حادثہ نہیں تخریب کاری ہے: ایدھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نامور سماجی کارکن عبدالستار ایدھی نے گھوٹکی میں ٹرین حادثے کے مقام سے کراچی واپسی پر کہا ہے کہ یہ حادثہ نہیں ہے بلکہ تخریب کاری ہے اور حکومت کو معاملے کی تحقیقات کرنی چاہئے۔ عبد الستار ایدھی چارٹرڈ طیارہ کی واپس کراچی آمد پر ایئر پورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ انہوں نے چھ لاکھ روپے میں پی آئی اے کا طیارہ گھوٹکی میں زخمیوں کی طبی امداد پہنچانے کے لیےچارٹر کیا تھا۔ جس میں وہ ڈاکٹروں کی ٹیم، دوائیاں اور دیگر سامان لے کر گئے تھے۔ واپسی پر وہ جہاز میں دو لاشیں اور پچیس زخمی لے آئے ہیں۔ یہ لاشیں گلشن اقبال کی نسیم اختر اور گلشن جدید کی نجمہ کی ہیں جو ان کے ورثا کے حوالے کردی گئیں اور زخمیوں کو ہسپتال داخل کر دیا گیا ہے۔ ایدھی نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے دنیا میں کئی حادثے دیکھے ہیں مگر یہ ان سب سے زیادہ خوفناک اور ہولناک تھا۔ انہوں نے اس واقعے کو دہشتگردی قرار دیا اور کہا کہ حکومت کو اسکی تحقیقات کرنی چاہئے۔ ستار ایدھی نے بتایا کہ مرنے والوں کی تعداد ایک سو چالیس سے ایک سو پچاس تک ہو سکتی ہے۔ جبکہ پچیس افراد شدید زخمی ہیں اور ڈھائی سوافراد اس کے علاوہ ہیں۔ انہوں نے فوج، انتظامیہ اور مقامی لوگوں کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ان کا کام قابل ستائش ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اب تک صرف ستائیس لاشوں کی شناخت ہو سکی ہے اور نو افراد کے شناختی کارڈ ملے ہیں۔ امدادی کارروایوں میں حصہ لینے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ تقریبا سینتیس لاشیں ایسی ہیں جن کی شناخت کرنا مشکل ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||