BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 30 January, 2007, 14:46 GMT 19:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی کاسیاسی منظر اور مسلمان

بلدیاتی انتخابات کی مہم
ممبئی میں مسلم عام طور پر کانگریس سے ناراض ہیں
یکم فروی کو ممبئی میونسپل کارپوریشن کے انتخاب ہونے والے لیکن مسلمانوں کی بڑی تعداد اس مرتبہ کشمکش میں ہے کہ وہ کس پارٹی کو ووٹ دے؟

مسلمانوں کی بڑی تعداد ریاست کی متحدہ محاذ کانگریس اور نیشنلسٹ پارٹی سے ناراض ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرین بم دھماکوں کے سلسلہ میں ان پارٹیوں نے اقتدار میں رہتے ہوئے بھی ’ بے قصور‘ مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی قانون کے تحت جیلوں میں ڈال دیا اور سی بی آئی نے دھماکوں کی تحقیقات کا وعدہ کرنے کے بعد بھی اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔

شاید یہی وجہ ہے کہ ممبئی کے زیادہ تر مسلمان اس الیکشن میں کانگریس اور این سی پی کو ووٹ نہیں دینا چاہتے۔گوونڈی کے ایک نوجوان جمیل انصاری کہتے ہیں’ پولیس ہمیں قطار میں کھڑا کردیتی تھی جیسے ہم سب دہشت گرد ہیں، گھروں میں گھس کر ہماری پردہ نشین ماں بہنوں کے سامنے گھر کی تلاشی لی جاتی اور جب پولیس کو کچھ نہیں ملا تو شرمندہ ہو کر جانے کے بجائے ہمیں گالیاں دی جاتیں ۔‘

مسٹر انصاری کہتے ہیں کہ پہلے انہوں نے سوچا تھا کہ وہ شیو سینا اور بی جے پی کے امیدوار کو ووٹ دیں گے لیکن ابھی شیوسینا چیف بال ٹھاکرے نے پھر مسلمانوں کو گالیاں دیں اس لیے اب وہ تیسرے محاذ کے امیدوار کو ووٹ دینا پسند کریں گے۔

 پولیس ہمیں قطار میں کھڑا کردیتی تھی جیسے ہم سب دہشت گرد ہیں، گھروں میں گھس کر ہماری پردہ نشین ماں بہنوں کے سامنے گھر کی تلاشی لی اور جب پولیس کو کچھ نہیں ملا تو شرمندہ ہو کر جانے کے بجائے ہمیں گالیاں دی گئیں۔
ممبئی کے ایک نوجوان جمیل انصاری

ممبئی میں اس وقت چار بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں۔ کانگریس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی ، شیو سینا اور بھارتی جنتا پارٹی۔ شیوسینا اور بی جے پی میں انتخابی سمجھوتہ ہے لیکن اس مرتبہ کانگریس اور این سی پی میں سمجھوتے کی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔

بلدیاتی انتخابات کے لیے ممبئی کی تیرہ چھوٹی سیاسی پارٹیوں کا ایک تیسرا محاذ بھی بنا ہے جس میں سماج وادی پارٹی، جنتا دل سیکولر، دلت سماج کی رہنمائی کرنے والی پانچ مختلف پارٹیاں، کمیونسٹ پارٹیوں کے دو گروپ اور کسان مزدور پارٹی (پی ڈبلیو پی ) اہم ہیں۔

شہر کے تمام علماء کرام اور مسلم تنظیموں نے مسلمانوں سے اس تیسرے محاذ کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔ جمعیت علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مولانا مستقیم اعظمی کا کہنا ہے ’ ہم نے موجودہ نام نہاد سیکولر اور مسلمانوں کی خیر خواہ حکومت سے مشکل کے وقت مدد مانگی تھی لیکن صرف کھوکھلے وعدے ملے۔‘

مسٹر اعظمی کا کہنا ہے کہ دیگر ریاستوں کے برخلاف مہاراشٹر میں کانگریس اور فرقہ پرست پارٹیوں کے علاوہ کوئی تیسرا سیکولر محاذ نہیں ہے اس لیے کانگریس کو اس بات پر غرور ہے کہ آخر مسلمان مجبور ہو کر اسی کو ہی ووٹ دیں گے۔ ان کے مطابق کانگریس کی اس خام خیالی کو ختم کرنے کی ہی غرض سے اس تیسرے محاذ کو تشکیل دیا گیا ہے۔

ہم نے موجودہ نام نہاد سیکولر اور مسلمانوں کی خیر خواہ حکومت سے مشکل کے وقت مدد مانگی تھی لیکن صرف کھوکھلے وعدے ملے۔
جمیعت علماء کے سیکریٹری مولانا مستقیم اعظمی

علماء کونسل کے جنرل سیکریٹری مولانا محمود دریا آبادی کے مطابق دلتوں نے کھیرلانجی قتل واقعے کے بعد حکومت کے رویہ سے ناراض ہو کر مسلمانوں کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ مولانا کے مطابق اب دلت سمجھ گئے ہیں کہ کانگریس نے ان کے نام کا فائدہ اٹھا کر ووٹ بینک کی سیاست تو کی لیکن انہیں ان کا مقام نہیں دیا۔

تیسرے محاذ کی سب سے بڑی پارٹی سماج وادی پارٹی کے لیڈر ابو عاصم اعظمی کو یقین ہے کہ تیسرا محاذ ممبئی ہی نہیں آگے چل کر مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم رول ادا کرے گا۔

لیکن اس تیسرے محاذ کو ہر مسلمان ، دلت یا سیکولر شہری کی حمایت حاصل ہو گی یہ کہنا بہت مشکل ہے۔ کرلا کے بینک ملازم سعیدہ مانکیا کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخاب میں پارٹی نہیں بلکہ مقامی امیدوار کی کارکردگی کو دیکھ کر ووٹ دیا جاتا ہے، چاہے امید وار کا تعلق کسی پارٹی سے ہو یا وہ آزاد امیدوار ہو۔

تجزیہ نگار ظہیر رضوی کے مطابق تیسرا محاذ ایک اچھا متبادل ہو سکتا تھا لیکن صرف زبانی باتیں اور اخبارات میں اشتہار اور انٹرویو دے کر عوام میں جگہ بنانا مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس محاذ میں شامل سبھی پارٹیوں کے ایک دوسرے نمائندوں کی انتخابی ریلی میں شرکت کرنی چاہئے جو وہ نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ووٹوں کو تقسیم کر کے یہ ایک بار پھر فرقہ پرست پارٹیوں کو اقتدار میں لانے کے ذمہ دار ہوں گے۔

مسٹررضوی نے اعتراف کیا کہ ممبئی کے موجودہ حالات سے مسلمان بہت پریشان ہیں لیکن بی ایم سی انتخاب ان کا حل نہیں ہیں کیونکہ بی ایم سی ارکان کے پاس تو صرف شہر کی بنیادی سہولیات کو فراہم کرانے کے اختیارات ہوتے ہیں۔

سیاسی معاملات کے تجزیہ کار کمار کیتکر نے شہر میں بدلتے سیاسی منظر نامہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ تیسرا محاذ محض سیکولر ووٹوں کی تقسیم کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق متوسط طبقے کے مسلمان کانگریس کو ہی ووٹ دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلمان این سی پی سے ناراض ہیں کیونکہ بم دھماکوں کے کیس اور مسلمانوں کو ہراساں کیے جانے یا کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کی ساری ذمہ داری این سی پی کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل کی تھی۔

مسٹر کیتکر کے مطابق اس مرتبہ بی ایم سی انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملے گی لیکن انہیں یقین ہے کہ ووٹوں کی تقسیم کے ساتھ ایک بار پھر شیوسینا بی جے پی محاذ شاید آزاد امیدواروں کے ساتھ اقتدار میں ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد