کشمیر کا تاریخی سکول نذرِ آتش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں ایک اسکول کی قدیم عمارت آگ لگنے سے تباہ ہوگئی ہے۔ تاہم اس واقعہ میں کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ اٹھارہ سو ننانوے میں تعمیر ہونے والے اس سکول میں تقریباً ڈھائی ہزار طلباء زیر تعلیم تھے۔ اینٹوں اور لکڑی سے بنی اسلامیہ ہائی سکول کی یہ عمارت ایک سو پندرہ سال پرانی تھی اور متعدد نامور سیاستدان اور دانشور اس سکول میں زیر تعلیم رہ چکے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی اور لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے بازاروں میں دکانیں بند کروا دیں۔ دیگر سکولوں کے سینکڑوں طلباء نے بھی مظاہروں میں حصہ لیا۔
مظاہرین پر قابو پانے کے لیے پولیس اور پیرا ملٹری فورسز تعینات کر دی گئی ہیں۔ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سکول کو آگ لگنے کی وجوہات کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ کشمیر میں علیحدگی پسند سیاسی تنظیم آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ اور ممتاز مذہبی رہنما عمر فاروق کا، جو اس سکول کے روح رواں ہیں، کہنا ہے کہ سکول کو نذرِ آتش کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔ سکول کو آگ لگنے کے بعد حریت کانفرنس نے ہنگامی اجلاس طلب کیا اور عمر فاروق کی سیاسی جماعت عوامی ایکشن کمیٹی نے منگل کو عام ہڑتال کرنے کی اپیل کی ہے۔ سکول سے ملحقہ عمارت میں رہائش پذیر محمد حسین نے کہا کہ ’میں اس وقت صدمے کی کیفیت میں ہوں۔ سکول کے بائیں حصے میں صبح سویرے آگ بھڑک اٹھی اور آن کی آن میں پوری عمارت اس کی لپیٹ میں آ گئی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||