BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 February, 2007, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: ’مسلم پرسنل لا‘ بل منظور

کشمیری مسلمان
نئے شریعت قانون میں باپ کی جائیداد میں لڑکی کا حق متعین کیا گیا ہے
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی اسمبلی نے ایک ایسے بل کو منظوری دی ہے جس کے تحت مسلمانون کے سول معاملات کے لیے رواجی قوانین کی جگہ ایک نیا ’مسلم پرسنل لا‘ نافذ کیا جائے گا۔ ’شریعت قانون‘ نام کا یہ بل ریاستی گورنر کی منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔

جموں و کشمیر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے سول معاملات گزشتہ ایک صدی سے ’جموں و کشمیر لاز کنسولوڈیشن ایکٹ‘ کے تحت طے کیے جاتے تھے۔ اس میں کہا گیا تھا کہ وراثت، شادی، طلاق، گود لینے، گھریلو تعلقات اور وصیت جیسے معاملوں میں پرسنل لا پر مقامی رواجوں کو ترجیح دی جائے گی۔

نئے شریعت قانون میں باپ کی جائیداد میں لڑکی کا حق متعین کیا گیا ہے جب کہ کشمیر کے بیشتر دیہی علاقوں میں مسلم روایت کے مطابق لڑکی شادی کے بعد اس حق سے محروم ہو جاتی تھی۔

صرف انہیں معاملات میں اس کو اپنا حق مل پاتا تھا جب شادی کے بعد لڑکا اپنے گھر کے بجائے لڑکی کے گھر پر رہنے لگے۔

ایک صدی سے رائج طریقہ
 جموں و کشمیر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے سول معاملات گزشتہ ایک صدی سے ’جموں و کشمیر لاز کنسولوڈیشن ایکٹ‘ کے تحت طے کیے جاتے تھے

ہندوؤں کےمعاملات 1956 کے ہندو وراثت قانون کے تحت آتے ہیں۔ 1937 میں منظور کیے گئے ’انڈین شریعت ایکٹ‘ کے تحت مسلم پرسنل لا کا اطلاق پورے ہندوستان کے مسلمانوں پر ہوتا ہے لیکن چونکہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی اس لیے اس کا اطلاق یہاں نہیں ہوا۔

تین برس قبل جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ وراثت کے معاملے میں صرف پرسنل لا کا اطلاق ہوگا۔ اس نے مزید کہا تھا کہ رواجوں کا استعمال صرف اسی صورت میں ہونا چاہیے جب دونوں فریق اس پر راضی ہوں۔

عدالت کا کہنا تھا ’ریاست میں مروجہ روایتی قوانین سے پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں اور اکثر معاملات قانونی بھنور میں پھنستے چلے گئے ہیں‘۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’رواجوں کا کوئی مستند ریکارڈ بھی نہیں ہے‘۔

شریعت بل کا مقصد انہیں نقائص اور پیچیدگیوں کو ختم کرنا ہے۔ اس بل کو ریاستی اسمبلی میں حزب اختلاف نیشنل کانفرنس کے رہنما عبدالرحیم راتھر نے پیش کیا تھا۔ اس بل کے مقاصد اور اسباب کے بارے میں کہا گیا ہے ’اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جن میں ایک ہی خاندان نے یکساں صورتحال میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے کبھی رواجی تو کبھی پرسنل لا کا استعمال کیا ہے۔ اس کے سبب غریب عوام نہ صرف غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہوئے ہیں بلکہ اس سے بدعنوانی کو بھی ہوا ملی ہے‘۔

کبھی روایتی تو کبھی پرسنل لا
 ’اس طرح کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جن میں ایک ہی خاندان نے یکساں صورتحال میں اپنے مفادات کے حصول کے لیے کبھی رواجی تو کبھی پرسنل لا کا استعمال کیا

مسٹر راتھر کا کہنا ہے کہ یہی نہیں ’بعض روایات واضح طور پر لڑکیوں کے ساتھ تفریق برتتی ہیں اور بعض تو بنیادی حقوق کے خلاف ہیں‘۔

یہ بل اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں منظور کیے جانے سے قبل تقریباً دو برس تک ایوان کی سلیکٹ کمیٹی کے پاس رہا ہے۔ اب اسے قانون کی شکل دینے کے لیے گورنر کے پاس بھیجا جا رہا ہے۔

معیشت اور مسلمان
ترقی کے عمل میں انڈین مسلم پیچھے رہ گئے
ہندوستان کے نئے دلت
مسلمان تعلیم، تجارت اور ملازمت میں پیچھے
مسلمانوں کے مسائل
مولوی با اثر یا جدید طبقہ
مسلم ہی کیوں نشانہ
مسلمان 'گھیٹوز' میں رہنے پر مجبور ہیں؟
نائن الیون اور مسلمان
9/11 کے بعد مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ
بھارتی مسلمانمسلمان پر انگلی
ہندوستانی مسلمان کی حب الوطنی پر شکوک
اسی بارے میں
سب کشمیری مشکوک؟
14 January, 2007 | انڈیا
کشمیری ذہنی تناؤ کا شکار
27 December, 2006 | انڈیا
کشمیریوں کا ملاجل ردعمل
05 December, 2006 | انڈیا
لاپتہ کشمیری۔۔۔
28 October, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد