قائد کے مزار پر بھوکی پیاسی بچی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں غربت سے تنگ والدین ایک معصوم بچی کو مزار قائد اعظم محمد علی جناح پر چھوڑ گئے ہیں۔ اس بچی کو اب ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کیا گیا ہے۔ مولانا عبدالستار ایدھی کے فرزند فیصل ایدھی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کو منگل کی شام مزار قائد پر تعینات ایک گارڈ نے فون کرکے اطلاع دی تھی کے مزار کی حدود میں باغیچے میں سے ایک بچی ملی ہے۔ فیصل کے مطابق انہوں نے مزار قائد پر پہنچ کر بچی کو تحویل میں لیا ۔ بچی کی عمر ڈیڑھ برس ہوگی جو ایک چادر میں لپٹی ہوئی تھی۔ کئی روز سے بھوک کی وجہ سے بچی کمزور ہوگئی تھی۔جبکہ ٹھنڈ میں اس کو کھانسی اور سینے کی تکلیف بھی تھی ۔توجہ نہیں ملنے کی وجہ سے بچی نے رونا بھی چھوڑ دیا تھا۔ فیصل کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت زار دیکھ کر یہ ہی اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی ماں یا باپ بیروزگاری یا غربت کی وجہ سے بچی کو مزار پر چھوڑ گئے ہیں کہ شاید کوئی اس بچی کو پال لے گا۔
فیصل کے مطابق ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ مزار قائد پر لوگ بچے کو ایسے چھوڑ گئے ہیں۔ دیگر مزاروں پر تو ویسے ہی لوگ بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں۔ فیصل کا کہنا تھا کہ یہ ایک پیغام بھی ہے کہ ایک طرف خوشحالی اور ترقی کے دعویٰ کئے جارہے ہیں دوسری جانب غربت سے تنگ لوگ ملک کے بانی کی مزار پر بچوں کو چھوڑ جا رہے ہیں۔ ایدھی سینٹر میں بلقیس ایدھی نے بتایا کہ انہوں نے اس بچی کا نام حسینہ رکھا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچی ٹھیک ہے بس کھانا نہ ملنے کی وجہ سے کمزور ہوگئی ہے۔ بچی کے ورثا کی تلاش جاری ہے۔ بلقیس ایدھی نے بتایا کہ اس وقت سینٹر میں چالیس بچے ہیں جن کی عمر دو سے چار سال ہے۔ ان کے والدین ان کو چھوڑ گئے ہیں ۔ ’جو نوزائدہ بچے ملتے ہیں لوگوں کو ہم گود دے دیتے ہیں۔ مگر بڑے بچوں کا علاج ہوتا ہے ایک سال تک رکھتے ہیں کہ کہیں ان کے رشتہ دار آ جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں بہت غربت ہے، لوگ بچے پال نہیں سکتے ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ جب بچے پال نہیں سکتے تو پیدا ہی نہ کرو‘۔ | اسی بارے میں زلزلے کا یتیم بچہ حدیقہ کی گود میں09 November, 2005 | پاکستان حادثہ نہیں تخریب کاری ہے: ایدھی14 July, 2005 | پاکستان ایدھی لاڑکانہ عدم تحفظ پر بند 06 July, 2005 | پاکستان ایم کیوایم دھمکیاں دے رہی ہے‘ ایدھی20 November, 2004 | پاکستان اب وہ بچوں کو قتل نہیں کرتے24 May, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||