اب وہ بچوں کو قتل نہیں کرتے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چوّن سال سے پاکستان میں ایدھی فاونڈیشن کے جھولے اور ان پر لکھی یہ عبارت لوگوں کو متوجہ اور مشتعل کر رہی ہے ’قتل نہ کریں، جھولے میں ڈالیں۔‘ کچھ لوگ انہیں ایک انتہائی ناگزیر ضرورت کی تکمیل سمجھتے ہیں تو کچھ اب تک اس بات پر قائم ہیں کہ ’ایدھی حرام کاری کو فروغ دینے کا باعث بن رہے ہیں۔‘ پنگھوڑ يا جھولا شیر خوار روتے ہوئے بچّوں کو بہلانے یا سلانے کے لیےاستعمال کیا جاتا ہے تاہم پاکستان میں ایدھی مراکز کے باہر نصب جھولے اب تک ہزاروں بچوں کی زندگیاں بچانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔ ان جھولوں کو مراکز کے باہر نصب کرنے یا رکھنے کا مقصد، ان لوگوں کو متوجہ کرنا ہے جو کسی مذہبی، معاشرتی یا معاشی دباؤ کے بنا اپنے غیر مطلوبہ نوزائیدہ بچّے کو قتل کر دیتے ہیں۔ انور کاظمی جو گذشتہ 35 سال سے مولانا عبدالستار ایدھی کے معاون کی حیثیت سے ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ منسلک ہیں ادارے کی اطفال کشی کے خلاف مہم کا پس منظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ’یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب شہر کے مختلف علاقوں میں کچھ زندہ اورکچھ مردہ نوزائیدہ بچّے پائے گئے۔ 1950 میں مولانا عبدالستارایدھی نے کراچـی کےعلاقہ میٹھادر میں ایک جھولا لگا دیا اوراخباری اشتہارات کے ذریعہ درخواست کی کہ غیر مطلوبہ نوزائیدہ بچّوں کو قتل نہ جائے، بلکہ انہیں اس جھولے میں ڈال دیا جائے ’ہم کچھ نہیں کہیں گے۔‘
فی الحال ملک بھر میں تین سو سے زائد ایدھی فلاحی مراکز موجود ہیں جن کے باہر یہ جھولے لگے ہوئے ہیں۔ ان جھولوں میں پائے جانے والے بچّوں کو جن کی عمر عام طور پر ایک دن سے لے کر دس، بارہ دن تک ہوتی ہے، بے اولاد پاکستانی جوڑوں کو گود لینے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اور کسی کو بچہ دینے سے قبل اس کے بارے میں پوری تحقیق کی جاتی ہے اور بلقیس ایدھی جو 1966 سے اس شعبہ سےمنسلک ہیں، خود ان کا انٹرویو لیتی ہی اور پوری تحقیقات کے بعد بچہ حوالہ کرتی ہیں۔ اب تک پندرہ ہزار سے زیادہ بچّے نہ صرف پاکستان میں بلکہ ملک سے باہر بھی بے اولاد پاکستانی شادی شدہ جوڑوں کو دیے گئے ہیں- بعض اوقات نوزائیدہ بچّے کے ساتھ ایک ر قعہ یا خط بھی چھوڑ جاتے ہے، جس پر بچے کا مذہب درج ہوتا ہے ایسی صورتحال میں بلقیس ایدھی اسے اسی مذہب کے خاندان کو ہی اڈاپشن یا اپنانے کے لیے دیتی ہیں، جو بچّے اس قسم کی پرچی کے بغیر ملتے ہیں انہیں مسلمان تصور کیا جاتاہے۔ بقول انور کاظمی ’ان جھولوں کے نصب کرنے سے پہلے ستر سے اسّی فیصد نوزائیدہ بچّے مردہ ملا کرتے تھے، جن میں سے بیشتر کوگلا گھونٹ کر کوڑے کے ڈھیر پر پھنیک دیاجاتا تھا۔
اس کوشش سے گو کہ اطفال کشی مکمل طور پر ختم نہيں ہوئی ہے مگر صورتحال بدل رہی ہے۔ گزشتہ ماہ یعنی اپریل میں ایدھی کو نوزائیدہ بچّوں کی چار لاشیں ملی تھیں جھولوں میں 22 بچّے ملے۔ جھولوں میں نکاح کے بغیر تعلق سے پیدا ہونے والے بچوں کےساتھ ساتھ ذہنی یا جسمانی طور پر معذور بچّے بھی چھوڑ دیے جاتے ہیں، جن کے ورثہ یا والدین سمجھتے ہیں کہ وہ ان کا علاج یا پرورش نہیں کر سکتے بھی۔ کچھ ماں باپ یا خاندان غربت کی وجہ سے اپنی نوزائیدہ بچیّاں بھی ان جھولوں میں چھوڑ جاتے ہیں۔ ایدھی فاونڈیشن کے مطابق ’جھولوں میں پائے جانے والے بچوں میں نوّے فیصد لڑکیاں ہی ہوتی ہیں۔‘ ایدھی فائنڈیشن صرف نوزائیدہ بچّوں کو اڈاپشن کے لیے دیتی ہے، ان سے زیادہ عمر کے بچّوں کو ایدھی ہوم میں رکھا جاتا ہے جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ ہنر بھی سکھایا جاتا ہے۔ پاکستاں میں نافذ حدود آرڈیننس کے مطابق بغیر از نکاح جنسی تعلق زنا شمار ہوتا ہے جس کی اسلامی شرعی قوانین کے سزا سنگساری یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کیا جانا ہے۔
انور کاظمی کے مطابق کچھ مذہبی حلقے اس مہم کی مخالفت کرتے ہوئے یہ اعتراض کرتے ہیں مولانا ایدھی یہ جھولے نصب کر کے حرامکاری کو فروغ دے رہے ہیں۔ جبکہ مولانا عبدلستارایدھی کا کہنا ہے کہ ’حرام کاری معاشرتی قدروں کا نتیجہ ہے، وہ میرے کہنے سے نہیں ہو رہی ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں کہ ایک جرم کے نتیجہ میں دوسرا بڑا جرم نہ کیا جائے اور معصّوم و بے قصور بچّوں کو قتل نہ کیا جائے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||