’دِل اپنا پنجابی‘ بازی لے گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’دِل اپنا پنجابی‘ کو برطانیہ میں ڈِسٹری بیوٹر باکس آفس پر اب تک کی سب سے کامیاب پنجابی فِلم قرار دے رہے ہیں۔ برطانیہ میں ڈسٹریبیوٹر پرناب مکھرجی اور شبیر احمد نے بتایا کہ پہلے تین ہفتوں میں ’دِل اپنا پنجابی‘ نے باکس آفس پر زبردست کاروبار کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ وہ دو لاکھ پاؤنڈ کا ہدف حاصل کر لے گی۔ شبیر احمد نے بتایا کہ ’دِل اپنا پنجابی‘ نے کینیڈا اور ہندوستان میں بہت کامیاب بزنس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف نو یا دس پرنٹ کے ساتھ کسی فِلم کا اتنا بزنس کرنا بڑی کامیابی ہے۔ فِلم کے ہدایتکار اور لکھاری منموہن سنگھ ہیں اور ہیرو اور ہیروئن کا کردار ہربھجن سنگھ اور نیرو باجوہ نے ادا کیا ہے۔ گرپریت گھوگی نے مزاحیہ اداکاری کے زبردست جوہر دکھائے ہیں۔ ’دِل اپنا پنجابی‘ ایک لحاظ سے ایک روایتی جنوبی ایشیائی فِلم ہے جو فیملی ڈرامہ ہے اور ایک لڑکے لڑکی کے پیار کے گرد گھومتی ہے لیکن جو چیز اسے اکثر ہندی، اردو اور پنجابی فلموں سے ممتاز کرتی ہے وہ اس فِلم میں تناؤ کی عدم موجودگی ہے۔
فِلم کے سیٹ اور کرداروں کا بناؤ سنگھار حقیقت کے بہت قریب تھے۔ ہیروئن کو کھیتوں میں ناچنا گانا نہیں پڑا۔ پوری فِلم میں یا وہ کالج میں موجود ہے یا ہیرو سے موبائل پر بات کر رہی ہے۔ ایک گانے میں اس کی تین یا چار منٹ کی حاضری دکھائی گئی ہے اور ایک بار خواب میں اسے ہیرو کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
فِلم میں کوئی موڑ نہیں۔ کہانی بالکل سیدھی چلتی ہے۔ جاگیرداروں کی حویلی میں ایک دادا ہیں جن کے بیٹوں یا پوتوں میں جائداد کا جھگڑا نہیں ہوتا، ایک پوتے کو ایک پروفیسر کی لڑکی سے پیار ہوتا ہے جو رشتے پر بھی راضی ہوتا ہے لیکن لڑکے کا اپنا باپ ہی انہیں بتاتا ہے کہ ان کا بیٹا تو نکما ہے اور رشتہ نہیں ہو سکتا۔ اس پر باپ بیٹے میں ناراضی پیدا نہیں ہوتی بلکہ بیٹا اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا عزم لیئے گھر سے چلا جاتا ہے اور جاتے ہوئے باپ سے آشیرباد لیتا ہے۔ ہیرو ایک اچھا گلوکار ہے اور یہی صلاحیت اس کے کام آتی ہے۔ گھر سے نکل کر بے یارو مددگار ہیرو ایک پروموٹر سے ملتا ہے جسے وہ ایک بار پہلے اپنے گھر سے بے عزت کر کے نکال چکا ہوتا ۔ پرومووٹر اس بات کو بھولا نہیں ہوتا لیکن وہ اس بات کو دِل سے نہیں لگاتا اور اسے بڑے سٹائل سے ایک دستاویز پر دستخط کے لیئے کہتا ہے۔ آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہیرو کی کامیابی کے بعد پروموٹر اسی دستاویز کی بنیاد پر اس کا استحصال کرے گا لیکن وہ دونوں کامیابی سے مِل کر کام کرتے ہیں اور کہانی بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ہیرو جب برطانیہ سے کامیاب ہو کر وطن واپس پہنچتا ہے تو ہیروئن کی منگنی کی تقریب ہو رہی ہوتی لیکن اس کا منگیتر صورتحال کو بھانپتے ہوئے اپنی انگوٹھی یہ کہہ کر ہیرو کو دے دیتا ہے کہ وہ شادی کرنے آیا تھا کسی کا دِل توڑنے نہیں۔ منگیتر کا باپ ہیرو اور ہیروئن کو کامیاب ازدواجی زندگی کے لیئے آشیرباد دیتا ہے۔ فِلم دیکھنے کے لیئے آئے ہوئے امرجیت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہیں کامیڈی بہت پسند آئی۔ امرجیت سنگھ نے کہا کہ انہیں سب سے اچھی بات یہ لگی کہ فِلم میں کوئی ’ننگ دھڑنگ نہیں تھا اور کوئی شور شرابہ نہیں تھا‘۔ | اسی بارے میں فلمی صنعت کو سلطان راہی ثانی کی تلاش 10 January, 2004 | فن فنکار اجوکا کی جموں میں پذیرائی22 February, 2005 | فن فنکار میڈم کی یادیں قیمتی سرمایہ ہیں20 December, 2005 | فن فنکار میڈم نورجہاں کے کئی رنگ21 December, 2005 | فن فنکار فلم ’لڑکی پنجابن‘ متاثر نہ کر سکی26 November, 2003 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||