غیر مسلم روزہ دار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وہ بھگوان مہاویر کے جین مذہب کو مانتی ہیں لیکن اس کے باوجود گزشتہ اٹھائیس برسوں سے روزے رکھ رہی ہیں۔ ان کے دل تک جانے والی پانچ شریانیں بند ہیں لیکن خراب صحت کے باوجود ماہ رمضان اور روزوں سے ان کی عقیدت ختم نہیں ہوئی اب ان کے ساتھ ان کا پورا گھر روزے رکھتا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں اسمیتا مانڈو ویا کی۔ وسطی ممبئی کے کنس سرکل علاقے میں اسمیتا اپنے بیٹے دیوین اور بہو جاگروتی کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کا اپنا ذاتی کاروبار ہے۔ ان کی فرم فائیو اسٹار ہوٹلوں اور دفاتر میں انرجی سیونگ سسٹم سپلائی کرتی ہے۔ اسمیتا کہتی ہیں کہ ان کی ملاقات شیعہ عالم دین مولانا عباس رضوی (مرحوم ) سے ہوئی تھی وہ انہیں بیٹی کی طرح مانتے تھے، اتفاقاً رمضان میں ان کے ہاں آنا جانا ہوا اور اس دوران شام کے وقت انہوں نے افطار کی گہماگہمی دیکھی پھر بڑے خضوع و خشوع کے ساتھ لوگوں کو افطاری کرتے دیکھا۔ اس ماحول نے ان پر گہرا اثر چھوڑا۔ اسمیتا نے مولانا سے پوچھا کہ کیا وہ بھی روزے رکھ سکتی ہیں اور مولانا نے کہا کہ ہاں لیکن ان کے روزوں میں بہت پابندیاں ہیں اور اگر وہ اس پر پورا اترتی ہیں تو روزے رکھ سکتی ہیں۔ اسمیتا کہتی ہیں کہ انہوں نے پہلے دو دن روزے رکھے انہیں اچھا لگا، پھر انہوں نے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کیا اور ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ روزے جسم کے لیے بہت مفید ہیں۔ اسمیتا اقرار کرتی ہیں کہ پہلے انہوں نے روزے اپنے جسم کی تندرستی اور چستی پھرتی کے لیے رکھے لیکن جب اسی ماہ انہیں کاروبار میں بہت زیادہ منافع ہوا تو روزوں سے ان کی عقیدت بڑھ گئی۔
بس 1979 سے آج تک وہ ہر رمضان میں مکمل روزے رکھتی ہیں۔ اسمیتا کے مطابق ان کا مذہب اور اس کے اصول بہت سخت ہیں اور جب ان کے رشتہ داروں کو پتہ چلا کہ وہ مسلمانوں کی طرح روزے رکھتی ہیں تو لوگوں نے ان سے سوالات کرنا شروع کیئے، کسی نے رشتہ توڑنے کی دھمکی دی تو کسی نے رشتہ توڑ بھی لیا لیکن ان کے مطابق ان کا عقیدہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اسمیتا روز سویرے ڈھائے بجے کے قریب اٹھ جاتی ہیں صبح وہ پورا کھانا یعنی دال سبزی روٹی چاول کھاتی ہیں۔ پورا دن بزنس کے کام میں الجھی رہتی ہیں لیکن شام کے وقت ان کے گھر پر غیر مسلم اور مسلمان دونوں مدعو رہتے ہیں سب ساتھ مل کر روزہ افطار کرتے ہیں۔اسمیتا افطاری کے بعد صرف ایک کپ چائے یا جوس پیتی ہیں اور رات کا کھانا نہیں کھاتیں۔ یہی معمول ان کے بیٹے اور بہو کا بھی ہے۔ اسمیتا کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں نے اب انہیں اپنا لیا ہے روزہ افطار کے لیے وہ بھی اپنے گھروں سے پکوان بنا کر بھیجنے لگے ہیں۔ ان کی بیٹی البتہ شادی کے بعد سے اپنے گھر اب روزہ نہیں رکھتیں کیونکہ ان کے سسرال والوں کو یہ پسند نہیں ہے۔ اسمیتا چونکہ جین مذہب سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے گوشت مچھلی تو دورپیاز اور لہسن تک نہیں کھاتی ہیں۔ روزوں کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے بہت قریب آگئی ہیں۔ وہ ان کے مسائل کو اچھی طرح سمجھتی ہیں اور اسی لیے ممبئی میں
دلہن لکشمی سری دھر پجاری بھی روزہ رکھتی ہیں لیکن اس کی وجہ اسمیتا سے مختلف ہے۔ لکشمی اس وقت کمپنی انووا (company Innova) میں ڈپٹی مینجر کے عہدے پر فائز ہیں۔ کام مشکل ہے اور وقت طلب بھی۔ وہ وقت پر کبھی گھر پہنچ نہیں پاتیں اس لیے اپنے ساتھ کھجور رکھتی ہیں کبھی دفتر کبھی راستے میں روزہ افطار کرنا پڑتاہے۔ لکشمی نے سترہ سال کی عمر سے روزے رکھنے شروع کیئے۔ ان کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کے لیے مختص ایس این ڈی ٹی کالج میں ان کی کئی سہیلیاں مسلمان تھیں۔انہوں نے بتایا کہ روزے ان کے ’برت‘ سے زیادہ سخت ہوتے ہیں کیونکہ روزہ میں پانی بھی نہیں پی سکتے۔ لکشمی کے مطابق پہلے انہوں نے صرف آزمائش کے طور پر ایک روزہ رکھا اور اسی روز انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ یہ ان کے نفس پر قابو پانے کا سب سے اچھا ذریعہ ہے۔ اس سے کنٹرول کرنے کی قوت بڑھتی ہے۔ انسان کو اپنے آپ پر بھروسہ ہوتا ہے۔ بس یہی باتیں ان کے دماغ میں آئیں اور انہوں نے روزے رکھنے شروع کیئے۔ لکشمی کہتی ہیں کہ سب سے پہلے ان کی والدہ نے اس کی مخالفت کی۔ انہیں ڈانٹ پڑی، برے نتائج سے آگاہ کیا گیا لیکن انہوں نے ماں کو یہ کہہ کر خاموش کیا کہ کم سے کم روزوں کی وجہ سے اس میں برداشت کی قوت بڑھی ہے اور انہوں نے اپنے نفس پر قابو پانا سیکھا ہے۔ لکشمی کا بچپن زیادہ اچھا نہیں تھا۔ ان کے والد نہیں تھے۔ انہیں دنیا میں بہت مشکلات کا سامنا تھا لیکن ان سب سے لڑنے کا سبق انہیں رمضان کے روزوں سے ملا۔ لکشمی نے انگریزی میں باترجمہ قرآن پڑھا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ قرآن دنیا کی بہترین کتاب ہے اور تقریباً ان کی گیتا میں بہت سی باتیں قرآن سے ملتی جلتی ہیں۔ لکشمی کی نظر میں اسلام ایک بہت اچھا مذہب ہے لیکن شرط ہے کہ مسلمان اُس کے بتائے راستوں پر عمل کریں۔
لکشمی ہنستے ہوئے کہتی ہیں کہ جب انہوں نے دفتر میں روزہ افطار کیا تو ان کے ساتھی مسلمان شرمندہ ہوئے کیونکہ وہ خود روزے سے نہیں تھے۔ ’لیکن آج وہ روزے رکھ رہے ہیں‘۔ لکشمی کے شوہر سری دھر پجاری بھی کالج کے دنوں سے روزے رکھتے ہیں۔ وہ بچوں کو ٹیوشن دیتے ہیں۔ پجاری کہتے ہیں کہ بابری مسجد کے بعد فرقہ وارانہ فسادات نے ہندؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی ہے لیکن اس سے پہلے تک ہمارے دلوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔ ممبئی پولس فورس کے پولس انسپکٹر کھنڈے راؤ پاٹل کا شمار بھی ان غیر مسلموں میں ہوتا ہے جو عقیدت کے ساتھ روزے رکھتے ہیں۔ پاٹل اس وقت ممبئی کے نرمل نگر پولیس سٹیشن میں تعنیات ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے 1999سے روزے رکھنے شروع کیئے اور آج تک ہر سال رمضان میں پابندی سے روزے رکھتے ہیں۔ پاٹل کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ چاق و چوبند رہتے ہیں لیکن انہیں لگتا ہے کہ وہ اپنے بھگوان سے قریب ہیں۔ | اسی بارے میں یوپی، مذہبی رواداری اور انتخاب24 March, 2004 | انڈیا غیروں میں شادی کیا کریں: عدالت 19 September, 2006 | انڈیا ’پوپ کے بیانات غیر ضروری ہیں‘23 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||