ریاست بہار کے پنچایتی انتخابات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منشی پریم چند نے پنچوں کو ’پرمیشور‘ کادرجہ دیا تھا مگر آئندہ ماہ بہار میں ہونے والے پنچایتی انتخابات میں پنچ کے ہزاروں عہدوں کے لیۓ کوئی دعویدار نہیں مل سکا ہے اور یہی حال گرام پنچایت ممبری کا بھی ہے۔ دو سے آٹھ مئی کے درمیان ہونے والے پنچایتی انتخابات میں لوگوں کی عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نوے ہزار سے زائدامیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو گئے ہیں جبکہ تقریبا اکتیس ہزار نششتیں اب بھی خالی پڑی ہیں۔ ان دونوں عہدوں کے لیۓ ریاست میں تقریباً دو لاکھ تیس ہزار نششتیں ہیں۔ ریاست میں الیکشن کمیشن کےسکریٹری رگھونش کمار سنہا کا کہنا ہے کہ ان سیٹوں کے لیۓ پنچایتی انتخابات مکمل ہونے کے بعد دوسری نشستوں کے لییے دوبارہ انتخابی عمل شروع کیا جائے گا۔ پنچایتی راج میں ایک ادارہ گرام کچہری یعنی گاؤں کی کچہری کا ہوتا ہے۔اس کے لیۓ پنچوں کا انتخاب کیا جا رہا ہے۔اس عہدے کے لیۓ ایک لاکھ چودہ ہزار سات سو نششتیس ہیں۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے ذریعہ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے تئیس ہزار نششتوں پر کسی نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی اور ستاون ہزار نششتوں پر بلا مقابلہ انتخاب ہوا ہے۔
ریاست کے وزیر برائے پنچایتی راج نریندر نارائن یادو کہتے ہیں کہ ان کی حکومت ابھی نئی ہے لیکن انتظامیہ یہ چاہتی ہے کہ ’گرام کچہری‘ اچھی طرح کام کرے تاکہ لوگ چھوٹے چھوٹے جھگڑوں کے چکر میں تھانہ پولیس تک نہ جائیں۔ ان پنچوں کی مدد کے لیۓ لاءگریجیویٹس کو بطور’نیائے متر‘ یعنی قانون دوست کی حیثیت سے رکھنے کا بھی منصوبہ ہے۔ مسٹر نریندر کا کہنا ہے کہ یہ انتخابات ایک طویل وقفے کے بعد ہو ر ہے ہیں اسی لیے لوگوں میں دلچسپی کم ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دفعہ تئیس برسوں کے بعد پنچایت کے انتخابات ہوئے تھے اور پنچ۔سرپنچ کا انتخاب تو اٹھائیس سالوں کے بعد ہو رہا ہے۔ ایشین ڈیویلپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری سیبال گپتا کہتے ہیں کہ گاؤں کی پنچایتوں میں مکھیہ کو کو کافی اختیار دیے گئے ہیں اور سارے ترقیاتی کام مکھیا کے ہاتھوں میں ہیں، اسی لیۓ مکھیا بننے میں دلچسپی ہے اور اسی کے لیے ساری کوششیں ہوتی ہیں۔ رضی احمد کہتے ہیں کہ پنچایت میں پنچوں کی اس حیثیت کو واضح اور تسلیم کرانے میں ابھی تین چار اور الیکشن درکار ہوں گے۔ |
اسی بارے میں بہار میں انتخابی سرگرمیاں شروع24 September, 2005 | انڈیا بہار میں ریاستی اسمبلی کے انتخاب18 October, 2005 | انڈیا بہار میں انتخابات کا تیسرا مرحلہ13 November, 2005 | انڈیا بدعنوانی: بہار میں وزیر کا استعفیٰ25 November, 2005 | انڈیا ’بہاراسمبلی کی تحلیل غیر آئینی‘24 January, 2006 | انڈیا بہار: مجرموں پر ویب سائٹ 12 March, 2006 | انڈیا جرم چھوڑو پیسے لو 28 March, 2006 | انڈیا بہار: ڈاک خانوں میں چائے اور کنڈوم01 April, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||