کے پی ایس گِل قصوروار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کے سابق سربراہ کے پی ایس گِل کو ایک خاتون افسر روپن دیول بجاج کے ساتھ نازیبا حرکت کرنے کا قصوروار قرار دیا ہے۔ اس سے قبل پنجاب کی ہائی کورٹ بھی انہیں قصوروار قرار دے چکی ہے۔ یہ معاملہ انیس سو اٹھاسی کا ہے ۔ اس وقت مسٹر گل پنجاب پولیس کے سربراہ تھے۔ ان پر ایک ڈنر پارٹی میں نشے کی حالت میں محترمہ بجاج کو نازیبا طریقے سے پکڑنے کا الزام تھا۔ مسٹر گل کو چندی گڑھ کی ایک عدالت نے دو لاکھ روپے محترمہ بجاج کو دینے اور قانونی کارروائی کے اخراجات کے لئے مزید پچاس ہزار روپے اداکرنے کا حکم دیا تھا۔ گل کو ہائی کورٹ نے ایک مہینے کی قید کی سزا بھی سنائی تھی لیکن اس واقع کے بعد اچھے برتاؤ کے سبب یہ سزا معطل کر دی گئی۔ سپریم کورٹ نےاپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ کسی تقریب یا عوامی جگہ پر جا کر شراب نہ پیئيں۔ کے پی ایس گل جس وقت ریاستی پولیس کے سربراہ تھے اس وقت پنجاب میں سکھ علحیدگی پسندی کی تحریک عروج پر تھی۔ شدت پسندی کو ختم کرنے میں مسٹر گل نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ اس وقت ہندوستان ہاکی فیڈریشن کے صدر ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||