بچی، پولیس پرحملے کی’مجرم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رانی پانڈے کی عمر صرف چھ سال ہے اور اس عمر میں ان پر ایک جرم کرنے کا الزام لگ چکا ہے۔ شمالی انڈیا کی ریاست بہار کی پولیس نے ان پر پولیس اہلکاروں پر حملے کرنے اور پولیس کی حراست سے اپنے والد کو فرار کروانے میں مدد دینے جیسے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس کے باوجود کہ انڈیا کے قانون کے تحت پولیس سات سال سے چھوٹے کسی بچے کے خلاف جرم کا مقدمہ درج نہیں کر سکتی۔ رانی کے پریشان حال والد بیر بہادر پانڈے کا کہنا ہے کہ جب پولیس نے یہ کیس داخل کیا تو رانی کی عمر دس بتائی جبکہ درحقیقت وہ محض چار سال کی تھی اور اتنی چھوٹی بچی کس طرح تین پولیس اہلکاروں پر حملہ کرکے اپنے والد کو فرار ہونے میں مدد دے سکتی ہے۔ رانی اس عمر میں لکھ نہیں سکتی چنانچہ اپنی ضمانت کے کاغذات پر اس کو انگوٹھے کا نشان لگانا پڑا۔ پولیس چیف اجیتھابھ کمارنے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم اس معاملے کی تحقیق کررہے ہیں کہ کس طرح ایک چار سال کی بچی کو پولیس والوں نے اس کیس میں ذمہ دار ٹھہرایا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کی جانچ بھی کی جارہی ہے کہ آیا مجرم کی شناخت میں پولیس والوں کو کوئی غلط فہمی تو نہیں ہو ئی اور آیا یہ کیس کسی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔اگر ایسا ہوا تواس میں ملوث افراد کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔
ان کے والد کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے وہ مقامی پولیس کی جیپ چلانے کے ساتھ پولیس کے لیے مجزی کا کام بھی کرتے تھے لیکن مجرمانہ گروہ سے تعلق رکھنے والے چند افراد کی دھمکیوں کے بعد انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا اور قرض لے کر ٹرک خریدنے کا فیصلہ کیا۔ ٹرک کے لیے انہوں نے تین لاکھ پچاس ہزار کی رقم بطور قرض لی لیکن قرض کی قسطیں ادا نہ کرنے پر فنانس کرنےوالی کمپنی نے ان کا ٹرک قبضے میں لے لیا اور ایک خط کے ذریعے انہیں نادہندہ قرار دے دیا لیکن مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوتا کیونکہ مقامی موٹر ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے انہیں نادہندہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد سے پولیس والوں نے موٹر ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی شہ پر انہیں دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ رانی کی والدہ نے بتایا کہ دسمبر 2004 میں پولیس والے ان کے گھر میں گھس کر بہت ساری چیزیں لے گئے جن میں گیارہ ہزار روپے بھی شامل ہیں۔ اس کے فورا بعد ہی پولیس نے رانی اور خاندان کے دوسرے افراد کے خلاف کیس بنا دیا جس میں رانی کی جانب سے مبینہ طور پر حملے اور اس کےوالد کو پولیس کی حراست سے فرار کروانے جیسے الزامات شامل تھے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ رانی کے گھر والے پولیس کے خوف سے اسے سکول بھیجنے سے ڈر رہے ہیں۔ ننھی لڑکی بھی اس صورت حال سے انتہائی پریشان ہے اور پولیس اور میڈیا والوں سے ڈر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے سکول ، پولیس اور عدالت سے ڈر لگتا ہے۔ اس کی ماں کا کہنا ہے کہ پولیس انہیں ڈرانے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھا سکتی ہے خاص کر جبکہ ان کی غلطی بھی سب کے سامنے آچکی ہو۔ | اسی بارے میں قائد کے مزار پر بھوکی پیاسی بچی25 November, 2005 | پاکستان ’بچیوں کو بچالو‘02 November, 2005 | پاکستان بارہ سالہ بچی کے پانچ شوہر22 June, 2004 | پاکستان بچی کا قتل: سماعت شروع 30 January, 2004 | پاکستان بھارت: بچیوں کی تعلیم مفت 22 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||