BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 25 November, 2005, 11:35 GMT 16:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بدعنوانی: بہار میں وزیر کا استعفیٰ

وزیراعلیٰ نتیش کمار کے سامنے کئی چیلنج ہیں
وزیراعلیٰ نتیش کمار کے سامنے کئی چیلنج ہیں
بہار کی نئی حکومت کے ایک وزیر نے حلف لینے کے دوسرے ہی روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔ پچھلے طبقے سے تعلق رکھنے والے جیتن ماجھی نے گزشتہ روز ہی وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ حلف لیا تھا لیکن ان پر بدعنوانی کے الزامات ہیں اسی لے انہوں نے استعفی دیا ہے۔

بی جے پی کے قیادت والے این ڈی اے محاذ نے بہار انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ہی کہا تھا کہ ان کی حکومت میں ایسے ارکان کو وزارت نہیں دی جائے ی جن پر بد عنونی کے الزامات ہیں۔ نئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا ہے کہ ’میں نے پایا کہ ماجھی پر جعلی ڈگریاں بنانے کے بدعنونانی کے معاملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے اس لیے میں نے ان سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔‘

نامہ نگاروں نے جب نتیش کمار سے سوال کیا کہ مذکورہ وزیر کے متعلق بہت پہلے سے سبھی کو معلوم ہے تو پھر انہیں حلف کیوں دلایا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مانجھی ماضی میں ریاست کے وزیر تعلیم رہ چکے ہیں اورجعلی اسناد بنانے کے معاملے میں نام آنے پر انہوں نے استعفی دیدیا تھا۔

بدعنوانی کا معاملہ
 میں نے پایا کہ ماجھی پر جعلی ڈگریاں بنانے کے بدعنونانی کے معاملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے اس لیے میں نے ان سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔
وزیر اعلیٰ نتیش کمار

بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ این ڈی اے نے سوچی سمجھی چال کے تحت یہ قدم اٹھایا۔ پہلے اس نے مذکور شخص کو کابینہ میں لیا اور پھر اس مسئلے کو میڈیا میں اچھالنے کے لیے باہر کردیا تاکہ وہ داغی وزراء کے معاملے پر مرکزی حکومت پر مزید دباؤ بنا سکے۔ پارلیمنٹ میں این ڈی محاذ اکثر اس مسئلے کو زور شور سےاٹھاتا رہا ہے۔

نتیش کمار کا کہنا ہے کہ بہار میں امن و قانون کی صورت حال بہتر کرنا ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے لیکن یہ کام آسان نہیں ہے۔ بہار ملک کی غریب ترین ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں قتل، اغوا، ڈکیتی اورلوٹ مار جیسےجرائم عام بات ہے۔

بی جے پی اور جنتادل (یو) کی مخلوط حکومت نے اپنی باگ ڈور سنبھال لی ہے لیکن راستے اتنے آسان نہیں ہیں۔ گزشتہ روز ہی بی جے پی کے بہت سے ارکان نے کم وزارتیں ملنے پر زبر دست ہنگامہ آرائی کی تھی۔ نئی حکومت کی تشکیل کے موقع پرگجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی بھی بہار پہونچے ہوئے تھے لیکن انہیں اسٹیج پر نہیں بلایا گیا تھا۔ اور دوسرے ہی روز ایک وزیر نے استعفئی دیدیا ہے۔

اسی بارے میں
بہار -- ایک دور کا خاتمہ
23 November, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد