BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 July, 2004, 07:48 GMT 12:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آتشزدگی میں بچوں کی ہلاکت
نوے بچے ہلاک ہوئے
نوے بچے ہلاک ہوئے
تامل ناڈو کے پرائمری سکول میں جمعہ کو آتشزدگی کے واقعہ میں نوے بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔ سنیچر کے روز ان بچوں کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ کچھ والدین اپنے بچوں کو نجی اسپتالوں میں بھی لے گئے ہیں اور ان کے بارے میں انہیں کچھ علم نہیں۔

پولیس نے سکول کے ہیڈماسٹر کو گرفتار کرلیا ہے۔ آتشزدگی کے وقت سکول میں دو سو بچے موجود تھے۔

آپ کے خیال میں کیا کرنا چاہئے؟ اس طرح کے واقعات روکنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

بابر راجہ، جاپان:
بچے انڈیا کے ہوں یا پاکستان کے، قوموں کی امانت ہوتے ہیں۔ میری انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں سے اپیل ہے کہ خدارا آپس میں جھگڑا چھوڑ کر تعلیم کو عام کرنے کی کوشش کریں۔ جو پیسہ ہم فوج پر لگاتے ہیں وہ سکولوں پر لگایا جائے تو اس طرح کے حالات کبھی پیدا نہ ہوں گے۔

طاہر زمان، ٹیکساس:
یہ وقت ہے کہ ان بچوں کے ماں باپ کی آگے بڑھ کر اخلاقی اور مالی مدد کی جائے۔

رہنما اور ادارے کہاں ہیں؟
 عوامی مقامات، اور پرہجوم اداروں کی حفاظت رہنماؤں اور حکمرانوں ہی کی ذمہ داری ہے۔ پھر اس کی ذمہ داری دنیا کے ان اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کی ذمہ داری بھی ہے جو ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔
یش پال دوانی، کندھ کوٹ

یش پال دوانی، کندھ کوٹ، پاکستان:
اس خوفناک حادثے سے شاید ہی کسی سیاسی رہنما یا حکمران کے دل پر کوئی اثر ہوا ہو۔ عوامی مقامات، اور پرہجوم اداروں کی حفاظت رہنماؤں اور حکمرانوں ہی کی ذمہ داری ہے۔ پھر اس کی ذمہ داری دنیا کے ان اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کی ذمہ داری بھی ہے جو ان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔

عفاف سہیل، سکاربرو، کینیڈا:
بہت ہہی دکھ کی بات ہے اور افسوس ہوا کہ ذمہ دار افراد کی غفلت کی سزا معصوم بچوں کو بھگتنا پڑی۔ پتہ نہیں انسانیت کیوں دنیا سے اٹھ گئی ہے اور خون اور پانی میں کوئی فرق نہیں رہا۔

حمزہ محمود، امریکہ:
یہ واقعہ نہایت افسوس ناک ہے۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ اس میں چھوٹے چھوٹے بچے متاثر ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ پاکستانی سکول بھی اس واقعے سے سبق لیتے ہوئے بچوں کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی تیاری کریں گے۔ بچوں کے روتے ہوئے والدین کو دیکھ کر انسانیت کا احساس بھی ہوا اور غصہ بھی آیا کہ ایسے حادثات میں ہمیشہ بے چارے غریب ہی مارے جاتے ہیں۔

محمد یوسف، لاڑکانہ، پاکستان:
انتہائی دکھ کی بات ہے کہ سکول انتظامیہ کی تھوڑی سی غلطی کی وجہ سے یہ اتنا برا حادثہ ہوا۔ اس غفلت پر سکول انتظامیہ کو سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔

شعیب بٹ، چکوال:
یہ بہت برا ہوا۔ اس مجرمانہ غفلت کی ذمہ دار افراد کو سخت سزا دینی چاہئے۔

عارف جبار، میرپور خاص:
یہ اتہائی افسوس ناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم ان معصوم بچوں کے ورثا کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

وجاہت فیروز، ٹورنٹو:
انتہائی دکھ کی بات ہے۔ اللہ ورثا کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ انڈیا کی حکومت کو تمام نااہل لوگوں کے لئے سخت سزا کا اعلان کرنا چاہئے تاکہ آئندہ کوئی غفلت نہ برتے۔ تمام پاکستانی عوام وررثا کے غم میں شریک ہیں۔

شاہزیم راجہ، کراچی:
بہت افسوس ناک واقعہ ہے۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ تیسری دنیا کا المیہ ہے کہ یہاں زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

عبدلصمد، اوسلو:
ہندوستان میں سزائے موت کا قانون تو رائج ہے۔ صرف عبرت کے طور پر اس قانون کو استعمال کرتے ہوئے تمام انتظامیہ کو سزائے موت دے دی جائے۔

حکومت سے توقع فضول ہے
 خواہ انڈیا ہو یا پاکستان، یہاں انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ دونوں ممالک میں تعلیم کا شعبہ خاصا پسماندہ ہے۔ ایسی صورت میں حکومت سے یہ امید رکھنا کہ وہ کچھ کرے گی، فضول ہے۔
کنول زہرہ، لاہور، پاکستان

کنول زہرہ، لاہور، پاکستان:
خواہ انڈیا ہو یا پاکستان، یہاں انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ دونوں ممالک میں تعلیم کا شعبہ خاصا پسماندہ ہے۔ ایسی صورت میں حکومت سے یہ امید رکھنا کہ وہ کچھ کرے گی، فضول ہے۔ ان واقعات کو روکنے کے لئے لوگوں میں خود اپنے تحفظ کے لئے شعور بیدار کرنا ہوگا۔

زاہدہ علی، سویڈن:
انتہائی افسوس ناک بات ہے۔ بچے ہمارا مستقبل ہیں اور ان کی حفاظت ہم پر فرض ہے۔ سکولوں کو محفوظ بنانا چاہئے۔

سعید خٹک، نوشہرہ:
اس واقعے کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ میں ان والدین کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں جن کے بچوں سے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا۔ نجی سکول صرف پیسہ بٹورنے کے چکر میں ہوتے ہیں۔ اس سکول کی انتظامیہ کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دینی چاہئے۔

کرشنا مورتی، حیدرآباد دکن:
اسی اسکول سے سو کلومیٹر کی دوری پر اسی طرح کا ایک واقعہ گزشتہ تئیس جنوری کو ہوا۔ سری رنگم کے مقام پر شادی کی ایک تقریب میں آتشزدگی سے چھیالیس لوگ ہلاک ہوگئے جن میں دلہن بھی تھی۔

آشیش پجاری، کینیڈا:
کافی صدمے کی بات ہے۔ جب تک ہمارے معاشرے میں زندگی کو اہمیت نہیں دی جاتی اس وقت تک کسی قانون سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

سنیل راجن، امریکہ:
میں نہیں سمجھتا کہ یہ صرف انڈیا کا مسئلہ ہے۔ یہ ساری دنیا میں ہورہا ہے۔ نقصان غریب لوگوں کا ہی ہورہا ہے۔

آنند رامچدرن:
تامل ناڈو کے تمام پبلِک مقامات پر سیفٹی اسٹنڈرڈ لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈینس او برائن، امریکہ:
یہ سانحہ انیس سو اٹھاون میں شیکاگو کے سکول میں آتشزدگی کے واقعے جیسا ہی ہے جس میں پچانوے بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ اس وقت حکومت نے یہاں کے سترہ ہزار سکولوں میں حفاظتی انتظامات سخت کردیے تھے۔ مجھے امید ہے کہ انڈیا کی حکومت ایسے اقدامات کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد