کشمیر میں سینتیس ہزار معذور بچے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں جب مقامی حکومت انڈیا میں منائے جارہے یوم اطفال کے حوالے سے تقریبات کی تیاری میں مصروف تھی تو عدالت عالیہ میں یہ انکشاف ہوا کہ کشمیر میں سینتیس ہزار معذور بچوں کے لیے تعلیم وتربیت کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ عدالت نے حکومت کو اس سلسلے میں فوری اقدامات کی ہدایت دی ہے۔ مقامی ہائی کورٹ میں مفادعامہ کی ایک عرضداشت پر سماعت کے دوران حکومت نے عدالت کے سامنےیہ اعتراف کیا کہ ریاست میں سینتیس ہزار ناخیز بچے ہیں، جن کی تعلیم یا بحالی کے لئے کوئی سکول موجود نہیں ہے۔ عدالت میں حکومت کی طرف سے پیش کئےگئے اعداد وشمار کے مطابق چھ سے چودہ سال کے درمیان کی عُمر والے ان بچوں میں چار ہزار نابینا اور تین ہزار قوّت سماعت سے محروم ہیں۔ عدالت کی ڈویژن بینچ نے عرضداشت میں اس بات کا سنجیدہ نوٹس لیا ہے کہ معذور افراد کے لئے مخصوص اسکیموں سے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔ عدالت نے حکومت ہند کی وزارت برائے سماجی انصاف کو بھی ہدایت دی کہ وہ ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تمام تجاویز بلا تاخیر منظور کرے۔ رابطہ کرنے پر محکمہ سماجی بہبود کے ڈاکٹر اصغر حُسین سامون نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسے بچوں کی بحالی اور خصوصی سکولوں اور تربیت گاہوں کی تعمیر کے لئے محمکہ تعلیم کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ حکمت عملی طےکی جارہی ہے۔ ڈاکٹر سامون کا کہنا ہے کہ 'محکمہ تعلیم کے پاس مرکزی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں سرمایہ آتا ہے اور ہم انہیں پروجیکٹ کی عمل آوری میں تعاون دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پیدائشی طور پر معذور بیشتر بچے دور دراز علاقوں کے غریب گھروں کے ہوتے ہیں اور بچوں کی بڑی تعداد شورش کے نتیجے میں معذور ہوئی ہے۔ معذور افراد کے حقوق کے لئے سرگرم غلام محمد لون کا کہنا ہے کہ سترہ سالہ شورش کے دوران ہزاروں بچے یا تو ہلاک ہوگئے یا پھر زندگی بھر کے لئے اپاہج ہوگئے۔ لون کا کہنا ہے کہ، 'کشمیر کے بچوں کو جنگی صورتحال کا سامنا ہے اور حکومت پچھلے دس سال سے ابھی تک بازآبادکاری کا منصوبہ بھی نہیں بنا سکی ہے۔' | اسی بارے میں کشمیر: ’آزاد یا مقبوضہ؟‘ 22 September, 2006 | قلم اور کالم عورت کی اپنی کوئی شناخت نہیں09 April, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||