BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 December, 2005, 07:45 GMT 12:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار پولیس حلیہ درست کرے: نتیش

پولیس
پولیس والوں کو چاق و چوپند نظر آنے کے لیے سالانہ 2600 روپے دینے کا اعلان کیا ہے
سر پر منکی کیپ اور کمر میں دھوتی لپیٹے کوئی شخص کیا پولیس کا جوان ہو سکتا ہے؟۔

بہار پولیس کے اعلیٰ حکام اپنے جوانوں کی ایسی ہی شکل و شباہت سے پریشان ہیں اور خود وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو کہنا پڑا ہے کہ پولیس کے سپاہی اور افسران پولیس مینیول کے مطابق اپنے یونیفارم میں رہیں۔

ریاست کے چیف سیکرٹری جی ایس کنگ نے پولیس والوں کو چاق و چوپند نظر آنے کے لیے سالانہ چھبیس سو روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔

ان پیسوں سے پولس والے اپنی ضرورت کے مطابق از خود وردی، جوتے، بیلٹ اور گھڑی وغیرہ خرید سکیں گے۔

فی الوقت جوتے اور کپڑے وغیرہ حکومت کی جانب سے دیے جاتے تھے مگر کئی بار کپڑے بڑے یا چھوٹے ملنے کی شکایت ملتی تھی۔ اس وجہ سے پیسے خرچ ہونے کے باوجود پولس والے ڈھیلے ڈھالے لباس میں نظر آتے تھے۔

نتیش کمار کا کہناہے کہ تبدیلی صرف پولیس کی کارگردگی میں نہیں اس کے ظاہری حلیے میں بھی ضروری ہے۔

ذرائع کے مطابق نتیش کمار نے حال ہی میں پولیس حکام کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران یہ شکایت کی تھی کہ پولیس والے جس حلیے میں رہتے ہیں وہ انہیں جوکر جیسا بنا دیتی ہے۔

بہار پولیس نے حال ہی میں ریاست کے تمام اضلاع میں وائرلیس پیغام کے ذریعے یہ ہدایت دی ہے کہ پولیس کے جوان اور افسران اپنی ’لک’ کو درست کریں۔

اس پیغام کے مطابق بے ترتیب بال اور داڑھی اب نہیں چلے گی۔ داڑھی روزانہ بنانی ہوگی اور بال بھی چھوٹے رکھنے ہوں گے۔

اس پیغام کے مطابق سردی کو وجہ بتا کر گلے میں مفلر اور ہائی نیک بنیان پہننے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ ماتھے پر ٹیکا لگانا بھی بعض پولیس والوں کے شوق میں شامل ہے۔ اب اس کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عہدے پر فائز پولیس افسران کو بھی وردی ہی میں دفتر آنا چاہیے۔ ان افسران کے روزمرہ کے لباس میں دفتر آنے سے ان کے ماتحت بھی ایسی ہی رعایت حاصل کرتے ہیں۔

نتیش کمار کا کہنا ہے کہ وردی پولیس کی شان ہے اور پولیس والوں کو اسے زیب تن کرنے میں فخر ہونا چاہیے۔

بہار میں دیگر جگہوں کی طرح توند والے پولیس جوانوں کے تو کئی بار یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس پر قابو پا لیں۔

پولیس والوں کی توند تو اب بھی نظر آتی ہے۔ یہ بات دیکھنے کی ہوگی تازہ ہدایت کے بعد پولیس ’لک’ میں کتنی تبدیلی آتی ہے۔ تازہ ہدایت میں یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اگر ان احکامات پر عمل نہیں کیا گیا تو ضابطے کی کارروائی ہوگی۔

اسی بارے میں
کے پی ایس گِل قصوروار
27 July, 2005 | انڈیا
پنچولی کے پولیس سمن جاری
15 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد