سب کشمیری مشکوک؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’یہاں تو ہماری زندگی پہلے ہی جہنم تھی، سوچا تھا ہمارے بچے ہندوستانی شہروں میں اپنی زندگی سنواریں گے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ بد نصیبی ان کا پیچھا کرتے کرتے وہاں بھی پہنچ گئی ہے‘۔ یہ الفاظ ہیں پرانے سرینگر میں رہنے والے شمس الدین کے جِن کے پینتیس سالہ بیٹے بلال احمد کاٹا کو جنوبی ہندوستان کی ریاست کرناٹک کے داراالحکومت بنگلور میں مقامی پولیس نے ’دہشت گرد‘ ہونے کے الزام میں تین کشمیری تاجروں کے ہمراہ گرفتار کیا ہے۔ شمس الدین کا کہنا ہے کہ بلال گزشتہ سولہ برس سے بنگلور میں تجارت کر رہا ہے اور آج تک کسی قسم کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔ شمس الدین کے پاس مقامی روزنامہ دکن ہیرالڈ کی ایک رپورٹ بھی ہے جس میں بلال کو بہترین ہمسایہ بتایا گیا ہے۔ تاہم پولیس کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ وہ ایک ’دہشت گرد تھا اور اس کی گرفتاری سے مقامی ایئرپورٹ پر حملہ کی سازش بے نقاب ہوگئی‘۔ گزشتہ چند ماہ میں بیرون ریاست تعلیم اور تجارت کے سلسلے میں مقیم کشمیری نوجوانوں کے پولیس اور فوج کے ہاتھوں ’ہراساں‘ ہونے کے متعدد واقعات ہوئے ہیں۔ گزشتہ ماہ شمالی قصبہ سوپور کے پرویز احمد رڈو نامی ایک طالب علم کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح گزشتہ روز بھارتی ریاست اترآنچل میں پی ایچ ڈی کے طالب علم شفقت احمد کو ٹرین پر سفر کے دوران ’غلطی سے فوجیوں کے ڈبے میں گھسنے پر حراست میں لے کر ان پر تشدد کیا گیا‘۔ نئی دلّی پہچنے پر انہوں نے ٹی وی چینل ’آج تک‘ سے رجوع کیا اور اپنی کہانی کیمرے پر بیان کی۔
اس سے قبل سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور مفتی محمد سعید نے بھی حکومتِ ہند سے اس معاملے میں باضابطہ رجوع کیا تھا۔ گزشتہ دنوں دِلّی پولیس نے بنگلہ دیش میں تجارت اور ماڈلنگ کرنے والے طارق احمد ڈار کو ’دہشت گردی‘ کی پاداش میں گرفتار کیا۔
حکومت ہند کی کابینہ میں واحد کشمیری وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے اس حوالے سے بی بی بی کو بتایا کہ ’ کشمیریوں کی پکڑ دھکڑ کے حوالے سے حکومت ہند کی کوئی پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ رابطے کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے‘۔ مسٹر سوز نے جو ایک روزہ دورے پر وادی آئے تھے یقین دلایا کہ وہ وزیر اعظم سے اس بارے میں بات کرینگے۔ بلال کی بیوی جواہرہ بیگم نے روتے ہوئے بتایا کہ ’ہماری تو پوری قوم مشکوک بن گئی ہے۔ کوئی شدت پسند ہو یا نہ ہو، اگر کشمیری ہے تو ہندوستان میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں‘۔ کشمیر یونیورسٹی کے پروفیسر ارشاد نے بتایا کہ ’ایک طرف حکومتِ ہند اقلیتی فرقے کا دل جیتنے کے لیے مسلمانوں کی معاشی حالت سدھارنے کا منصوبہ بناتی ہے اور دوسری طرف کشمیریوں کو ہر ہندوستانی شہر میں دہشت گرد کہہ کر قید کیا جاتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا لیکن بلال، طارق، ارشاد لون، شفقت کی گرفتاری قانونی معیار پر پوری نہیں اترتی۔ بلال کو اٹھائیس دسمبر کو گرفتار کیا گیا اور یہ خبر میڈیا میں گیارہ جنوری کو شائع ہوئی۔ارشاد کا کہنا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے سربراہان بھلے ہی چوٹی ملاقاتیں کرتے رہیں، ایسے واقعات عوام کو امن عمل سے متنفر کرتے ہیں۔ | اسی بارے میں لاپتہ کشمیری۔۔۔28 October, 2006 | انڈیا ’کشمیری قیدیوں پر تشدد ہوتا ہے‘25 May, 2006 | انڈیا کشمیری ذہنی تناؤ کا شکار27 December, 2006 | انڈیا بنگلور: کشمیری شدت پسند گرفتار05 January, 2007 | انڈیا کشمیریوں کا ملاجل ردعمل 05 December, 2006 | انڈیا کشمیری خواتین کا کردار بدل رہا ہے25 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||