BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 July, 2007, 15:43 GMT 20:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نشہ میں طلاق کے بعد مصیبت

ظہیرالدین ملا
بیس سالہ ملا نے اپریل دو ہزار چار میں شراب کے زیر اثر اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی
ظہیرالدین ملا نے پولیس سے تحفظ مانگا ہے۔ وہ اپنی بیوی سکینہ بی بی کو نشے کی حالت میں تین طلاقیں دینے کے باوجود اسکے ساتھ ایک ہی گھر میں شوہر کی حیثیت سے رہ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے اس کو مسلسل دھمکیاں مل رہی ہیں۔

مشرقی بنگال کے چوبیس جنوبی پرگنہ ضلع کے باشندے بیس سالہ ملا نے اپریل دو ہزار چار میں شراب کے زیر اثر اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ نشہ اترنے کے بعد اس کو پچھتاوا ہوا اور دوسرے ہی دن اس نے آشتی باگپاڑہ جامع مسجد کے امام مولانا یوسف منڈل کو ساری حقیقت سے آگاہ کیا۔

مولانا منڈل نے ظہیرالدین کو سکینہ سے علیحدہ رہنے کی تلقین کی لیکن ظہیرالدین کے اصرار کو دیکھتے ہوئے کہ وہ سکینہ کو نہيں چھوڑ سکتا مولانا منڈل نے اسے حلالہ کی راہ دکھائی۔

لیکن ظہیرالدین حلالہ کیے بغیرہی بدستور سکینہ کے ساتھ ہی رہتا رہا جس پر اس کے پڑوسیوں نے شدید اعتراض کیا اور اسے دھمکیاں دیں۔

سکینہ کہتی ہیں ’بہت سے پڑوسی ہم لوگوں سے بات نہيں کرتے۔ ہمیں سماجی تقریبات میں مدعو نہيں کیا جاتا اور ہم کو مسلسل دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ اس گاؤں میں رہے تو انجام برا ہوگا۔‘

ظہیرالدین حلالہ کیے بغیرہی بدستور سکینہ کے ساتھ ہی رہتے ہیں
سکینہ کے مطابق گاؤں والوں نے دکانوں میں ان کے داخلے پر بھی پابندی عائد کردی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر ملا اور سکینہ اپنے تین بچوں کے ہمراہ گاؤں چھوڑ کر باگپاڑا میں ایک عزیز کے گھر رہنے پر مجبور ہوگیے تھے۔ دو سال وہاں گزارنے کےبعد وہ لوگ کچھ ماہ پہلے ہی واپس آشتی لوٹے ہیں۔

گزشتہ جمعہ کو پولیس نے مہیشیلا تھانہ میں ایک میٹنگ بلائی جس میں ظہیرالدین ملا ، سکینہ او مقامی مسجد کے امام گاؤں کے کچھ معزز افراد اور پولیس کے کچھ اہلکار موجود تھے۔ میٹنگ میں گاؤں والوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ظہیرالدین اور اس کے خاندان کو کسی دھمکی یا تشدد کا سامنا نہيں کرنا پڑے گا۔

مقامی مسجد کو ایک رکن ہاشم شیخ کہتے ہیں ’مجھے یقین ہے کہ ظہیرالدین نے شریعت کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ ہم اس کو مسلم سماج کا حصہ تسلیم نہیں کریں گے جب تک وہ شریعت پر عمل پیرا ہوجائے اور یہ ہمارا مذہبی معاملہ ہے پولیس کا اس سے کوئی سروکار نہيں ہے۔‘

ظہیرالدین نے میٹنگ کے بعد کہا کہ وہ مسجد میں داخل نہیں ہوں گے اور کسی مسلم سماجی تقریب میں بھی شامل نہيں ہوں گے۔ جنوبی چوبیس پرگنہ کے پولیس چیف سدہناتھ گپتا نے بتایا ’ہم ظہیرالدین اور اس کے خاندان کو پورا تحفظ فراہم کریں گے اور خيال رکھیں گے کہ ان کےخلاف کوئی تشدد نہ ہو۔ گاؤں والوں نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ اب ظہیرالدین اور اس کے خاندان کو روزمرہ کی ضرورتیں پوری کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہيں کھڑی ہوگی۔ لیکن ان کے مذہبی بائیکاٹ اور مسجد میں ان کے داخلے پر پابندی کے معاملے میں ہم کچھ نہيں کر سکتے ہیں۔‘

اس دوران کلکتہ کی ٹیپو سلطان مسجد کے مفتی شاہی امام مولانا نورالرحمان برکتی مجددی نے بتایا ’اعصابی مایوسی یا بے خبری کی حالت میں دی گئی طلاق طلاق نہيں ہوتی۔ اگر کسی جاہل نے جو کہ دین اور شریعت کے اصولوں سے بالکل ہی ناواقف ہے بے ارادہ یا غصے میں طلاق دے دی ہے تو اس کی بھی کوئی اہمیت نہيں ہے۔

اسی بارے میں
غیر مسلم روزہ دار
19 October, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد