مسلمانوں کے مسائل اور علماء کی کوششیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں گزشتہ کئي برسوں سے تشدد اور بم دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے اور ان میں سب سے تازہ مالیگاؤں بم دھماکہ ہے۔ اس طرح کے متعدد تشدد کے واقعات سے ملک کے مدارس اور مسلم تنظیمیں دفاعی رخ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔ حالانکہ بیشتر دھماکوں کے متعلق آج تک یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ ان کے پیچھے کس کاہاتھ ہے۔ لیکن ذرائع ابلاغ بلاسوچے سمجھے اس کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مدرسوں میں شدت پسندی یا ہتھیاروں کی ٹریننگ جیسی کسی چيز کا کوئی ثبوت نہیں ہے لیکن ہندو نظریاتی تنظیموں کی طرح میڈیا بھی ان دھماکوں کے لیئے مدارس کو ذمّہ دار ٹھہراتا ہے اور مدرسوں کو ’دہشت گردی کی فیکٹری‘ بتایا جاتا ہے۔ نتیجتًا ہندو نظریاتی تنظیموں کی طرف سے مدارس پر پابندی لگانے یا ان پر سرکاری نگرانی بڑھانے کا مطالبہ دن بدن زور پکڑتا جارہا ہے۔ اپنے خلاف اس طرح کی شدید مہم دیکھ کر مسلم علماء، مدارس اور تنظیمیں یہ صفائی دینے پر مجبورہیں کہ شدت پسندانہ کارروائیوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اپنے موقف کو واضح کرنے کے لیئے کئی تنظیموں نے سمینار اور کانفرنسیں بھی کی ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں میں نے بھی ایسی بعض کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔ ان میں ’جمیعت اہل حدیث‘ اور ’آل انڈیا ملی کونسل‘ کی کانفرنسیں قابلِ ذکر ہیں۔ لیکن ان میں سب سے اہم علماء کی وہ کانفرنس ہے جس میں وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ ، سرکردہ صحافی اور بیوریکریٹس بھی شامل تھے۔ اس کنونشن کا مقصد یہ بتانا تھا کہ میڈیا کی خبروں کے بر عکس مدرسوں کا شدت پسندی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اس کنونشسن میں علماء نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ بے قصور مسلمانوں کودہشت گردی کے نام پر بے وجہ نہ ستائیں۔ مدارس پر اس طرح کے دباؤ سے سیمنار اور کانفرنسوں سے پتہ چلتا ہے کہ علماء بھی اب اسلام اور اپنے اوپر عائد الزامات کے دفاع کے لیئے مجبور ہیں۔ ان کی ان کوششوں سے بعض علماء اور غیر مسلم سماج کے درمیان ایک بامعنی ڈائیلاگ شروع ہوگا۔ اس سے مدارس بھی اثر انداز ہوں گے اور ممکن ہے کہ وہ اپنی سوچ میں بھی تبدیلی لائیں اور اس سے نہ صرف مدارس کی ایک مثبت شبیہ ابھر سکتی ہے بلکہ اسلام کا وہ معتدل مفہوم بھی سامنے آئے گا جو بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کا عکاس ہو۔ اس سے غیر مسلم سماج کو بھی مدارس کی اس اہمیت کا احساس ہوگا کہ کس طرح مدرسے غریبوں کے لیئے مفت تعلیم مہیا کرتے ہیں۔
یہ سیمنار اور کنونشن اہم تو ہیں لیکن صرف یہی کافی نہیں ہیں۔ ہم نے جن کانفرنسوں میں شرکت کی اس سے لگا کہ علماء ہی اپنے آپ کو مسلم سماج کا نمائندہ پیش کرتے ہیں لیکن یہ پوری طرح درست نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ علماء عام طور مسلمانوں کے مسائل کو اٹھاتے ہیں اور اس لیئے ایسا لگتا ہے کہ وہی ان کے نمائندے ہیں۔ اس سے مسلمانوں میں ان جدید مسلم دانشوروں کی کوششیں اور کمزور ہوجائیں گی جو موجودہ ترقی کی رفتار، اسلام ، مسلمانوں کی معاشی حالات اور خواتین کے مسائل کو علماء سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور مسلم سماج کی امیدوں پر کھرے اتر سکتے ہیں۔ علماء کی مدارس اور مسلم تنظیموں کے دفاع کے لیئے ان کوششوں کو مسلم سماج میں حاکمیت کے سوال پر جاری کشمکش کے پس منظر میں بھی دیکھنا ضروری ہے۔ تعلیم یافتہ ماڈرن مسلمانوں اور علماء کے درمیان اس بات پر کشمش جاری ہے کہ آخر مسلمانوں کا اصل خیرخواہ کون ہے اور اسلام کے دفاع کے لیئے سب سے بہتر آواز کس کی ہے۔ دلی میں اہل حدیث کنونشن اور بعد میں آل انڈیا ملی کونسل کی کانفرنس میں بھی مجھے یہی دیکھنے کو ملا کہ اعتدال پسند مسلم دانشوروں اور سخت گیروں کے درمیان یہ کشمکش کس طرح جاری ہے۔ جولائی میں ملی کونسل کے اجلاس میں بہت سے علماء اور مدرسے کے سیکڑوں طلباء اکٹھا ہوئے تھے۔ لیکن غیر علماء دانشور چند تھے اور وہ بھی بغیر داڑھی کے مغربی لباس میں بھرے ہوئے سٹیڈیم کی گیلری میں کھڑے تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ جلسے کے منتظمین اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ علماء ہی مسلمانوں کے قدرتی رہنما ہیں وہی ان کے مسائل پر بولنے کے مجاز ہیں اور ان کے لیئے وہی حکومت کومطالبات پیش کرسکتے ہیں۔
مدارس اور اسلامک تنظیموں سے زیادہ تر علماء ہی وابستہ ہیں اور کوئی حیرت کی بات نہیں کہ دہشت گردی کے متعلق وہی مسلمانوں کے دفاع میں آگے آگے ہیں۔ شمالی ہندوستان میں بعض مسلم تنظیمیں غیر علماء کے ہاتھوں میں ہیں جو مسلم سماج خاص کر غریبوں کی فلاح کا کام کر رہی ہیں اور مسلمانوں کے مسائل کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش میں ہیں۔ لیکن مدارس کی تعداد ان تنظیموں سے کہیں زیادہ ہے۔ مسلمانوں کی جدید تعلیم یا معاشی حالت بہتر کرنے کے لیئے بھی جو تنظیمیں کام کر رہی ہیں وہ بھی ان تنظیموں سے بہت کم ہیں جو مذہبی تعلیم یا مذہبی بیداری مہم میں مصروف ہیں۔ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مسلم سماج پر غیر علماء کی تنظیموں سےکہیں زیادہ مدارس اور علماء کا اثر رسوخ ہے اور یہی وجہ ہے کہ علماء نہ صرف اپنے آپ کو مسلمانوں کا قائد بتاتے ہیں بلکہ وہی مسلم سماج کے دفاع کا حق جتاتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ مسلم سیاسی رہنماؤں یا غیر مسلم تنظیموں کے بجائے علماء کی باتوں پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ بظاہر علماء ہی مسلمانوں اور ان کی تنظیموں کو بچانے کا کام کرہے ہیں اور غیر علماء ان کے مقابلے میں بہت کم متحرک ہیں۔ اس سے اس حقیقت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ شمالی ہندوستان میں عوام سے جڑی بیشتر تنظیمیں ایسی ہیں جوعلماء کے ہاتھوں میں ہیں اور وہ بیشتر مذہبی کاموں میں مصروف ہیں۔ حال ہی میں دلی سے مسلم تنظیموں پر ایک ڈائریکٹری شائع ہوئی ہے جس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ بیشتر مسلم تنظیمیں علماء کے ہاتھوں میں ہیں اور مذہب پھیلانے کے کام کر رہی ہیں۔ سماجی علوم کے ماہر ڈاکٹر امتیاز احمد کے ایک حالیہ سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ ،زکوۃ اور صدقہ کا زیادہ تر پیسہ مدارس کوملتا ہے جوغریب طلباء کی تعلیم، رہائش اور کھانے پینے پر خرچ کیا جاتا ہے۔ عام طور پر امیر مسلمان اپنے بچوں کو اچھے انگلش میڈیم سکولوں میں تعلیم دیتے ہیں جبکہ سماج میں مذہبی تعلیم دینے، مدرسوں کو اساتذہ مہیا کرنے اور مساجد میں امامت و خطابت کی ذمہ داری اس غریب طبقے پر ہے جن کے بچے مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ زکوۃ و خیرات صرف مدارس اور مذہبی امور کے لیئے ہے اور اسے عصری تعلیم کے لیئے نہیں خرچ کرنا چاہیئے۔ یہ بات بھی علماء کی طرف سے پھیلائی گئی ہے تاکہ ان کے مدرسے کے کاموں میں کوئی خلل نہ پڑے۔ بعض دانشوروں نے علماء کے اس رویے پر نکتہ چينی کی ہے اور اسے صحیح نہیں بتایا ہے۔ لیکن اس سے دین اور دنیا کے درمیان کے فرق کو مزید وسعت ملی ہے۔ چونکہ زکوٰۃ ایک دینی کام ہے اس لیئے متوسط طبقے کے مسلمان ان تنظیموں کو نظر انداز کرتے ہیں جو ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں اور علماء یا مساجد کو چندہ دینے کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اس سے ایک بات یہ بھی صاف ہوجاتی ہے کہ متوسط درجے کے مسلمانوں کا ربط عام مسلمانوں سے نہ ہونے کے برابر ہے اور علماء کی رسائی عوام تک ان سے کہیں زیادہ ہے۔اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ علماء ہی کیوں مدارس اور مسلم تنظیموں کے دفاع میں آگے آکے ہیں۔ مالدار طبقہ اپنے بچوں کومدرسے میں تعلیم کے لیئے بہت کم بھیجتا ہے اور اس سے دونوں طبقوں کے میں قائم خلیج وسیع ہوئی ہے۔ دونوں طبقوں کے درمیان موجودہ مسائل کو سمجھنے اور دیکھنے میں بھی بہت فرق ہے جس سے دونوں طبقوں میں دوہرے معیار تعلیم کا فرق بھی با آسانی سمجھ میں آتا ہے۔ دنیاوی مسائل کو دیکھنے کے دونوں کے نظریات بھی مختلف ہیں۔ ایک مولویوں کا گروہ اور دوسرا انگریزی داں طبقہ اور دونوں میں نظریات کے تبادلے کا فقدان ہے۔ بیشتر متوسط درجے کے مسلمان اپنے غیر مسلم ہم منصبوں کی طرح اپنی انفرادی زندگی میں مگن رہتے ہیں اور اقتصادی ترقی پر توجہ دیتے ہیں۔ انہیں غریب مسلمانوں سے کوئی سروکار نہیں ہے جو جہالت و تاریکی میں زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس اور مذہبی تنظیوں کی نسبت غیر علماء کی تنظمیں بہت کم ہیں جو مسلانوں کی فلاح کا کام کرتی ہوں۔ دونوں کی سوچ میں یہی فرق ہے اور یہ بھی بتاتاہے کہ کیوں علماء مسلمانوں کے دفاع میں آگے آکے ہیں اور دوسرا طبقہ پوری طرح خاموش ہے۔ عام طور متوسط طبقے کے مسلمان ملک کے قومی دھارے میں شامل ہونے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ وہ اعلٰی طبقے کے غیر مسلموں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں اور شعوری یا غیر شعوری طور پر انہیں ناخوش نہیں کرنا چاہتے۔ اپنے آپ کو اعلٰی اور مہذب ثابت کرنے کے لیئے وہ پسماندہ مسلم سماج سے اپنے آپ کو الگ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے آس پاس کے غیر مسلموں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ بعض رسم رواج کے علاوہ ان میں اور غیروں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں اسلام کی تشدد آمیز شبیہہ پیش کیے جانے کے بعد اس رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس طبقے کے مسلمان اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ اگر وہ پسماندہ مسلم سماج کے مسائل کو اٹھائیں گے تو انہیں غیر سیکولر، ملک دشمن، یا دہشت گرد کہا جاسکتا ہے۔ اس لیئے مسلم سماج کے مسائل اور انکی پریشانیوں کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری علماء پر چھوڑ دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں علماء کی کوششیں اگرچہ محدود ہیں لیکن مسلم سماج کے مسائل کو حکومت یا غیرمسلم سماج کے سامنے اجاگر کرنے کے لیئے ان کی ان مختصر کوششوں کو سراہا جانا چاہیئے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے اس کے لیئے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ پوری طرح درست اور بہت موثر ہے۔ مدارس میں دہشتگردی کے الزمات کو غلط ثابت کرنے کے لیئے جن پروگراموں میں میں نے شرکت کی اس میں زیادہ تر شرکاء مسلم تھے اور بیشتر مقررین نے سخت اردو میں جو تقریریں کیں وہ غیر مسلموں کو بہت کم سمجھ میں آئی ہوں گی۔ اگر ان کانفرنسوں اور سیمناروں کا مطلب یہ تھا کہ وہ غیر مسلموں کو مدرسے کی درست شبیہ سے آگاہ کریں تو اس میں کامیابی نہیں ملی ہوگی۔ یہ مقصد اس صورت میں حل ہوسکتا تھا کہ ان سیمنارز میں، میڈیا، حقوق انسانی کی تنظیمیں، غیر مسلموں اور ان تنظیموں کے لیڈروں کو دعوت دی جاتی جنہوں نے مدرسوں کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے تاکہ وہ علماء کی باتیں سن سکتے۔ مزید یہ کہ علماء اور ان کے نکتہ چینوں کے درمیان مذاکرات ہوتے تاکہ دونوں فریق ایک دوسرے کے نکتہ نظر سے واقف ہوتے نا کہ یکطرفہ مدارس اور اسلامک گروپ کے دفاع میں معذرت بھری تقریریں۔ چونکہ غیر مسلم تنظیموں سے علماء کے تعلقات بہت کم ہیں اس لیئے یہ کام ان کے لیئے اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ بعض علماء کے غیر مسلم رہنماؤں سے تعلقات ہیں اور دیکھنے میں آیا کہ وہی محدود لوگ ہی وہاں موجود تھے اس لیئے غیر مسلموں پر اس کے اثرات نہ ہونے کے برار مرتب ہوئے ہیں۔ بیشتر علماء ہندی یا انگریز زبان سے بھی نا واقف ہیں اور میڈیا آرگنائزیشن سے بھی تعلقات بہت کم ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کنونشنوں سے مدارس کے متعلق عام مسلم طبقے کے ذہن پر بھی کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہوگا۔ ان جلسوں میں ایک خاص موضوع ’اسلام دہشت گردی کا مخالف ہے‘ پر بیشتر تقریریں ہوئیں۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ شرعی اسلامی جہاد اور دہشت گردی دو مختلف چیزیں ہیں۔ ممبئی میں ایسے ہی ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے مفتی فضل الرحمن ہلال عثمانی نے کہا کہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ دلی میں جمیعت اہل حدیث نے بھی اپنے سیمنار ’دہشت گردی انسانیت کے لیئے ایک لعنت ہے‘ میں دہشت گردی کی مذمت کی اور اس کے خلاف فتوٰی جاری کیا۔ اس طرح کے جلسوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اسلام میں دہشت گردی ناقابل برداشت ہے اور مسلمانوں کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیئے۔ کئی مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہندو نظریاتی تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق اور فلسطین جیسی جگہوں پر جب مسلمان اپنے دفاع کے لیئے ایسا کرتے ہیں تو وہ درست ہے۔
اس طرح کے فتوے اور علماء کے اعلانات ایک خوش آئند خبر ہے۔ اس سے مسلم اور غیر مسلم دونوں کے ذہنوں میں دہشت گردی کے متعلق ایک نئی سوچ جنم لے گی۔ اس سے کچھ حد تک اسلام اور جہاد کے متعلق غیر مسلموں کے نظریے میں بھی تبدیلی آنے کی توقع ہے۔ لیکن یہ دفا ع کافی نہیں ہے کیونکہ علماء ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے اور دوسری طرف بعض گروپ اسلام کے نام پر دہشت گردی کرتے ہیں۔ تو یہ زیادہ اچھا تبھی ہوگا جب ایسی کاروائیوں کی بھی شدت سے مذمت کی جائے گی اور دہشت گردی کے خلاف فتووں کو تنظیم کے نام سے تشہیر بھی ملے۔ لیکن اب تک علماء اس میں ناکام رہے ہیں۔ کچھ بھی ہو مدارس کے دفاع میں علماء نے بہت کم ذرائع سے تھوڑی بہت جو کوششیں شروع کی ہیں وہ کچھ نہ ہونے سے تو کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ اس سلسلے میں علماء کی کارروائیاں اعلٰی طبقے کے مسلمانوں سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جو بظاہر کچھ بھی نہیں کر رہے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ علماء کا اس میں اہم رول ہے لیکن بعض مسائل کے سبب وہ تنہا اس کام کو پورا بھی نہیں کرسکتے اس لیئے ضروری ہے کہ جدید تعلیم سے آراستہ دانشور بھی اس کام میں آگے آئیں۔ ممکن ہے کہ علماء یہ سوچ کر اس کی مخالفت کریں کہیں مسلم سماج پر ان کی گرفت کمزور نہ پڑ جائے۔ سیاسی جماعتیں اور سرکار بھی اس طرح کے مسلمانوں کے بڑھتے مطالبات کو شاید پسند نہ کریں۔ اب تک علماء حکومت سے، مسلم پرسنل لاء بورڈ ، بابری مسجد کی باز یابی اور ملازم کی داڑھی بڑھانے جیسے بعض مذہبی امور کے مطالبات ہی کرتے رہے ہیں اور ان کی معاشی ترقیاتی کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی ہے۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا جدید تعلیم سے آرستہ دانشور مسلمانوں کے مسائل کے لیئے آگے آئیں گے۔ | اسی بارے میں حریت پسندی سے دہشت گردی تک10 September, 2006 | انڈیا ’ہتھیار کی نہیں عقل کی ضرورت‘10 September, 2006 | انڈیا اگلا نشانہ اسرائیل، خلیجی ریاستیں‘11 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||