BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 March, 2006, 11:59 GMT 16:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لیکن بنارس میں تو پان ہوتا ہی نہیں؟

پان بنارس کا
نوادہ کےتین گاؤوں پکری برانواں بلاک کے چھتروار، ڈولا اور دھیودھا کے قریب سات سو خاندان پان کی کاشتکاری و تجارت کرتے ہیں
امیتابھ بچن کی مشہور فلم ’ڈان‘ میں ایک نغمہ ہے’کھئی کے پان بنارس والا، کھل جئے بند عقل کا تالا‘ مگر بہت کم لوگوں کے علم میں یہ بات ہوگی کہ چھورا گنگا کنارے والا، پان کے جن پتوں سے عقل کا تالا کھولتا ہے، وہ بنارس کا نہیں بلکہ بہار کے ضلع نوادہ کے چند چھوٹے دیہات سے بنارس پہنچتا ہے۔

نوادہ کےتین دیہات پکری برانواں بلاک کے چھتروار، ڈولا اور دھیودھا کے قریب سات سو خاندان پان کی کاشتکاری و تجارت کرتے ہیں۔ ان تین گاؤں سے ہر روز ہزاروں روپےکے پان کے پتے بنارس بھیجے جا تےہیں۔ان خاندانوں کا تعلق ’چورسیا‘ ذات سے ہے جنہیں بریٹھ بھی کہا جاتا ہے۔

اس علاقے کے قریب ڈیڑھ سو بیگھہ میں پان کی کھیتی ہوتی ہے۔ پان کی کھیتی اگر صحیح طریقہ سے ہو جائے تو ایک کٹھا کھیت سے سالانہ سات ہزار تک کی آمدنی ہو سکتی ہے۔ اس حساب سے ایک بیگھے سے سالانہ آمدنی قریب ڈیڑھ لاکھ روپےکی ہوتی ہے۔ پان کی کھیتی یوں تو پورے سال ہوتی ہے لیکن اس کی تجارت ہولی کے زمانے میں عروج پر ہوتی ہے۔

پان کی تجارت کے لیے ’ڈھولی‘ کا استعمال ہوتا ہے۔ایک ڈھولی میں پان کے دو سو پتے ہوتے ہیں۔ سو ڈھولی پان سے پانچ ہزار روپےکی آمدنی ہو تی ہے۔ جبکہ اس کے اخراجات پانچ سو روپے ہوتے ہیں۔

پان کے ہرے پتے سے منہ میں لالی تو بہت آسانی سے آ جاتی ہے مگر اس کی کاشتکاری میں خون پسینہ ایک کرنے کے ساتھ ساتھ قدرت سے صحیح موسم کے لیے دعا بھی ضروری ہوتی ہے۔

پان کی کھیتی کے لیے بریٹھا بنایا جاتا ہے جسے کوٹھی بھی کہا جا تا ہے۔ پان کی کوٹھی بنانے کے لیے بانس، پتے اور دھان کے لمبے تنکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سارا سامان مغربی بنگال کے شہر سلی گوڑی سے منگایا جاتا ہے۔

بنارس والے پان کے لیے جو کتھا چونا اور دوسری مصالحے بناتے ہیں وہ انہیں سے مخصوص ہیں

پان کے کھیت کو چاروں اطراف سے بانس اور پتوں کی دیوار بنا کر گھیر دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی ایک چھت بھی دی جاتی ہے۔چھت کو اس طرح بنایا جاتا ہے کہ دھوپ کی مناسب مقدار ہی اندر جا سکے اس لیے چھت موسم کے لحاظ سے بنائی جاتی ہے۔

اس کی کھیتی کے لیے پانی کا استعمال بھی کافی نزاکت بھرا کام ہے۔ کھیتوں میں دو دو فٹ کے فاصلے پر کیاریاں بنائی جاتی ہیں۔اسی کے ذریعہ پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ پان کی فصل کو کیڑوں سے بچانا بھی بہت مشکل کام ہوتا ہے۔

راجندر چورسیا جو پان کی کاشتکاری اور تجارت سے کافی لمبے عرصے سے منسلک ہیں، کہتے ہیں کہ دہلی سے کچھ ماہرین یہاں کی مٹی لے گئے تھے مگر ان کیڑوں کے سدباب کے لیے کوئی مناسب طریقہ بتانے میں قاصر رہے۔

راجندر نے بتایا کہ قدرتی کیڑے کے علاوہ پان کے کسان کو ’انسانی کیڑوں‘ سے بھی نمٹنا پڑتا ہے۔ انسانی کیڑوں سے انکی مراد ریلوے کے وہ اہلکار ہیں جو پان کی بکنگ کے لیے ان سے ناجائز پیسے کا مطالبہ کرتےہیں۔

پان کے پتے اس قدر نازک ہوتےہیں کہ ریلوے والوں سے بحث میں تاخیر کا خطرہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ پان کے تاجروں کو پہلے قریب کے ریلوے اسٹیشن سے سیدھے بنارس تک کی بکنگ کی سہولت دستیاب تھی مگر اب انہیں اس کے لیے گیا جنکشن جانا ہوتاہے۔

راجندر نے بتایا کہ کہ صرف ان تین دیہات سے ہر ماہ دو لاکھ سے زائد کے پان بنارس بھیجے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پھاگن مہینے میں یہ پانچ لاکھ روپےتک کے پان باہر بھیجے جاتے ہیں۔ راجندر کے مطابق اس علاقے کے پان بنارس سے آگے لکھنؤ، مرزا پور اور ممبئی بھی بھیجے جاتے ہیں۔

لیکن بنارس کا پان اس لیے مشہور ہے کہ بنارس والے جو کتھا چونا اور دیگر لوازامات ڈالتے ہیں وہ انہیں سے مخصوص ہیں۔

موبائل فونلاکھوں موبائل صارفین
بھارت میں موبائل فون کمپنیوں کی لڑائی
کرکٹکرکٹ اور سیاست
انڈین الیکشن اور کرکٹ اور سیاست کی جوڑی
لالو پرسادہیما، لالو کی فین
ہیما ’فین‘ ہیں تو لالو ’ایئرکنڈیشن‘
بہار کے مسئلےالیکشن کے مسئلے
بہار اسمبلی انتخابات مسائل کا شکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد