مسلمانوں کی کمزور میڈیا پالیسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے لوگوں میں فرقہ پرستی کا احساس پرانا ہے۔ لیکن ہندوستان اور ديگر غیر ممالک میں کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جس نے فرقہ وارانہ سوچ میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اس طرح کی سوچ ہندوستان میں اب عام ہے اور ہندوستان کی حکومت نے کبھی اس مسئلے کے حل کے لئے کوئی باقاعدہ اقدامات بھی نہيں کئے ہیں۔ فرقہ پرستی کے خلاف جنگ کے نام پر وہ ' ہندو- مسلم بھائی بھائی' ' سب مذہب ایک ہیں‘ کے نعرے لگاتے رہتے ہیں لیکن یہ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہوتا ہے۔ حکومت کی اس ناکامی کی وجہ سے ہندو نظریاتی تنظیموں اور مسلم نظریاتی تنظیموں نے اپنے اپنے مفاد کے لۓ ہندو- مسلم خلیج کا استعمال کیا اور ہندو ستان کی سیکولر شبیہہ کو کبھی ابھرنے نہیں دیا۔ مسلم مخالف احساسات یا ' اسلامو فوبیا' کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن سنہ 2001 میں امریکہ میں ہونے والے بم حملے، کشمیر میں جاری شدت پسندی اور حالیہ ممبئی بم دھماکوں نے ہندوستان میں مسلمان اور ہندؤں کے درمیان مزید تلخی پیدا کی ہے۔ مسلمانوں اور اسلام پر یہاں تک الزام عائد کئے گئے ہیں کہ اسلام خود ' دہشت گردی' اور دوسرے مذہبوں کے خلاف نفرت کا سبق سکھاتاہے۔ اور کہیں نہ کہیں بعض غیر مسلم اس بات سے اتفاق بھی رکھتےہیں۔
اس طرح کے تاثرات غیر مسلمان کے ذہن میں گھر کر جاتے ہیں اور ہندو نظریاتی تنظیموں اور ان سے اتفاق رکھنے والا میڈیا بھی پورے عمل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔اور نو ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ کی 'دہشت گردی' کے خلاف جنگ نے ان تاثرات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حال میں ہونے والے ممبئی بم دھماکوں کے بعد مسلمانوں کو ' دہشت گرد' کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے۔ زیادہ تر دہشت گردانہ واقعات کے ذمہ دار افراد کا پتہ نہیں چلتا ہے لیکن شک کی سوئی خود بہ خود مسلمانوں کی طرف گھومتی ہے۔ اگر یہ بات صحیح ہے کہ ہندوستان اور ديگر ممالک میں دہشت گردانہ حملوں کے لۓ بعض مسلم گروپس ذمہ دار ہیں تواس کی وجہ انکے اپنے خراب سماجی اور معاشی حالات ہوسکتے ہیں اور اسکی وجہ سے ان میں غم و غصہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اس بات کو قبول کرنے کے برعکس سیدھا اسلام کو دہشت گردانہ حملوں کا ذمہ دار بتایا جاتا ہے۔ اگر ہم ہندوستانی ذرائع ابلاغ کی مانیں تو حالیہ ممبئی بم دھماکوں میں مسلمانوں کا ہاتھ تھا۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو ہو سکتاہے کہ مسلمانوں کی اس حرکت کی اصل وجہ گجرات فسادات ہو۔ جن میں ہزاروں معصوم مسلمانوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ لیکن اسے قبول کیے بغیر ایک بار پھر سیدھا نشانہ اسلام اور مسلم پر لگایاگیا۔ لیکن جب گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں مسلمان مارے گۓ تھے تب ہندو مذہب کو کبھی اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
اسی طرح امریکی فوج نے ہزاروں مسلمانوں کو عراق، افغانستان، کوریا اور ویتنام میں مار گرایا۔ اس وقت عیسائی مذہب کو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ اب اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب بھی کوئی حملہ ہوتا ہے تو مسلمانوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہندوستانی تاریخ میں مسلمانوں کی حصہ داری کو صرف میوزیمز اور مشاعروں تک ہی محدود رکھا جارہا ہے۔ ہندو نظریاتی تنظیموں کی مانیں تو ' تاج محل' مغل شہنشہاہ شاہ جہاں نے نہیں بنوایا تھا بلکہ تاج محل کا نام ' تاجو محلیہ' اور وہ ایک ہندو راجپوت راجا کا محل تھا۔ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان اس تلخی کو ختم کرنے کا سب سے بہتر طریقہ دو مذہبوں کے لوگوں کے درمیان بات چیت اور تہذیبی تبادلہ ہی ہے۔ ایسا نہیں کہ ہندوستان کے عام مسلمان اور غیر مذاہب کے لوگ آپس میں نہیں ملتے ہیں اور 'آيڈیاز' کا تبادلہ نہیں کرتے ہیں۔ سکولوں ، کالجوں اور دفتروں میں مختلف مذہب اور ذات کے افراد ایک ساتھ کام کرتے ہيں انسانیت کی بنیاد پر رشتے بناتے نہ کہ مذہب کی بنیاد پر۔ لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے بعض فرقہ وارانہ فسادات کے بعد بہت سے مسلمان اپنی حفاظت کے لۓ 'گھیٹوز' میں رہنے پر مجبور ہیں۔
یہ مسلمان گھیٹوز میں رہ کر اپنی حفاظت سے زیادہ ان مذہبی رہنماؤں کے مشن کو کامیاب کرتے ہیں جو دو مذاہب کے لوگوں کو مذہب کے ساتھ ساتھ جگرافیائی بنیاد پر بھی الگ کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان میں مسلم مخالف احساس زور پکڑ رہا ہیں۔ اور ایسے حالات میں مسلمانوں کی لڑائی لڑنے میں خود مسلمانوں کا کوئی رول نہیں ہے۔بعض مسلم تنظیموں نے مسلمانوں کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ یہ مسلم تنظیمیں کسی مضبوط ہندو میڈیا سے جڑی ہوئی نہیں ہیں اس لۓ انکی آواز کوئی نہیں سنتا ہے۔ ان مسلم تنظیموں کے نظریات بیشتر اردو اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان اخبارات کو صرف مسلمان ہی پڑھتے ہیں اور غیر مسلمان اس آواز کو کبھی نہیں سن پاتے ہیں۔ علماء یہ بات بار بار دہراتے ہیں کہ مسلمان ' دہشت گرد' نہیں ہوسکتے ہیں کیونکہ اسلام کے مطابق معصوموں کی جان لینا پوری انسانیت کا خون کرنے کے برابر ہے۔ لیکن ان کی اس بات کو سننے والے کم ہی ہیں کیونکہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے غیر مسلم لوگ ایسے کئی مسلمانوں کی مثال دے سکتے ہیں جو اسلام کے نام پر اپنی دہشت گردانہ حرکتوں کو صحیح بتاتے ہیں۔ اپنا رد عمل بتانے کے لۓ مسلم تنظیموں کی نہ تو صحیح میڈیا پالیسیز ہیں اور نا ہی میڈیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے والا کوئی ذمہ دار میڈیا کا نمائندہ ۔ بیشتر اردو اخبارات کو پرانی ذہنیت کے علماء چلاتے ہیں جن کا میڈیا سے رابطہ کم ہی ہے۔ جہاں تک پڑھے لکھے مڈل کلاس مسلم طبقہ کا سوال ہے شاید مسلمانوں کی اس لڑائی میں وہ ایک اہم کردار ادا کر سکتے تھے لیکن وہ اپنے سماجی اور معاشی معیار کو بنانے میں مصروف ہیں اور اسی سے مطمئن ہیں۔ | اسی بارے میں مسلمانوں کے لیئے امتحان کا دور11 September, 2006 | انڈیا ’ہتھیار کی نہیں عقل کی ضرورت‘10 September, 2006 | انڈیا 9/11 اور پاکستان، انڈیا اور کشمیر 10 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||