عورت کی اپنی کوئی شناخت نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دوسرے متاثرہ علاقوں کی طرح مظفرآباد میں بھی آٹھ اکتوبر کے زلزلے کے متاثرین کی بحالی مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ زلزلے نے یوں تو زندگی کے ہر پہلو کو بری طرح متاثر کیا۔ مگر اس نے عورتوں اور بچیوں پر خصوصاً گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ یوں کہ زلزلے سے ہزاروں عورتیں بیوہ اور لڑکیاں بلکل بے سہارا ہوگئیں۔ کسی کا شوہر کسی کا والد کسی کے بھائی تو بہت سوں کے خاندانی کفیل زلزے کی نذر ہوگئے۔ یا معذور ہو کراب روزگار کمانے کے قابل نہیں رہے۔ زلزلے کی ہولناکیوں کے پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو اس کے دوران بے سہارا ہونے والی عورتوں کے کوئی مکمل اعداد شمار تو دستیاب نہیں مگر مظفرآباد میں قائم ساٹھ بستیوں میں کام کرنے والی کچھ رضا کار خواتین جو مختلف کیمپوں میں جاتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً ہر خیمہ بستی میں پانچ سے پندرہ تک بیوائیں اور لاتعداد یتیم لڑکیاں ہیں۔
شائد یہ ہی وجہ تھی کہ مظفرآباد اور بالا کوٹ کی مختلف خیمہ بستیوں میں کئی خواتین سے ملتے ہوئے مجھے ان کی گفتگو میں مایوسی اور احساس عدم تحفظ کی بازگشت سنائی دیتی رہی۔ مظفرآباد کی ایک تحصیل پنچ کوٹ کی ایک بیوہ سکینہ کاظمی مستقبل کے بارے میں انتہائی فکرمند تھیں۔ "میں عورت ذات ہوں میں کیا کرسکتی ہوں۔ بس والدہ کے پاس ہی رہونگی۔ یا شائد مجھے بھائیوں کے ساتھ ر ہنا پڑے۔ مگر ان کے تو اپنے بچے ہیں۔ وہ دو خاندانوں کو کیسے سنبھالیں گے۔ بس سوچتی رہتی ہوں میرا اور میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ مگر کچھ سمجھ میں نہیں آتا"۔ صرف یہ ہی نہیں کئی خیمہ بستیوں میں درجنوں عورتیں مستقبل کے اندیشوں میں مبتلا نظر آئیں۔
کئی عورتوں نے یہ سمجھ کر کہ شائد میرا تعلق کسی امدادی ادارے سے ہے۔ بہت راز دارانہ انداز میں مجھے الگ لیجا کر کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ امداد ہمیشہ جاری تو نہیں رہسکتی۔ آپ ہمارے لیے زکواۃ وغیرہ کا بندوبست کروا ئیں۔ تاکہ ہمارے لیے آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ بن سکے۔ کئ تعلیم یافتہ اور ہنر مند اور خصوصاً نوجوان تعلیم یافتہ لڑکیاں معاشی خود انحصاری چاہتی ہیں۔ ایسی کچھ لڑکیوں کا کہنا تھا کہ " ٹھیک ہے زلزلے کے دوران ہماری مدد کی گئ ۔ ہم اس پر شکر گزار بھی ہیں۔ مگر آخر کب تک ہم دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں گے ۔ ہمیں ہمارے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل بنایا جائے۔ "
خمیہ بستیوں میں سینکڑوں لڑکیاں ایسی بھی ہیں۔ جو زلزلے سے پہلے سکولوں میں ملازم تھیں۔ مگر سلسلہء تعلیم پوری طرح دوبارہ شروع نہ ہونے کے باعث اب بیروزگار ہیں۔ مظفراآباد میں اقوام متحدہ کی ادارے برائے شیلٹر میں افسرِ رابطہ صفیہ بانو مظفرآباد میں بارہ برس سے خواتین کی ترقی منسلک ہیں۔ اُنھوں نے سماجی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ادارے کو درپیش مشکلات کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ زلزلے کے بعد متاثرین کا اندراج کرتے وقت ایک بڑے مسلےء کا سامنا رہا ۔ اور وہ یہ کہ امداد کی فہرست میں اندراج کے لیے بیوہ یا بے سہارا عورت کے نام کے بجائے یا اس کے باپ کا نام بتایا جاتا ہے۔ یا دیور، جیٹھ ، سسر یا خاندان کے کسی اور مرد کا۔ لیکن خود عورت جو معذور یا بےسہارا ہوچکی ہے۔ اُس کے معاشی حق کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔
صفیہ بانو کا مشاہدہ تھا کہ سماجی سطح پر عورت کو اس کے رشتوں کی نسبت سے پہچانا جا تا ہے۔ ایک انسان کے طور پر اس کی اپنی کوئئ شناخت نہیں۔ عورت محض بیٹی ہے یا بیوی اور یا کسی کی ماں۔ یہ یقیناً زندگی کے انتہائی اہم اور خوبصورت رشتے ہیں۔ مگر زلزلے کے دوران بہت سی عورتیں اپنے کئی رشتوں سے محروم ہو گیئں۔ پھر سروں سے گھر کی چھت اٹھ گئی اور چار دیواری چھن گئی۔ تو وہ عورت جسے بچپن سے یہ سمجھایا جاتا ہے کہ اُس کے لیے گھر اور رشتے ہی اُس کی کل کائنات ہے۔ اب اُن کی عدم موجودگی میں ایک نفسیاتی کیفیت میں مبتلا ہوکر خود کو انتہائی غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔ صفیہ بانو کی رائے میں عورتوں اور یتیم لڑکیوں میں خود اعتمادی اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی کا احساس کم کرنے کے لیے عورتوں کو پیداواری سرگرمیوں میں شریک کیا جائے۔ تاکہ انھیں یہ احساس ہو کہ وہ فعال شہری کی حثیت سے اپنے علاقے کی بحالی میں کوئی کردار ادا کرسکتی ہیں۔
یہ اُسی صورت میں ممکن ہوسکے گا۔ جب تعمیر نو کی سرگرمیوں میں خواتین کو فیصلے سازی میں شریک کیا جائے۔ مگر اس کے لیے سماجی اور ذہنی رویوں میں تبدیلی کے لیے مہینے نہیں برسوں درکار ہیں۔ میں نے زلزلے سے متاثرہ علاقے میں متاثرہ نوجوان بچیوں کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے دیکھا ہے۔ ان حالات میں خصوصاً بے سہارا عورتوں اور بچیوں کے سماجی اور جنسی استحصال کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ جن سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ایک ڈھانچہ تیار کرنے اور پالیسی وضع کرنے میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیموں کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایسے میں جب اس خطے میں تعمیر نوکا عمل شروع اور ایک نئےآغاز کی ابتدا ہورہی ہے۔ جامع اور مستقل بنیادوں پر ترقی کے لیے لازمی ہوگا کہ سماجی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے زندگی کے ہر شبعے میں خواتین کی ایسی حوصلہ افزائی ہو۔ جس سے ان میں خود اعتمادی پیدا ہو اور وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||