بہار پنچایتی انتخابات: ایک خاموش انقلاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست بہار میں مئی اور جون میں ہونے والے پنچایتی انتخابات پسماندہ ترین طبقات کے لیے خاموش انقلاب کے طور پر دیکھے جارہے ہیں۔ ریاست کی تاریخ میں پہلی بار پنچایتی عہدوں کے لیے 20 فیصد سیٹیں پسماندہ ترین طبقات کے لیے بھی مخصوص کر دی گئی ہیں۔ حکومت کے اس اقدام کا فائدہ ریاست کے لگ بہگ ساڑھے چھ کروڑ میں سے33 فیصد ان عوام کوملنے جا رہا ہے جو گزشتہ نصف صدی سے سیاسی نمائندگی کا تصور اپنے دماغ میں لا بھی نہیں سکتے تھے۔ ریاست میں پسماندہ اور پسماندہ ترین طبقات کے درمیان ایک تفریق ہے۔ نوکریوں میں پسماندہ طبقات کے لیے نشستیں مختص ہیں۔ لیکن صرف پسماندہ ترین طبقات کے لیے پنچایتی انتخابات میں سیٹیں مختص کی گئی ہیں جسکی مخالفت بھی کی جا رہی ہے اور یہ معاملہ عدالت تک جا چکا ہے۔ پنچایتی انتخابات میں شیڈول کاسٹ کے لیے 16 فیصد، خواتین کے لیے50 فیصد اور شیڈول ٹرائب کے لیےایک فیصد نشستیں مخصوص ہیں۔ اندازے کے مطابق پنچایتی اداروں میں لگ بھگ 63 ہزار خواتین نمائندے پہلی بار منتخب ہونگی۔ یہ انتخابات آئندہ 15 مئی سے دس جون تک دس مرحلوں میں ہونے جا رہے ہیں جسمیں 46 ملین ووٹر ایک لاکہ پچیس ہزار پنچایتی نمائندگان کا انتخاب کرینگے۔ ریاست کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہوگا جب جمہوری نظام کی سب سے نچلی انتظامیہ میں 40 ہزار ایسے نمائندے منتخب ہونگے جو شیڈیول کاسٹ اور شیڈیول ٹرائب کے علاوہ پسماندہ ترین برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس میں پسماندہ ترین مسلمانوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہوگی۔ بہار میں سماجی اور اقتصادی حالات کا مطالعہ کرنے والے پٹنہ میں واقع ادارے ایسین رسرچ اینڈڈیو لپمینٹ انسٹیچیوٹ کے سیکریٹری شیوال گپتا کہتے ہیں کہ ’بیشک یہ ایک خاموش انقلاب ہے جس کا نتیجہ ہمیں آئندہ دس سالوں میں نظر آئےگا جب نچلے جمہوری اداروں کے یہی نمائندے پارلیمنٹ اور ریاستی اسیمبلی میں ایک مضبوط طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آئیں گے۔‘ آل انڈیا پسماندہ مسلم محاذ کے صدر اور رکن پارلیمنٹ علی انور کا کہناہے کہ وزیراعلی نتیش کمار کی نو منتخب حکومت کے ذریعہ کیے گئے اس فیصلے نے اب تک بے زبان بنے رہے لاکھوں لوگوں کو عوامی مفاد میں فیصلے کرنے والوں کی صفوں میں لا کھڑا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں شاید یہ اقدام معمولی لگ رہے ہوں لیکن اس کے دوررس نتیجے سماج میں بہت بڑی تبدیلی کی ضمانت ثابت ہونگے۔ علی انور کو یقین ہے کی ان انتخابات میں لگ بھگ 30 ہزار سیٹوں پر مسلمانوں کا قبضہ ہوسکتا ہے۔ ذات اور غیر برابری کے خانوں میں صدیوں سے بنٹے بہار کے سماج میں پسماندہ ترین ذاتوں کی کل تعداد 108 بتائی جاتی ہے۔ مالی، سماجی اور تعلیمی اعتبار سے ان کی حالت کافی خستہ رہی ہے۔ تقریبا دو کروڑ کی آبادی والی یہ برادریاں پوری ریاست میں بکھری ہوئی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عام طور پر یہ اب تک سیاسی طاقت کے طور پر نہیں ابھر پائی ہیں۔ اب تک ان کی حالت محض ووٹ دہندگان کی رہی ہے لیکن اس دفعہ یہ لوگ پہلی بار نمائندگی حاصل کر کے عوام کی رہنمائی کر سکیں گے۔ بیشتر مبصرین سمجھتے ہیں کہ یہ پنچایتی انتخابات بہار کے سماج کی بہتر تشکیل کے لیے تاریخ ساز ثابت ہوسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ریاست بہار کے پنچایتی انتخابات22 April, 2006 | انڈیا بہار: پچاس فیصد خواتین سرپنچ 11 March, 2006 | انڈیا بہار -- ایک دور کا خاتمہ23 November, 2005 | انڈیا نتیش کمار: بہار کے سیاسی اکھاڑے میں24 November, 2005 | انڈیا بہار میں ریاستی اسمبلی کے انتخاب18 October, 2005 | انڈیا بہار پولیس حلیہ درست کرے: نتیش 22 December, 2005 | انڈیا جرم چھوڑو پیسے لو 28 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||