انڈیا: مسلم قیادت کے نئے دور کا آغاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں حالیہ انتخابات کے بعد ملک گیر پیمانے پر اچانک سرخیوں میں آنے والے یو نائٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے رہنما بدرالدین اجمل کا کہنا ہے کہ ’ہندوستانی سیاست کی روح سیکولرازم ہے اس لیئے ہمارے سماج میں مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاست کسی حال میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔‘ گزشتہ ماہ آسام کے انتخابات میں حاجی بدرالدین اجمل کی قیادت میں یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ ( یو ڈی ایف) کو تقریباً آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد ووٹ کے ساتھ 10 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ریاست کے کل 126 اسمبلی حلقوں میں مسلمانوں کی آبادی 32 فیصد بتائی جاتی ہے۔ انڈیا کی آزادی کے بعد کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب آسام میں کسی مسلم رہنما کی قیادت والی پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ آسام یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے قائد حاجی بدرالدین اجمل نے ایک خصوصی بات چیت میں کہا کہ’ہندوستان میں 80 فی صد ہندو ہیں اور یہاں مذہب کے نام پرسیاست قابل قبول ہوتی تو آر ایس ایس، بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد جیسی ہندو تنظیمیں انڈیا پر حکومت کر رہی ہوتیں لیکن ایسا ممکن نہ تھا اس لیے ان تنظیموں کو پہلے جن سنگھ اور پھر بھارتیہ جنتا پارٹی کی تشکیل کرنی پڑی اور وقت پر اسے سیکولر پارٹی ثابت کیا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا:’مسلمان بھی اگر مذہب کے نام پر سیاست کرنا چاہیں گے تو وہ کسی بھی طرح کامیاب نہیں ہو سکتے‘۔ یو ڈی ایف نہ صرف ریاست کی چوتھی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے بلکہ اسکی طاقت ریاستی اسمبلی میں ہندو پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کے برابر ہو گئی ہے۔ ان کی پارٹی 2 اکتوبر 2005 کواس وقت وجود میں آئی جب انہوں نے کانگریس پر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے استعفی دے دیا تھا۔ یو ڈی ایف نے گزشتہ ماہ انتخابات میں 71 اسمبلی حلقوں میں اپنے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ یو ڈی ایف کی اس جیت کو ہندوستانی سیاست میں مسلم قیادت کے ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خود بدرالدین اجمل اس کامیابی کو ہندوستانی سیاست کا ایک نیا رحجان قرار دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:’گزشتہ نصف صدی سے مسلمان محض ووٹر کے طور پر استعمال کیے جاتے رہے ہیں لیکن قائد کے روپ میں انہیں ابھرنے نہیں دیا گیا۔‘ اجمل اس کے لیےمسلم رہنماؤں کے علاوہ کانگریس اور دیگر نام نہاد سیکولر پارٹیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں ’مسلم رہنماؤں نے ذاتی مفاد کے پیش نظر ملک کے مسلمانوں کو حقیر بنائے رکھا اور ان کے اندر لیڈ رشپ کے جذبے کو ابھرنے نہیں دیا لیکن آسام کے عوام نے یہ ثابت کر دیا کہ قیادت کی صلاحیت والا ہر شخص قابل قبول ہے خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو‘۔
ہندوستان میں گاہے بگاہے مسلم سیاسی پارٹی بنانے کی آواز اٹھائی جاتی رہی ہے۔ بدرالدین اجمل ایسی کسی سیاسی پارٹی کے خلاف ہیں جسکی بنیاد مذہب ہو۔ اجمل کا کہنا ہے کہ مذہب کے نام پر آسام میں بنی آسام مائناریٹی فرنٹ اور مسلم فرنٹ جیسی تنظیمیں بالکل ناکام رہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم رہنماؤں نے ہندوستان کی سیاسی اور سماجی بناوٹ کو سمجھنے میں مذہبی نقطہ نظر کا استعمال کیا جو ناکام رہا۔ ان کے مطابق ’مذہب کے نام پر ہم کسی مخصوص جماعت کے لوگوں کو اپنی طرف آمادہ تو کر سکتے ہیں لیکن انتخابات جیتنے کی لیے یہ نا کافی ہے۔‘ بر صغیر کے تاریخی تعلیمی ادارے دارالعلوم دیوبند سے خالص مذہبی ماحول میں فاضل تک تعلیم حاصل کرنے والے اجمل جمیعت العلماء ہند آسام کے صدر اور اجمل گروپ آف کمپنیز کے مینیجنگ ڈائریکٹر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک غیرسرکاری تنظیم کے سربراہ بھی ہیں جو آسام کے مختلف شہروں میں غریب بچوں کے لیےآدھا درجن سکولوں کا نیٹ ورک چلاتی ہے۔ اجمل بدرالدین کے پاس ہندوستانی سیاست میں مسلمانوں کی ممکنہ کامیابی کے چند اہم فارمولے بھی ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ ایسی شخصیتوں کو سامنے لایا جائے جو پورے ہندوستان میں قابل قبول ہوں اور محتلف مکتبہ فکر کے لوگوں میں اتحاد قائم رکھ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’ہمیں اپنی جماعت کی قیادت کسی غیر مسلم سیکولر لیڈر کے ہاتھ میں سونپنے کے لیے بھی تیار رہنا پڑےگا تاکہ ہم خود کو ملک کے سیکولر اقدار کو مضبوط بنانے میں تمام طبقات کی حمایت حاصل کر سکیں۔ واضح رہے کہ آسام میں یو ڈی ایف کی کامیابی سے متاثر ہو کر انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں بھی سات مسلم تنظیموں نے مل کر ایک فرنٹ بنایا ہے۔ اتر پردیش میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اتر پردیش ایسی ریاست ہے جہاں کے 23 فی صد مسلمانوں کا حکومت سازی میں اہم کردار ہوتا ہے تاہم اس ریاست میں بھی مسلم لیلڈرشپ کا فقدان پایا جاتا ہے۔ حالانکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وہاں بھی ایسا تجربہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ بدرالدین اجمل نے کچھ تنظیموں کے اس الزام کو بے بنیا د بتایا کہ انکی پارٹی صرف مسلمانوں کی پارٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکی پارٹی کا اہم مقصد سیکولرازم کو مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا:’ہمارے دس میں سے 2 رکن اسمبلی بھونیشور داس اور ڈاکٹر آدتیہ لنگتھاسا غیر مسلم ہیں‘۔ بدرالدین اجمل اپنی اس تحریک کو ملک گیر پیمانے پر آزمانا تو چاہتے ہیں لیکن وہ فی الحال آسام میں ہی اپنی جڑیں مضبوط کرنا چاہتے ہیں جہاں آئندہ سال پنچایتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے اس بات کو قبول کیا کہ اتر پردیش کی کئی تنظیموں نے ان سے رابطہ قائم کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ مستقبل میں ہم اپنی تحریک کو ملک گیر پیمانے پرضرور پھیلائیں گے۔‘ | اسی بارے میں ریاست بہار کے پنچایتی انتخابات22 April, 2006 | انڈیا پولنِگ بوتھ پر گرنیڈ حملہ24 April, 2006 | انڈیا آسام کے انتخابات میں پولنگ مکمل04 April, 2006 | انڈیا پانچ ریاستوں میں انتخابات 01 March, 2006 | انڈیا آسام کے انتخابات میں پولنگ شروع03 April, 2006 | انڈیا کیرالا انتخابات اور عوامی مسائل 27 April, 2006 | انڈیا بہار پنچایتی انتخابات: ایک خاموش انقلاب07 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||