’منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ایک صبح جب ہم اسکول پہنچے توہمارے ہندو ٹیچر نے ہمیں بتایا کہ آج کلاس نہیں ہوگی۔ کل سے وہ ہمارے ٹیچر بھی نہیں رہيں گے۔ اب انہیں یہ ملک چھوڑ کر جانا پڑ رہا ہے۔ اب ہمارا ایک نیا ملک ہے پاکستان اور وہ ہندوستان چلے جائيں گے۔ پھر تھوڑی دیر میں اسمبلی کی گھنٹی بجی مگر کلاسیں نہیں ہوئيں اسکی جگہ مٹھائی تقسیم ہوئی اور ہم مٹھائی ملنے اور سب سے بڑی بات کہ چھٹی ہوجانے پرخوش خوش اپنے گھروں کو واپس لوٹے،‘ یہ بات سندھی ناٹک نویس اور صاحب طرز ادیب ممتاز مرزا نے اپنے بچپن کی یادداشت کے طور پر لکھی تھی۔ ’یوم آزادی، تقسیم یا سوراج۔‘ ہم میں سے بہت سے لوگ اور میڈیا اور سرکاریں اسے کچھ بھی نام دیں لیکن اس سادہ سی خلقِ خدا کا کیا کیجیے جو ان دنوں کو آج بھی ’او جدوں لٹ پئی سی‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔
یہ نعمت با برکات لاکھوں لوگوں کی قربانیوں کا نتیجہ تھی یا ’بقول شخصے‘ سن انیس سو تیس کے عشرے میں ایک شام لندن کے ایک گمنام پب میں اسکاچ وھسکی پر تین کم معروف شخصیات کی اس ملاقات کا نتیجہ جو اس بات پر غور کرنےکےلیے اکھٹے ہوئے تھے کہ برصغیر میں مسلمانوں کےلیے ایک علیحدہ اور آزاد مملکت کا قیام کیسے عمل میں لایا جائے۔ مجھے شک ہے کہ اس شام شہر یاراں کے اُس گمنام پب میں نوجوان بیریسٹر محمد علی جناح بھی موجود تھے۔ ’ آزادی گھوڑے پر چڑہ کر آئے یا گدھے پر اس کا خواب دیکھنا ہر انسان کا پیدائشی حق ہے۔‘ یہ بات پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں صرف ہاتھ کی دس انگلیوں پر گنے جاسکنے والے باضمیر ججوں میں سے ایک جسٹس محمد رستم خان االمعروف ایم آر کیانی نے انگریزوں کی حکومت میں اپنے سیشن جج ہونے کے دنوں میں انکی عدالت میں انکے سامنے لائے جانے والے ایک مقدمے کے فیصلے میں لکھی تھی۔
اس مقدمے میں گرفتار ایک نوجوان پر الزام تھا کہ اسے یہ کہتے سنا گیا کہ اس نے خواب میں دیکھا کہ آزادی گھوڑے پر چڑھ کر آرہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جسٹس کیانی نے اس نوجوان کو باعزت بری کردیا تھا۔ ’چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں فیض صاحب کا اسی ’صبح آزادی‘ پر ماتم بجا لیکن آخر میں یاروں نے تو انگریزی فوج کی وردی بھی پہن رکھی تھی اور ہندوستان میں انقلاب کی’الف لام میم‘ (اسٹالن لینن مارکس) پڑھنے والے کمیوسٹ پارٹی آف انڈیا کے مسلمان سرخوں نے تو اپنے علاقوں میں پاکستان کی حمایت بھی کر رکھی تھی۔ بیس لاکھ لوگ قتل ہوئے ، کوئی اس سے دگنے تگنے لوگوں کو جبرن نقل مکانی سے گزرجانا پڑا اور پچہتر ہزار عورتیں عصمت دری کا شکار ہوئيں۔ یہ درد نہرو اور جناح نہیں لیکن امرتا پریتم ہی سمجھ سکتی تھی۔ برطانوی حکومت کیخلاف بغاوت کے الزام میں انڈونیشیا کے جزیروں پر قید رہنے والے پیر پگاڑو کے حُر فقیر عبدالحمید مہر نےمجھے بتایا تھا کا جس ملک کی آزادی کےلئے وہ لڑے تھے اب اس پر تو تمام ’ٹیکہ‘ ان لوگوں کا چلتا ہے جو انگریزوں کے پٹھو تھے۔ میں نے انگریزی کا لفظ ’ٹیررسٹ‘ سب سے پہلے ایچ ٹی لیمبرک کی کتاب ’دی ٹیررسٹ‘ پر دیکھا جواس نے ایک حر سائيں رکھیو بیہن پرلکھی ہے۔ ایچ ٹی لیمبرک سندھ میں برصغیر کے پہلےمارشل لا کا ایڈمنسٹریٹر تھا۔ میں حر بغاوت کی بیلٹ سانگھڑ ، میرپور خاص اور خیرپور میرس کے علاقوں میں حر مارشل لاء کےمتاثر بہت سے مرد اور عورت کرداروں سے مل چکا ہوں۔ اگر برطانوی فوجوں اور پولیس کے ہاتھوں حر عورتوں؛ مردوں اور بچوں کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کا ریکارڈ قلم بند کریں تو اس وقت کی برطانوی سرکار کا ریاستی دہشتگردی میں کوئی ثانی نہیں ملے گا۔ حروں کی پوری کی پوری ایک نسل کانٹے دار حصار میں پیدا ہوئی ہے اور ان ھزاروں حروں کو جسمانی آزادی انیس سو پچاس کے عشرے میں نصیب ہوئی۔ اگر برطانیہ مشرقی پنجاب میں جلیانوالہ باغ کے سانحے پر معافی مانگ سکتا ھے تو سندھ میں حروں کے ساتھ زیادتیوں پر کیوں نہیں۔ یہاں صرف ’منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے‘ والی بات نہیں پر ’رہزنوں کے رھبر‘ بن جانے والی بات واقع ہوئی۔ جی ایم سید جو تحریک پاکستان کے سب سے بڑے چیمپیینوں میں سے ایک تھے وہی اسکے غدار کہلائے اور تمام عمر تو نظربند رہے- اس کےلیے ہمیں جمہوریت کی ایک بڑی چیمپین بینظیر بھٹو کو داد دینی چاہیے جن کی حکومت میں قیدی بیمار اور بوڑھے سید سرکاری تحویل میں چل بسے۔ وہ سید جو جناح پر قاتلانہ حملے کی خبر پر دھاڑیں مارکر روئے تھے۔ انہوں نے برطانوي سرکار کے ہاتھوں پھانسی پانے والے پیر پگاڑو سینئر کےساتھ ہونیوالی اپنی گفتگو اپنی یادداشتوں میں اسطرح رقم کی ہے جب وہ انہیں مسلم لیگ میں شامل ہونیکی دعوت دینے گئے تھے: جی ایم سید: آپ مسلم لیگ میں شامل کیوں نہیں ہو جاتے؟ اور پاکستان بننے کے بعد سے ایک سال سے بھی کم عرصےمیں جون اڑتالیس کو جی ایم سید کو نظربند کردیا گیا۔ بقول شخصےاگر چہ سندھ میں محمد علی جناح کوئی مقدمہ جیت نہیں سکے لیکن برطانیہ سے انہوں نے ایک تیز وکیل کی طرح پاکستان کا مقدمہ لڑ کر جیتا- میں وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ آخر میں ’میری جیب میں کھوٹے سکے تھے،‘ یا ’میں اور میرے ٹائپ رائٹر نے پاکستان بنایا‘ جیسے تاریخی فقرے کہنے والے جناح کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کوئی اور تھی یا ان کی یہ تخلیق جو ہم میں سے بہت سوں کو اسکول میں ہمیشہ چھٹی کی بجتی ہوئی گھنٹی اور وہاں بٹتی مٹھائی کی طرح ملی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||