BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 April, 2006, 23:10 GMT 04:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریاست بہار کے پنچایتی انتخابات

بہار کے ووٹروں کو ملک میں سیاسی طور پر سب سے باشعور سمجھا جاتا ہے
منشی پریم چند نے پنچوں کو ’پرمیشور‘ کادرجہ دیا تھا مگر آئندہ ماہ بہار میں ہونے والے پنچایتی انتخابات میں پنچ کے ہزاروں عہدوں کے لیۓ کوئی دعویدار نہیں مل سکا ہے اور یہی حال گرام پنچایت ممبری کا بھی ہے۔

دو سے آٹھ مئی کے درمیان ہونے والے پنچایتی انتخابات میں لوگوں کی عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نوے ہزار سے زائدامیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو گئے ہیں جبکہ تقریبا اکتیس ہزار نششتیں اب بھی خالی پڑی ہیں۔ ان دونوں عہدوں کے لیۓ ریاست میں تقریباً دو لاکھ تیس ہزار نششتیں ہیں۔

ریاست میں الیکشن کمیشن کےسکریٹری رگھونش کمار سنہا کا کہنا ہے کہ ان سیٹوں کے لیۓ پنچایتی انتخابات مکمل ہونے کے بعد دوسری نشستوں کے لییے دوبارہ انتخابی عمل شروع کیا جائے گا۔

پنچایتی راج میں ایک ادارہ گرام کچہری یعنی گاؤں کی کچہری کا ہوتا ہے۔اس کے لیۓ پنچوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔اس عہدے کے لیۓ ایک لاکھ چودہ ہزار سات سو نششتیس ہیں۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے ذریعہ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تئیس ہزار نششتوں پر کسی نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور ستاون ہزار نششتوں پر بلا مقابلہ انتخاب ہوا ہے۔

پنچایتی راج متعارف کرانے میں ناکامی
 حکومت محض کورٹ کے احکامات کی خانہ پری میں لگی ہے اور وہ صحیح طریقے سے پنچایتی راج کو لوگوں میں متعارف کرنے میں ناکام رہی ہے۔
گاندھیائی مفکر رضی احمد
معروف گاندھیائی مفکراور پٹنہ میں گاندھی میوزیم کے سکریٹری رضی احمد کا کہنا ہے کہ گاندھی اور پریم چند کی پنچایت آج کی پنچایت سے بالکل الگ ہے۔’حکومت محض کورٹ کے احکامات کی خانہ پری میں لگی ہے اور وہ صحیح طریقے سے پنچایتی راج کو لوگوں میں متعارف کرنے میں ناکام رہی ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ گاؤں کے لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ پیسے والا عہدہ کون سا ہے۔ جبکہ انتظامیہ نے پنچ کے کردار کو اہمیت واضح کرنے میں کبھی دلچسپی نہیں دکھائی ہے۔

ریاست کے وزیر برائے پنچایتی راج نریندر نارائن یادو کہتے ہیں کہ ان کی حکومت ابھی نئی ہے لیکن انتظامیہ یہ چاہتی ہے کہ ’گرام کچہری‘ اچھی طرح کام کرے تاکہ لوگ چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کے چکر میں تھانہ پولیس تک نہ جائیں۔ ان پنچوں کی مدد کے لیۓ لاءگریجیویٹس کو بطور’نیائے متر‘ یعنی قانون دوست کی حیثیت سے رکھنے کا بھی منصوبہ ہے۔

مسٹر نریندر کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات ایک طویل وقفے کے بعد ہو ر ہے ہیں اسی لیے لوگوں میں دلچسپی کم ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دفعہ تئیس برسوں کے بعد پنچایت کے انتخابات ہوئے تھے اور پنچ۔سرپنچ کا انتخاب تو اٹھائیس سالوں کے بعد ہو رہا ہے۔

ایشین ڈیویلپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری سیبال گپتا کہتے ہیں کہ گاؤں کی پنچایتوں میں مکھیہ کو کو کافی اختیار دیے گئے ہیں اور سارے ترقیاتی کام مکھیا کے ہاتھوں میں ہیں، اسی لیۓ مکھیا بننے میں دلچسپی ہے اور اسی کے لیے ساری کوششیں ہوتی ہیں۔

رضی احمد کہتے ہیں کہ پنچایت میں پنچوں کی اس حیثیت کو واضح اور تسلیم کرانے میں ابھی تین چار اور الیکشن درکار ہوں گے۔

ایک دور کا خاتمہ
بہار میں لالو یادو کی پارٹی 15 سال چھائی رہی
نتیش کمار لالو کی جگہ نتیش
بہار میں نتیش کمار کی مقبولیت میں اضافہ
بہار کی خواتین(فائل فوٹو)’خواتین مکھیا‘
بہار میں سرپنچ کی آدھی نشستیں خواتین کے لیئے
مجرمجرم چھوڑو پیسے لو
بہار میں جرائم کے خلاف انوکھی اسکیم کا آغاز
گجرات کے فسادات (فائل فوٹو)فسادات کی سیاست
بھاگلپور کے فسادات پر دوبارہ تحقیقات کا حکم
اسی بارے میں
جرم چھوڑو پیسے لو
28 March, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد