90 بچوں کی آخری رسومات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تامل ناڈو کے پرائمری سکول میں جمعہ کو آتشزدگی کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے نوے بچوں کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ کچھ والدین اپنے بچوں کو نجی اسپتالوں میں بھی لے گئے ہیں اور ان کے بارے میں انہیں کچھ علم نہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں میں بیشتر کی عمریں نو سے دس برس کے درمیان ہیں جن میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔ بیس بچے آگ کے سبب بری طرح جھلس گئے جنہیں ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔ سکول کی سیڑھیاں تنگ ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا رہا۔
پولیس نے سکول کے ہیڈ ٹیچر پلوار پلانیچمی کو حراست میں لینے کے بعد کہا ہے کہ وہ ان کے خلاف کوتاہی اور غفلت برتنے کے الزامات میں مقدمہ درج کرنا چاہتی ہے۔ فرانسیسی خبراں رساں ادارے نے ضلع حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ سکول کی ہیڈ ٹیچر کے علاور چار دیگر اہلکاروں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ ان میں سکول کے دو منتظم اور سکول کی رسوئی کا باورچی شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ آگ باورچی خانہ میں چنگاریاں پھوٹنے کے سبب لگی۔ اس واقعہ کے سبب سکولوں میں آگ پر کنٹرول پانے کے لیے اقدامات کو معیاری بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے اس واقعہ پر صدمے اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کو تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں۔ زخمی ہونے والے ایک بچے نے بتایا کہ ان کے پانچ اساتذہ آگ لگنے کے بعد بچوں کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ مرنے والے بچوں میں سے دو بچوں کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے اور بیٹی کو سکول پہنچنے میں دیر ہو گئی تھی اور انہوں نے چوکیدار سے زبردستی سکول کا دروازہ کھلوا کر انہیں سکول میں داخل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ زبردستی نہ کرتے تو ان کے بچے زندہ ہوتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||