ایدھی ایمبولینس: کرایوں میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک ایسے وقت میں جب پاکستان میں مہنگائی کے سبب ہر چیز کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں ایدھی فاؤنڈیشن نے اپنی ایمبولینس گاڑیوں کے کرائے میں پچاس فیصد کمی کر دی ہے۔ مولانا عبدالستار ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے ہر شہر سے باہر جانے والی تمام ایمبولینس گاڑیوں کے کرایوں میں کمی کا اعلان کیا۔ یہ ایمبو لینس گاڑیاں زخمیوں، مریضوں، معذوروں، اور میتوں کو لے جا نے کے لۓ استعمال ہوتی ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس ،جو پہلے آٹھ روپے فی کلومیٹر کے حساب سے دستیاب ہوتی تھیں اب چار روپے فی کلو میٹر کے حساب سے ملیگی یوں کراچی سے سکھر کافاصلہ چار ہزار روپے کے بجاۓ دو ہزار روپے میں اور راولپنڈی سے لاہور کا فاصلہ چھبیس سو کی بجا ئے تیرہ سو روپے میں طے کیا جا سکے گا۔ مولانا ا یدھی نے بی بی سی آن لائن کو کو بتایا کہ دو سال پہلے یہ کرایہ بارہ روپے فی کلو میٹر تھا جسے پہلے آٹھ اور پھر چار روپے کیا گیا۔ مولانا ا یدھی نے کہا کہ ہمارے اس اقدام کا مقصد صرف غریبوں کو فائدہ پہنچانا ہے جو مہنگائی کی وجہ سے زخمیوں ، مریضوں، اور معذوروں کو دیہات سے شہر نہیں لاسکتے اور میتیں اپنے علاقے تک نہیں لیجا سکتے۔ انہوں نے بتایاکہ پاکستان بھر میں ہر روز ایدھی فاؤنڈیشن کی ڈیڑھ سو سے زائد ایمبیولینس گاڑیاں ہنگامی صورتِ حال کے پیشِ نظر شہروں سے باہر لیجانے کی ضرورت پڑتی ہے۔ مولانا ایدھی کے صاحبزادے فیصل ایدھی نے بتایا کہ اس اقدام سے فاؤنڈیشن کو سالانہ چھ کروڑ روپے کا خسارہ ہوگا جس کے لۓ فاؤنڈیشن کے دیگر اخراجات میں کمی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چین سے خصوصی گاڑیاں درآمد کی جا رہی ہیں جو پیٹرول کے بجائے سی این جی سے چلتی ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے تحت سات سو سے زائد ایمبولینس گاڑیوں اور ہر شہر میں قائم امدادی مراکز کے ذریعے ملک بھر میں کئی اسپتال ، میت گاڑیاں اور بے سہارا عورتوں اور بچوں کے مراکز کام کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||