| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلم ’لڑکی پنجابن‘ متاثر نہ کر سکی
عید پر برطانیہ کے دس سے زائد سینما گھروں میں ریلیز ہونے والی فلم ’لڑکی پنجابن‘ فلم بینوں کو متاثر نہ کر سکی۔ عام خیال تھا کہ جاوید شیخ کی فلم ’یہ دل آپ کا ہوا‘ کے بعد ’لڑکی پنجابن‘ بھی انٹرنیشنل سرکٹ میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان فلمی صنعت کی بقا کے لئے نئی راہیں کھولے گی۔ لیکن عید کے روز برطانوی فلم سرکٹ میں ’لڑکی پنجابی‘ والے سینما گھروں میں ویرانی سے اس بات کا اندازہ ہوا بین الاقوامی مارکیٹ میں کامیابی کے لئے پاکستان فلمی صنعت کو ابھی مزید وقت درکار ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہریوں نے بھی امیتابھ اور ہیمامالینی کی فلم ’باغبان‘ دیکھنے کو ہی ترجیح دی ہو۔ فلم تیکنیکی لحاظ سے کسی طرح بھی بالی وڈ فلم سے کا مقابلہ کر سکتی ہے لیکن موضوع اور اس سے پیش کرنے کے طریقے میں لالی وڈ کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔ وہی بے سروپا کہانی، وہی بھرتی کے گانے اور بے تکی ایکٹنگ بلکہ اوور ایکٹنگ۔ سن انیس سو سینتالیس میں ہونے والے فسادات کے پس منظر میں بننے والی اس فلم کی کہانی اپنے خاندان سے بچھڑی ہوئی ایک سکھ لڑکی کے گرد گھومتی ہے جسے لاہور میں ایک مسلمان نے پناہ دی تھی۔ مسلمان خاندان کے حسن سلوک سے متاثر ہو کر سکھ لڑکی نے بعد میں اسلام قبول کر لیا اور اپنے میزبان سے شادی کر لی۔ پچاس سال گزرنے کے بعد اس کے دل میں یہ شدید خواہش پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے خاندان سے ملے جو مشرقی پنجاب کے دارالحکومت چندی گڑھ میں آباد ہے۔
وہ گزشتہ چھپن سال سے ننکانہ صاحب جاکر اپنی بہن کا معلوم کرتی ہے۔ جب اسے اپنے خاندان کے بارے میں پتا چلتا ہے تو وہ انہیں پاکستان آنے کی دعوت دینا چاہتی ہے لیکن اسے یہ بھی خدشہ ہے کہ جب اس کے خاندان کے افراد کو اس کے قبول اسلام کے بارے میں پتا چلے گا تو وہ اس سے منہ موڑ لیں گے۔ اس لئے وہ اپنی سگی بہن کی ایک بچھڑی ہوئی سہیلی بن کر اس سے رابطہ کرتی ہے اور اسے لاہور آنے کی دعوت دیتی ہے۔ جب سکھ خاندان ننکانہ صاحب کی یاترا کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کرتا ہے تو لاہور میں دونوں بہنوں کی ملاقات تو ہوتی ہے لیکن دو بچھڑی ہوئی سہیلیوں کے طور پر۔ اسی دوران تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور چندی گڑھ سے آئے ہوئے سکھ خاندان کی بیٹی پریتم کو میزبان مسلمان خاندان سے تعلق رکھنے والے شامل خان سے پیار ہو جاتا ہے۔ سکھ خاندان کی چندی گڑھ واپسی کے بعد بھی پریتم اور شامل خان کا ایک دوسرے سے رابطہ برقرار رہتا ہے اور پیار کا بندھن اور مضبوط ہوتا ہے۔ پریتم اور شامل کا خاندان انہیں ملائشیا بھیج دیتا ہے لیکن دونوں کی ملاقات صرف اس وقت ہوتی ہے جب چند دن بعد ہی پریتم کی اپنے منگیتر سے شادی ہونا ہوتی ہے۔ لیکن یہ باسی خوراک چاہے کتنی ہی اعلیٰ طشتریوں میں سجا کر پیش کی جائے کھانے والوں کو متاثر نہیں کر سکتی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||