ہے تو مشرقی پنجاب بھی خالصتان تحریک میں سکھ جہادیوں کا تجربہ کر چکا ہے۔ بیرون ملک سکھ گردواروں میں خالصتانی بمقابلہ غیر خالصتانی جدو جہد اب بھی جاری ہے۔
امریکہ اور کینیڈا میں اس مسئلے پر کہ کیا گردوارہ میں کرسیوں پر بیٹھ کر کھانا جائز ہے یا نہیں ہے بہت سے لوگ مارے جا چکے ہیں۔ لہذا یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ مذہبی جنون مسلمان پنجابیوں تک محدود ہے۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ سارے پنجاب میں مذہبی جنون کی ایک لہر کسی نہ کسی رنگ میں اٹھتی رہتی ہے۔ اس مشترکہ پنجابی خصوصیت کے باوجود یہ بھی درست ہے کہ غیر مسلم پنجابی کمیونٹی میں ثقافتی اور تہذیبی جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے جبکہ مسلمان پنجابی اس سلسلے میں کافی کورے ہیں۔ مسلمان اور سکھ تارکین وطن میں بنیادی فرق یہی ہے کہ سکھ اپنی مادری زبان اور اپنے کلچر پر فخر کرتے ہیں اور اپنی اگلی نسلوں کو اس سے روشناس رکھتے ہیں۔ اس کے الٹ پنجابی مسلمان پنجابیت سے نفرت کرتے ہیں، وہ اردو انگریزی تہذیب کی نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب اس میں ناکام ہوجاتے ہیں (کیونکہ غیر تہذیب کو اپنانا ناممکن عمل ہے) تو ان کا نہ کوئی کلچر ہوتا ہے اور نہ ثقافت۔ لہذا ان کی آخری پناگاہ مذہب ہوتا ہے جس میں وہ اپنی شناخت ڈھونڈتے ہیں۔ شاید دنیا میں پنجابی مسلمانوں کی طرح کسی ملک کے مسلمان بھی اتنی شدت سے اسلامی تشخص میں پناہ نہیں لیتے۔ وجہ؟ کیونکہ پنجابی مسلمان اپنا لسانی اور ثقافتی تشخص کھو چکے ہیں۔ برطانیہ کے خود کش حملہ آور ہوں یا ساہیوال اور فیصل آباد کے جہادی، مسئلہ یہی ہے کہ پرانی نسل نے اپنا تہذیبی تشخص اس طرح سے کھویا ہے کہ وہ نئی نسل کو علاوہ مذہبی ڈھانچے کے کچھ دے نہیں سکی۔ پچھلے ساٹھ سالوں میں جوان اور بوڑھی ہونے والی پنجابی مسلمان نسلوں کو نہ اپنے ادبی اور ثقافتی ورثے کا علم ہے اور نہ ہی مقامی روایات اور فنون سے کوئی شناسائی ہے۔ ریاست پاکستان نے انہیں اردو انگریزی کے ذریعے نام نہاد خواندگی کی ڈگری تو دے دی ہے لیکن ان کو اپنے ورثے سے کاٹ کر بے پیندے کا لوٹا بنا دیا ہے۔ چونکہ ان کی جڑیں دھرتی میں گڑی ہوئی نہیں ہیں اس لئے وہ صرف آسمان کی طرف ہی دیکھ سکتے ہیں۔ مشرقی پنجاب میں پنجابی سرکاری سطح پر پڑھائی گئی، سکولوں میں بھنگڑہ اور موسیقی کے استاد رکھ کر طلباء اور طالبات کو مختلف فنون کی تعلیم دی گئی۔ ان کو گرو گرنتھ صاحب بھی پڑھایا گیا لیکن ان کو اپنے تاریخی ورثے سے روشناس کروانا بھی تعلیم کا حصہ بنایا گیا۔اس کے الٹ پاکستان بلکہ پاکستانی پنجاب میں نہ تو مادری زبان کو کوئی حیثیت دی گئی اور نہ ہی نوجوانوں کو کسی فن سے روشناس کروایا گیا۔ ان کو صرف دینیات اور معاشرتی علوم میں مذہبی پراپیگنڈہ پڑھایا گیا۔ اس لیے پاکستان میں پیدا ہونے والی نسلوں کے پاس سوائے خیالی مسلمان تاریخ کے پراپیگنڈہ کے اور کچھ نہیں ہے ۔ لہذا ان کے نوجوان جہادی ہی بن سکتے ہیں۔ وہ نئے علوم و فنون تخلیق نہیں کر سکتے۔ اسی لیے عوامی موسیقی کے احیاء کی کوششیں محدود ہیں کیونکہ اس کے تخلیق کاروں کی بنیادیں کمزور ہیں۔ تارکین پنجابی مسلمان مذہبی ڈھانچوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں جانتے لہذا ان کی نئی نسل کے پھلنے پھولنے کے امکانات بھی محدود ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||