BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 June, 2004, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر باڑ: پاکستان کی تردید
بھارتی فوجی
پاکستان خاردار تار کی باڑ کو غیرقانونی کہتا رہا ہے۔
پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر باڑ کی تعمیر پاکستان اور بھارت کے مابین موجود معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

اس سے قبل بھارت کے وزیر دفاع پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر باڑ لگانے کے معاملے پر بھارت کو پاکستان کی خاموش رضامندی حاصل ہے۔

پرنب مکھرجی نے سری نگر میں اخباری کانفرنس کو بتایا کہ باڑ لگانے کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے سوائے چند ایک ٹکڑیوں کے جہاں کام جاری ہے۔

پاکستان وزارت خارجہ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مسئلہ پر نہ تو پاکستان کی خاموش رضامندی ہے نہ ہی کھلی۔ مسعود خان کا کہنا تھا: ’ہم نے بارہا اس پر ہندوستان سے احتجاج کیا ہے۔ اور اقوام متحدہ کو بھی صورتحال سے آگاہ رکھا ہوا ہے۔‘

لائن آف کنٹرول ریاست جموں و کشمیر کو بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرتی ہے۔

جب مکھرجی سے پوچھا گیا کہ کیا باڑ کے معاملے پر پاکستان کی رضامندی حاصل کی گئی ہے تو انہوں نے کہا کہ سیزفائر کا مطلب ہے کہ مثبت سمت میں آگے بڑھا جائے۔

ان کا کہنا تھا: ’مذاکرات شروع کرنے کا مطلب ہے کہ اہم درست سمت میں جا رہے ہیں۔ میں ابھی سے نتائج اخذ نہیں کرنا چاہتا مگر تمام پیش رفت حوصلہ افزاہے۔‘

مسعود خان نے بی بی سی کو بتایا کہ سن اننچاس کے کراچی ایگریمنٹ جس کے تحت دونوں ملکوں نے سیزفائر لائن کا تعین کیا تھا، اور شملہ معاہدے کی شق چار (دو) کی رو سے دونوں ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ لائن آف کنٹرول کے اطراف ایسی کوئی سرگرمی نہ کی جائے جس سے اس جگہ کی حیثیت متاثر ہو۔

لائن آف کنٹرول پر باڑ لگانے کے کام میں اس وقت تیزی آگئی تھی جب گزشتہ برس پاکستان نے سیزفائر کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل پاکستانی فوج باڑ لگانے والوں پر گولہ باری کرتی رہی ہے۔

مکھرجی کا کہنا تھا کہ باڑ اور بھارتی فوج کی نگرانی سے ریاست میں دراندازی کو روکنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا عمل شروع ہوجانے سے کشیدگی کم ہوگی تاہم انہوں نے مستقبل قریب میں کشمیر میں بھارتی فوج میں کمی کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الحال بھارتی فوج کو حاصل غیرمعمولی اختیارات بھی برقرار رہیں گے۔

مکھرجی نے کہا کہ بھارت کے پاس ایسی خبریں ہیں کہ لائن آف کنٹرول کے پار شدت پسند موقع کی تاک میں ہیں لیکن بھارتی فوج کی نگرانی کی وجہ سے وہ اب تک اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد