BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 March, 2006, 15:02 GMT 20:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جرم چھوڑو پیسے لو

پولیس کے ریکارڈ کے مطابق بہار میں ہر دوگھنٹوں میں اوسطاً ایک قتل ہوتا ہے۔
پولیس کے ریکارڈ کے مطابق بہار میں ہر دوگھنٹوں میں اوسطاً ایک قتل ہوتا ہے۔
بہار کی حکومت نے ریاست میں جرائم پر قابو پانے کی غرض سے ایک انوکھی سکیم متعارف کرائی ہے جس کے تحت مجرموں کو ہتھیار ڈالنے اور جرم چھوڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے مالی معاوضے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔

جرائم کے اعتبار سے بہار ملک کی بدترین ریاست تصور کی جاتی ہے ۔ پولیس کے ریکارڈ کے مطابق یہاں ہر دوگھنٹوں میں اوسطاً ایک قتل ہوتا ہے ، ہر چھ گھنٹوں میں ایک آبروریزی اور ہر روز ایک بینک لوٹا جاتاہے ۔

نئی سکیم کے تحت حکومت نے ہتھیار ڈالنے کے لیے مجرموں کو دس دس ہزار روپوں کی پیشکش کی ہے۔ ساتھ ہی ہتھیار ڈالنے والے کو ہر مہینے الاؤنس کے طور پر تین ہزار روپے دیے جائیں گے۔

یہی نہیں بلکہ ہتھیار ڈالتے وقت جرائم پیشہ افراد جو ہتھیار جمع کرائیں گے حکومت ان کا بھی معاوضہ دے گی۔

سکیم کے ساتھ ہتھیاروں کے جو ریٹ طے کیے گۓ ہیں ان کے مطابق راکٹ لانچر، لائٹ مشین گن اور رائفل کے لیے پچیس ہزار روپے، اے کے 47 کے لیے پندرہ ہزار اور پستول، ریوالور اور پرانی رائفلو ں کے لیے تین ہزار روپے دیے جائیں گے۔

یہ سکیم بظاہر کامیاب ہوتی ہوئی نظر آتی ہے کیونکہ اس کے تحت سپول اور مدھیہ پورہ میں 191 مجرم وزیراعلی نتیش کمار کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں۔ان مجرموں نے معاوضے لے کر تقریبا 90 ہتھیار بھی جمع کرائے ہیں۔

بہار میں ہتھیاروں کے ریٹ
 بہار میں ہتھیاروں کے جو سرکاری ریٹ مقرر کیے گئے ہیں ان کے مطابق راکٹ لانچر، لائٹ مشین گن اور رائفل پچیس ہزار روپے، اے کے 47 پندرہ ہزار اور پستول، ریوالور اور پرانی رائفلو ں کے تین ہزار روپے

ریاست کے اعلی پولیس افسر انل کمار سنہا کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے کے باوجود ان لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا ئےگی۔

وزیراعلی نتیش کمار کا کہنا ہے کہ مجرموں کو پیسے دے کر خود کو قانون کے حوالے کرنے پر آمادہ کرنے کی یہ سکیم ریاست کی امن و قانون کی خراب صورتحال کو قابو میں کرنے کا ایک راستہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے ذریعے مجرموں کو یہ پیغام پہنچانا ہے کہ وہ خود کو قانون کے حوالے کر دیں ورنہ پولیس ان کا خاتمہ کرے گی۔ اس پیغام کے نتیجے سامنے آنے لگے ہیں‘۔

نتیش کمار نومبر میں وزیراعلی کے عہدے پر فائز ہوئے تھے اور پولیس کے مطابق ان کے پہلے 100 دن کے اقتدار کے دوران ریا ست میں اغوا کی 141 وارداتیں اور400 قتل ہوئے۔

امن و قانون کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ بہار کو ہندوستان میں اغواء کا دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق 1992 سے ریا ست میں اغواء کی تیس ہزار سے زیادہ وارداتیں ہو چکی ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کی نئی پا لیسی کی مخالفت کر رہی ہیں۔ راشٹریہ جنتا دل کے سینیر رہنما شکونی چودھری نے اسکیم کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا ’جرم کرو، ہتھیار ڈالو اور حکومت سے تین ہزار روپے کی تنخواہ لو‘۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جرم کی زندگیاں ختم کرنے کے ایک وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے ۔

بہار پولیس کے سربراہ ابھیانند نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے ہتھیار ڈالنے والے ہر مجرم کو سے نئی زندگی شروع کرانے کے لیے دو لاکھ روپے کی رقم مختص کی ہے۔ اس رقم کا ایک تہائی حکومت دے گی جبکہ باقی بینک قرض کی شکل میں دیں گے۔

ڈائریکٹر جنرل پولیس نے یہ بھی بتایا کہ یہ رقم ایک بینک میں جمع کی جائے گی جو ہتھیار ڈالنے والے مجرم اور اس کے گھر کے کسی فرد کے مشترکہ کھاتے میں رہے گی۔ اس کھاتے سے ہر مہینے کتنی رقم نکالی جا سکتی ہے اس کی بھی ایک حد مقرر کی گی ہے۔

اغواؤں کا دارالحکومت
 بہار کو ہندوستان میں اغواء کی واداتوں کا دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق 1992 سے ریا ست میں اغواء کی تیس ہزار سے زیادہ وارداتیں ہو چکی ہیں

حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ ان مجرموں کے بچوں کی پرائمری تعلیم کے
اخراجات بھی اٹھائے گی۔

کئی تجزیہ کاروں نے اندیشہ ظاہر کیا ہے اس طرح کی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لئے بہت سے شریف لوگ جرم کا رخ کر سکتے ہیں لیکن پولیس کے سربراہ ابھیا نند کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات سے بچنے کے لیے حکومت ہتھیار ڈالنے والے مجرموں کی تفصیلات کا بغور جائزہ لے گی۔ ’یہ بات یاد رکھیے کہ ہتھیار ڈالنے والے مجرموں کو ہر حال میں عدالت کا بھی سامنا کرنا ہوگا‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد