BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 April, 2006, 13:40 GMT 18:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیرالا انتخابات اور عوامی مسائل

کیرالہ
کیرالہ میں گزشتہ برس کی بارشوں اور طوفان سے بھی بہت نقصان پہنچا ہے
جنوبی ریاست کیرالا کے موجودہ اسمبلی انتخابات میں ریاست کی ترقی سبھی جماعتوں کے لیے ایک اہم موضوع ہے۔ کانگریس کی قیادت والے حکمراں یونائٹیڈ ڈیموکریٹک محاذ اور کمیونسٹ پارٹی کے زیر قیادت بائیں بازو کا محاذ (ایل ڈی ایف) اسی ایک موضوع پرانتخابات لڑ رہے ہیں لیکن دونوں کی فکر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

کانگریس پارٹی کے زیر قیادت حکمراں یو ڈی ایف محاذ کا کہنا ہے کہ اس نےگزشتہ پانچ برسوں میں کئی ترقیاتی پروگراموں کی بنیاد ڈالی ہے اور اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آیا تو آئی ٹی سمیت کئی بڑے پراجیکٹ لانچ کریگی جس سے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہونگے۔

ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے رہنما اے کے انٹنی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بڑے پراجیکٹ کے لیے بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے لیکن بائیں بازو کا محاذ اس کی مخالفت کرتا رہا ہے۔

بائیں بازو کے محاذ کا کہنا ہے کہ کانگریس طرز کی ڈیولپمنٹ سکیموں سے صرف اعلیٰ طبقے کا بھلا ہوگا جبکہ فی الوقت ریاست کے کسان اور غریب طبقے کے لوگ پریشانی میں مبتلا ہیں اور ان پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ایل ڈی ایف کےکنوینر پالولی محمد کٹی کا کہنا ہے کہ ’ کیرالا میں انفراسٹرکچر کی کمی ہے جسے کانگریس حکومت نے پوری طرح سے نظر انداز کیا ہے ۔ہمیں ایسے ترقیاتی پروگرامز چاہیئں جن سے غریبوں کا بھی بھلا ہو‘۔

یوڈی ایف محاذ میں شامل مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری کنیہا علی کٹّی کا کہنا ہے کہ کئی سرکاری سکیموں سے خود کمیونسٹ رہنما فائدہ اٹھاتے رہے ہیں ۔

کیرالا انتخابات
کیرالا انتخابات میں روزگار کی فراہمی ایک اہم موضوع رہے گا

’یہ سب باتیں انتخابات کے پیش نظر کہی جار ہی ہیں۔ مغربی بنگال میں بائیں بازو کے محاذ نے ترقی کے لیئے وہی راستہ اپنایا ہے جو ہم نےکیرالا میں شروع کیا تھا‘۔

تقریبا ساڑھے تین کروڑ کی آبادی والی اس ریاست میں بے روزگاری سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ کیرالا میں بیشتر نوجوان اعلیٰ تعلیم سے آرستہ ہیں لیکن روزگار کے مواقع کم ہونے سے بیشتر تعلیم یافتہ لوگ کام کے لیے بیرونی ممالک جاتے ہیں۔ بیرونی ملک میں مقیم کیرالا کے لوگوں کی کمائی اس ریاست کے لیے ایک بڑا آمدنی کا ذریعہ ہے۔ یہاں قدرتی وسائل کی تو کمی نہیں ہے لیکن کوچن اور کالی کٹ جیسے بڑے تجارتی شہروں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں سر گرداں ہیں۔

کوچن میں ایک نوجوان ریاض اگان کہتے ہیں کہ ’ہمیں روزی روٹی کے لیے کوئی اچھا کام چاہیے۔ اتنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی ہم مارے مارے پھرتے ہیں۔ میں یو ڈی ایف کا حامی ہوں کیونکہ میرے خیال میں وہ کچھ ایسے پراجیکٹ لانے والے ہیں جن سے نوکری ملنے کی امید ہے‘۔

کالی کٹ بیچ پر ایک نوجوان افضل نے بات چيت میں بتایا کہ ’جو پیسے والے ہیں وہ تعلیم کے بعد گلف چلے جاتے ہیں لیکن ہم جیسے غریب یہ بھی نہیں کرسکتے۔ اگر حیدرآباد یا بنگلور کی طرح یہاں پر کمپنیاں ہوتیں تو شاید ہمیں بھی نوکری ملتی لیکن ابھی تو برا حال ہے‘۔

بھارت میں کیرالا ایسی پہلی ریاست ہے جہاں سو فیصد لوگ خواندہ ہیں۔ لوگ اپنے حقوق کے متعلق بیدار ہیں اور بیشتر لوگ قومی و بین الاقوامی سیاسی شعور رکھتے ہیں۔ موجودہ اسبلی انتخابات میں جہاں کرپشن ، پینے کے پانی اور خواتین کے تحفظ جیسے سماجی مسائل مقامی لوگوں کی ترجیحات میں شامل ہیں وہیں ایران اور عراق جیسے مسائل بھی بحث کا موضوع ہیں۔

ایران عراق کے مسئلے پر بائیں بازو کے محاذ نے مرکزی حکومت کی بعض پالیسیوں کے خلاف سخت آواز اٹھائی تھی۔ سینئر صحافی ایم پی پرساد کا کہنا ہے کہ عام طور پر کیرالا کے مسلمان اس محاذ کو ووٹ دیتے ہیں جس کے ساتھ انڈین مسلم لیگ ہو ۔ ’ایران کے مسئلے پر مرکزی حکومت کے موقف کے خلاف بائیں بازو کے محاذ نے جو آواز اٹھائی تھی اسکا انہیں ضرور فائدہ ہوگا‘۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد