بھارت کا پانچ سالہ پولیس افسر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جس عمر میں عموماً بچے اسکول جاتے ہیں اس عمر میں پانچ سالہ سورابھ نگ ونشی بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ کے دارلحکومت رائے پور میں پولیس سٹیشن جانے کی تیاری کرتا ہے۔ سورابھ کی والدہ ایشواری دیوی نگ ونشی کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا انتہائی افسوس ہے کہ جس عمر میں بچے کھیلتے کودتے ہیں، سورابھ کو پولیس سٹیشن میں کام کرنا پڑتا ہے۔مگر انہوں نے یہ فیصلہ اپنے گھر کی معاشی حالات سے مجبور ہوکر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سورابھ انتہائی خاموش بچہ ہے اور اکثر لوگوں سے گھبرا کر ان کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق اگر کسی سرکاری ملازم کی موت ہوجاتی ہے تو اس شخص کے خاندان کا کوئی فرد بھی چاہے اس کی عمر جو بھی ہو اس کی جگہ پر کام کرسکتا ہے۔ سورابھ کے گھر میں موجود پانچ افراد ہیں جن کے کھانے پینے کی ذمہ داری اس چھوتے سے بچے کے اوپر ہے۔ سورابھ کی والدہ روزانہ اس کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے گاؤں بیلاس سے رائے پور تھانے سے جو کہ تقریبا ً68میل کے فاصلے پر ہے پہچناتی ہیں۔ پولیس کی اس نوکری میں بچوں کو ایک دن کام کی اور ایک دن اسکول جانے کی اجازت ہوتی ہے۔ پولیس تھانے میں ان بچوں سے کاغذات فائل کروانے کے ساتھ ساتھ سینئرز کو چائے پانی پلانے جیسے کام بھی کرنے پڑتے ہیں۔ اسکول میں بچے اپنا نام لکھنا سیکھتے ہیں سورابھ اپنے تنخواہ پر دستخط کرتے ہیں۔ پولیس کی اس ملازمت میں ان بچوں کو ماہنہ ڈھائی ہزار روپے ملتے ہیں۔ بھارت میں اپنے والد کے انتقال کے بعد کئ بچے سورابھ کی طرح پولیس کی ملازمت کرتے ہیں۔
کوربا کے پولیس سٹیشن میں کام کرنے والے دس سالہ منیش کھونٹے کا کہنا ہے کہ وہ ایک دن پولیس انسپکٹر بنے گے۔ منیش جن کی تنخواہ دو ہزار چار سو روپے ہے کہتے ہیں کہ پولیس کی نوکری کرنے سے ان کے دوست ان کی عزت کرتے ہیں اور انہیں ،پولیس افسر کہتے ہیں۔ منیش نوکری کرنے کے علاوہ اپنے دو بھائیوں کے ساتھ اسکول میں پڑھتے بھی ہیں۔ انہیں فٹ بال کیھلنے کا بہت شوق ہے لیکن وقت کی کمی کے باعث وہ اپنا یہ شوق پورا نہیں کر سکتے۔ بارہ سالہ جیتش سنگھ اور اٹھارہ سالہ جنکھی پرساد راجوڑے دونوں پولیس کی اس نوکری کو جلد از جلد چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں فائلنگ اور صرف چائے پلانا کوئی اچھا کام نہیں اور اس سے وہ کوئی ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔ جنکھی پرساد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھارت کی مرکزی پولیس سروس میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ بھارتی ریلوے کے سپرنٹنڈنٹ پاون دیو نے سماجی نکتۂ نظر سے بچوں کی پولیسں میں ملازمت کو بہتر کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نوکری سے انہیں جو پیسے ملتے ہیں وہ کام کے اعتبار سے زیادہ نہیں ہوتے لیکن ان کے گھر والوں کو کچھ نہ کچھ سہولت ضرور فراہم کر تے ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن کے ایک رکن سوبھاش مشرا کا کہنا ہے کہ بچوں سے ایسا کام کرانا درست نہیں۔ سوبھاش مشرا کے مطابق جن خاندانوں کے سربراہوں کا انتقال ہوجاتا ہے ان کے بچوں کو تعلیم کے لیے حکومت کو مدد کرنی چاہیے۔ انسانی حقوق کمیشن کے صدر سوبھاش ماہپڑہ نے جنیوا کانفرنس میں پولیس کی اس ملازمت کی مخالفت کر تے ہوئے کہا ہے بچوں سے ایسی نوکری کروانا بھارت اور عالمی دونوں کے قوانین کے خلاف ہے۔ ان کا ہے کہ یہ ایسی ہی خلاف ورزی ہے جیسی کہ بچوں کو فوجی بنانے کے خلاف اقوام ِمتحدہ کی تعریف کی خلاف ورزی کی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||