پولیس کو اسلام کے بارے میں معلومات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاد کیا ہے، اسلام کیا سکھاتا ہے، قران کی روشنی میں غیر مسلموں کے بارے میں اسلام کی کیا تعلیم ہے، یہ اور اس جیسے کئی موضوعات پر مسلم علماء آج کل دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے بنائے گئی خصوصی پولیس فورس کو تعلیم دے رہے ہیں۔ انسداد دہشت گردی عملہ ( اے ٹی ایس ) کے سینیئر افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی۔ افسر کے مطابق ٹرین بم دھماکوں کے بعد ’سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ‘ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے کئی مشتبہ اراکین کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے بیشتر ملزمان اکثر جہاد کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ افسر کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر زبان کھولنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے اگر ان سے زبان کھلوانی ہے تو ان کے مذہب کے بارے میں جاننا ضروری ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ جہاد اور اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اے ٹی ایس افسران کو تعلیم دینے کے لیے پروفیسر شیش راؤ مورے کا انتخاب کیا گیا ہے جو اب تک اسلام پر دو درجن سے زائد کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ دو مسلمان علماء کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں لیکن ان کے نام خفیہ رکھے گئے ہیں۔ انٹیلیجنس محکمہ کی خصوصی برانچ کے سینیئر افسر حبیب انصاری نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ اے ٹی ایس افسران کو جہاد اور اسلامی تعلیمات کے بارے میں لیکچر دیے جا رہے ہیں، لیکن انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر صحیح سیاق و سباق میں جہاد پر روشنی نہ ڈالی گئی تو یہ ایک برا تجربہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی خدشہ علماء کونسل کے جنرل سیکرٹری مولانا محمود دریا بادی نے بھی ظاہر کیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اے ٹی ایس نے صحیح عالموں کی خدمات حاصل کی ہیں تو نام کیوں چھپایا جا رہا ہے۔ ایک اچھی بات ہے کہ افسران جہاد اور اسلام کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مولانا محمود دریا بادی کا کہنا ہے کہ ’اگر حقیقی پس منظر میں جہاد کا صحیح تصور پیش کیا گیا تو یہ ایک اچھی بات ہو گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ افسران اسے اچھی طرح سمجھ لیں لیکن اگر غلط عالم دین قران اور اس کی تعلیمات کی صحیح ترجمانی پیش نہیں کرتے ہیں تو یہ مسلمانوں کے حق میں اور بھی غلط ہوگا اور اب تک جو مظالم کیے گئے ہیں کہیں ان میں اضافہ نہ ہو۔‘
پولیس کے اینٹلیجنس کے محکمہ میں ’ایم‘ (یعنی مسلم ) برانچ بھی ہے جس میں عام طور پر مسلمان افسران رکھے جاتے ہیں جو مسلمان علاقوں اور مسلمانوں پر نظر رکھتے ہیں۔لیکن آج کل ایم برانچ کی حالت خستہ ہے اس میں اب زیادہ تر افسران غیر مسلم ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقوں میں تعینات پولیس افسران کو محکمہ کی طرف سے اردو سیکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے تاکہ وہ اردو اخبارات میں شائع مضامین سے واقف رہیں لیکن اکثر پولیس والے اس پر دھیان نہیں دیتے۔ جے جے مارگ پولیس سٹیشن کے سینیئر افسر ابو بیگ مسلمان ہیں لیکن انہیں اردو نہیں آتی کیونکہ انہوں نے مراٹھی زبان میں تعلیم حاصل کی۔ان کا کہنا ہے کہ کام اتنا زیادہ ہے کہ زبان سیکھنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ پولیس افسر مسٹر انصاری کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انٹیلیجنس میں ایسے مسلم افسران کا تقرر کیا جائے جو نہ صرف مسلمان ہوں بلکہ اسلام کے بارے میں واقفیت رکھتے ہوں تاکہ مسلمانوں کے بارے میں غلط تاثرات پیدا نہ ہوں اور وہ ان کے مسائل کو سمجھ سکیں۔ |
اسی بارے میں ممبئی کاسیاسی منظر اور مسلمان 30 January, 2007 | انڈیا ’مسلم شراکت بڑھنی چاہیے‘ 09 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||