بہار: ڈاک خانوں میں چائے اور کنڈوم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاک خانوں اور ڈاکیوں کا کردار زمانے کے ساتھ کس قدر بدل رہا ہے اس کا اندازہ بہار اور جھارکھنڈ کے لوگوں کو جلد ہی ہوجائےگا جب انہیں ڈاک خانوں میں روزمرہ ضرورت کی اشیاء جنرل اسٹور کی مانند ملا کریں گی۔ صارفین کی ضرورت نمک ہو یا پھر باغان کی تازہ چائے کا شوق اسے ڈاک خانے سے با آسانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور تو اور کسی کو اگر کنڈوم کی ضرورت ہو تو اسے بھی ڈاکیہ پہنچانے کے لیئے تیار ملے گا۔ اب کسی دیہات میں ولادت کے لیئےضروری سامان مثلاً دستانے اور دھاگے کی ضرورت ہو تو یہ خدمت انجام دینے کے لۓ بھی ڈاکیہ حاضر ہوگا اور اس کے پاس اسہال کے دوران بچوں کو دیا جانے والا او۔آر۔ ایس کا پیکٹ بھی دستیاب ہوگا۔ بہار کے چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ایس پی سنگھ کہتے ہیں کہ کنڈوم وغیرہ فراہم کرنے کے لیئے متعلقہ تنظیم سے بات چیت چل رہی ہے۔ ان کے مطابق محکمۂ ڈاک اس کام کے لیےکمیشن بھی حاصل کرےگا۔ دوسری جانب جھارکھنڈ میں محکمہ ڈاک کے ایک اعلی اہلکار ایم مرانڈی نے بتایا کہ ڈاک خانوں میں مذکورہ اشیاء کی خرید و فروخت کے لیے خوبصورت کاؤنٹر لگائے جائیں گے۔ اس سکیم کے تحت عورتوں، بزرگوں اور دیگر لوگوں کے لیئے الگ الگ کاؤنٹر ہوں گے اور عورتوں کے کاؤنٹر پر میک اپ کے سامان کے ساتھ ساتھ ’پریگننسی ٹیسٹ کٹ‘ اور مانع حمل گولیاں بھی ملیں گی۔
جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں ڈاکیوں نے چائے کا کاروبار بھی شروع کر دیا ہے۔چائے کی یہ پتی آسام سے منگائی گئی ہے۔ ڈھائی سوگرام چائے کی پتی کی قیمت پچاس روپے ہے اور اس میں محکمہ ڈاک کو ساڑھے سات فی صد کمیشن ملے گا۔ جھاڑ کھنڈ پوسٹ کے ایک اور اہل کار انل کمار کہتے ہیں کہ چائے بیچنے سے نہ صرف منافع حاصل کیا جا سکے گا بلکہ لوگ چائے پیتے وقت ڈاکیے کو یاد کریں گے۔ وہ زمانہ تو کب کا گزر چکا جب ڈاکیہ صرف ڈاک اور منی آرڈر لانے کے لیئے جانا جاتا تھا۔ فی الوقت ڈاکیہ ٹیلیفون کے بل نہ صرف صارفین تک پہنچاتا ہے بلکہ بل کی رقم بھی وصولتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے لیئے اسے آٹھ روپے الگ سے دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہار کے ڈاک گھروں میں حال ہی سے موبائل فون کے ریچارج واؤچرز بھی بیچے جانے لگے ہیں اور کئی دیہات میں ڈاکیہ اپنے ساتھ وائرلیس فون سیٹ بھی لے جاتا ہے تاکہ ضرورت مند فون کال کر سکیں۔ | اسی بارے میں جرم چھوڑو پیسے لو 28 March, 2006 | انڈیا لیکن بنارس میں تو پان ہوتا ہی نہیں؟22 March, 2006 | انڈیا بچی، پولیس پرحملے کی’مجرم‘22 March, 2006 | انڈیا بہار: مجرموں پر ویب سائٹ 12 March, 2006 | انڈیا بہار: پچاس فیصد خواتین سرپنچ 11 March, 2006 | انڈیا بہار: گاؤں کا اپنا ایف ایم ریڈیو25 February, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||