BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 January, 2004, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بچی کا قتل: سماعت شروع

ٹورنٹو

کینیڈا میں ایک ایسے مقدمے کی باقاعدہ سماعت شروع ہو گئی ہے جس میں ایک پاکستانی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے اپنی پانچ سالہ بیٹی فرح خان کو ہلاک کر دیا تھا اور بعد میں اس نے انتہائی بے رحمی کے ساتھ اس کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پلاسٹک کے تھیلوں میں بھر کر ایک پارک میں دریا کے کنارے دفن کر دیا تھا۔

فرح کی اصل ماں شاہدہ جبیں اپنے موجودہ شوہر ذوالفقار علی کے ساتھ پنجاب کے ایک گاؤں گھاگھر سے ٹورنٹو پہنچ گئی ہیں اور وہ عدالت میں پیش ہو کر اپنے سابق شوہر محمد ارسلان خان اور اس کی موجودہ بیگم کنیز فاطمہ کے خلاف اپنا بیان قلمبند کرانا چاہتی ہیں۔

وہ چاہتی ہیں کہ فرح کے والد اور اسکی سوتیلی ماں کو اس کی معصوم بچی کو قتل اور اس کے جسم کے ٹکڑے کرنے پر عبرتناک سزا ملے۔

قتل کا یہ واقعہ انیس سو ننانوے میں ہوا تھا اور اس خبر نے لوگوں کے دل ہلا دئے تھے۔ اس واقعہ میں بتایا گیا تھا کہ ایک کمسن بچی کے جسم کے کچھ ٹکڑے ملے ہیں۔ بعد میں پولیس نے کہا کہ انتالیس سالہ محمد ارسلان خان اور ان سے عمر میں نو سال بڑی ان کی اڑتالیس بیگم کنیز فاطمہ نے قتل کیا ہے اور اس کی سوتیلی مان بھی اس جرم میں برابر کی شریک ہے۔

قتل کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک عمر رسیدہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے کتے کے ساتھ سمتھ پارک میں سیر کرنے گئی تھی کہ اس نے ایک شخں کو مشکوک حالت میں کچھ دفن کرتے ہوئے دیکھا ہے۔اس خاتوں کی نشاندہی کرنے پر پولیس نے فرح کے جسم کے کچھ حصے برآمد کر لیے۔

اب پولیس کے لیے مشکل مرحلہ یہ تھا کہ اس بچی کے جسم کے باقی حصے کیسے تلاش کئے جائیں اور مزید یہ کہ اسے کیسے پتہ چلے کہ یہ لڑکی کون ہے اور اسے کس نے قتل کیا۔

پولیس کو اس بچی کے مردہ چہرے کی سخت تلاش تھی۔ یہ محض اتفاق تھا کہ ایک پولیس افسر اپنے کسی ذاتی کام سے فرح کے سکول گیا ہوا تھا۔ اس نے ایک خاتون ٹیچر کو یہ کہتے سنا کہ کئی دنوں سے فرح سکول نہیں آ رہی۔

جب سکول کا ریکارڈ چیک کیا گیا تو پتہ چلا کہ فرح کے والد نے اپنی بچی کا نام یہ کہ کر خارج کروا دیا ہے کہ وہ اپنی پوری فیملی کے ساتہ مستقل طور پر پاکستان واپس جا رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق ارسلان خان اور ان کی اہلیہ کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ امریکہ بھاگنے والے تھے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ جوڑا اپنی رہائش گاہ چھوڑ چکا تھا اور امریکہ روانہ ہونے سے پہلے یہ دونوں عارضی طور پر کہیں قیام پذیر تھے۔

محمد ارسلان خان کی نشاندھی کرنے پر فرح کے جسم کے باقی ٹکڑے ایک دریا کے قریب دفن کے گئے ایک مقام سے نکال لیے گئے۔ ان سارے ٹکڑوں کو ایک جگہ جمع کر کے جب دفنانے کا وقت آیا تو اس وقت شاہدہ ٹورنٹو پہنچ چکی تھیں۔

انوں نے عدالت میں ایک درخواست دی کہ وہ اپنی بیٹی کو مضبوط دھاگوں سے سلی ہوئی لاش کو سیالکوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں میں دفن کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن یہ خواہش پوری نہ کی جا سکی کیونکہ قانونی طور پر قتل سے پہلے فرح اپنے باپ کی سرپرستی میں تھی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی کی لاش کو پاکستان لے جایا جائے۔ چناچہ فرح کو ٹورنٹو میںں دفن کر دیا گیا اور ہزاروں پاکستانیوں نے اس کی تدفین میں شرکت کی۔

واضح رہ کہ فرح کے قتل سے بہت پہلے اسلان خان نے شاہدہ کو طلاق دے دی تھی اور پھر کنیز فاطمہ سے شادی کر لی تھی۔

شاہدہ اپنے والدین کے پاس چلی گئی تھی اور اس نے بھی دوسری شادی کر لی تھی۔

پولیس نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ ارسلان نے اپنی بیٹی کو کیوں قتل کیا تھا۔ جب اخباری نمائندوں نے پولیس کے اعلی حکام سے سوالات کئے تو انہوں نے کہا کہ قتل کے اس سنگین واقع پر قیاس آرائیاں نہ کی جائیں بلکہ عدالت میں مقدمے کی سماعت کا انتظار کیا جائے۔

اس قتل کی وجوہات کچھ بھی ہوں یہ واقع کینیڈا میں بسنے والے تمام پاکستانیوں کے لیے ندامت کا باعث بنا ہواہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد