BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 December, 2006, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیری ذہنی تناؤ کا شکار

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں آبادی کا دس فیصد حصہ قریبی عزیز کھو چکا ہے۔
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ذہنی تناؤ میں مبتلا ہوگئی ہے۔

یہ انکشاف انسانی بحالیات کے لیے دنیا کے مختلف ممالک میں سرگرم ’ ڈاکٹر بغیر سرحد‘ نامی ایک این جی او نے اپنی تازہ سروے میں کیا ہے۔

کشمیر کے دو اضلاع ، بڈگام اور کپواڑہ میں کئے گئے اس ماڈل سروے کے مطابق آبادی کا دس فی صد حصہ اپنے کنبے کے قریبی فرد کو تشدد میں کھو بیٹھا ہے جبکہ تینتیس فی صد تعداد ان لوگوں کی ہے جن کا قریبی رشتہ دار تشدد میں ہلاک ہوگیا ہے جبکہ بیس فی صد سے زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں خوف کی وجہ سے جبری ہجرت کرنا پڑی ہے۔

تنظیم کے رضاکاروں نےدونوں اضلاع کے تیس دیہات میں پانچ سو سولہ (516) شہریوں کو مجموی آبادی کا نمونہ خیال کر کے ان سے سوالات پوچھے۔

سروے کے ساتھ وابستہ عمران مفتی نے بی بی سی کو بتایا کہ ننانوے فی صد لوگ کریک ڈاؤن، محاصروں، جامہ تلاشیوں اور پوچھ گچھ کی وجہ سے خوف کی ایسی کیفیت سے دوچار ہوگئے ہیں جسکا وہ اظہار بھی نہیں کر سکتے۔

سروے کے مطابق تیرہ فیصد لوگوں نے بچشم خود عصمت ریزی کے واقعات دیکھے ہیں، جسکا ان کے اعصاب پر گہرا اثر پڑا ہے۔

سروے میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیاگیا ہے کہ ایک تہائی لوگوں میں خودکشی کے رحجانات پائے جاتے ہیں اور پچاس فی صد سے زائد لوگ انتہا درجہ تک مایوسی اور محرومی کے جذبات سے بوجھل ہیں۔

کشمیر میں ہر دسواں شخص قریبی عزیز تشدد میں کھو چکا ہے

سرینگر کے صدر ہسپتال میں نفسیاتی امراض کے شعبے کے انچارج ڈاکٹر ارشد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’شبانہ دستکوں‘ کی وجہ سے ایسے مریض اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ ٹھیک ہونے پر گھر جانے کی بجائے ہسپتال میں ہی قیام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران پانچ سو دس مریضوں کی تشخیص سے پتہ چلا ہے کہ ان میں ایک تہائی نے زندگی کے کسی موڑ پر خود کشی کا ارادہ کیا تھا۔

ڈاکٹر ارشد نے مزید کہا کہ ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے پاس قلیل وسائل ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ درویش نما جعل سازوں کے جال میں پھنستے ہیں جو انہیں جھاڑ پھونک کے عوض لوٹتے ہیں۔

ڈاکٹر ارشد کے مطابق پچھلے دس سال کے دوران غنودگی لانے والی ادویات کی فروخت میں اضافہ کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ذہنی دباؤ کے شکار لوگ ان ادویات کا استعمال کرنے لگے ہیں۔

ذہنی امراض کے لیے مخصوص ہسپتال کے سینئر معالج ڈاکٹر مشتاق مرغوب کا کہنا کہ تشدد بھڑکنے سے قبل ہسپتال کے او پی ڈی میں ہر سال تیرہ سو امراض رجسٹر ہوتے تھے لیکن آج یہ تعداد ستّر ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

ڈاکٹر مرغوب کہتے ہیں کہ صورتحال کا سنگین پہلو یہ ہے کہ ایسے مریضوں کی تعداد میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر مرغوب کہتے ہیں کہ اپنے خاوند یا والد یا کسی کفیل کی ہلاکت کے بعد خواتین پر اپنے عیال کی دوہری ذمہ داری کا بوجھ پڑتا ہے جس کے نتیجے میں وہ پہلے تو عدم تحفظ اور بعد ازاں ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتی ہے۔

کشمیری مائیں
شوہر کی ہلاکت کے بعد کشمیری ماؤں کے مسائل میں اضافہ ہو گیا

وہ مزید کہتے ہیں، ’ایسا لگتا ہے کہ پوری ایک نسل خوف کے سائے میں پروان چڑھ رہی ہے۔

’شمالی قصبہ پٹن کی رہنے والی ممتاز فی الوقت اپنے پانچ بچوں کی واحد کفیل ہے اور سسرال والوں نے اسے میکے جانے پر مجبور کر دیا ہے جہاں وہ ایک کمرے میں گزارہ کررہی ہے۔ اس کا خاوند ایک تربیت یافتہ شدت پسند تھا جسے چند سال قبل سرکار نواز بندوق برداروں نے قتل کیا تھا۔

مجموعی طور ممتاز ایک نارمل خاتون کی طرح برتاؤ کرتی ہیں لیکن خاوند کے بارے میں پوچھنے پر وہ پہلے تو کچھ دیر سکتے میں آجاتی ہیں اور بعد میں روتے روتے اس کی ہلاکت کی روداد بیان کرنے لگتی ہیں۔

معروف سماجی کارکن ظریف احمد ظریف کا کہنا ہے کہ جب تک لوگوں کے دلوں سے خوف ختم نہیں کیا جاتا، ری کنسٹرکشن اور تعمیرو ترقی کے کتنے ہی فارمولے وضع کیے جائیں کچھ نہیں ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ہر شہری اپنی جان اور اپنے مالی مفاد کی حفاظت میں زندگی گزار دیتا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’اگر تشدد ختم ہوجائے اور یہاں سے فوج نکل جائے تو کچھ ہوسکتا ہے۔انتہا درجہ کی فوج کشی اور تشدد کے رہتے عوام سے سماجی ترقی میں ساجھے داری کی امید کرنا فضول ہے۔‘

اسی بارے میں
کشمیر فارمولوں کی دوڑ
16 November, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد