کانگریس: اتحادیوں سے وضاحتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں برسرِ اقتدار کانگریس پارٹی نے حکمراں اتحاد یو پی اے میں شامل جماعتوں پر واضح کیا ہے کہ اس کا اتحاد صرف مرکز تک ہے اور ریاستوں میں وہ وہ ان جماعتوں کا بھرپور مقابلہ کرے گی جو مرکزی حکومت میں اس کی اتحادی ہیں۔ یونائیٹڈ پروگریسو اتحاد یعنی یو پی اے میں شریک بائیں بازو کی جماعتوں کے لیے کانگریس کا یہ ان تین ریاستوں کے حوالے سے ایک بہت واضح اشارہ ہے جن میں کیرالا، مغربی بنگال اور تری پورہ شامل ہیں اور جہاں جلد ہی انتخابات متوقع ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حیدرآباد میں جاری پارٹی کے بیاسیویں اجلاس میں پیش کی جانے والی قرار داد میں حزبِ اختلاف کی بی جے پی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیاسی سوچ میں اور عمل کی کوئی نظریاتی اساس نہ ہونے کی وجہ سے بی جے پی بد نظمی اور انتشار کی شکار ہے۔ قرارداد میں مخلوط حکومتی اتحاد سے وابستگی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یو پی اے حکومت کی کامیابی اس کے شرکاء کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور یہ کہ مذہبی انتہا پسندی کی سیاست کرنے والوں نے جو سوچ پیدا کی ہے اس کے اثرات کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ حیدرآباد میں جاری تین روزہ کانفرنس کے ابتدائی اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد میں یہ واضح اشارہ دیا گیا ہے کہ کانگریس مستقبل قریب میں اتحادی سیاست کی راہ تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور یونائیٹڈ پروگریسو الائنس کی حکومت کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری رکھے گی۔ اجلاس میں یہ قرارداد سینئر سیاستداں ارجن سنگھ نے پیش کی اور اس میں اتحاد کے تقاضوں کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اتحاد کو مضبوط بنانا اور باہمی تعلقات کو خوشگوار رکھنا صرف کانگریس ہی کی نہیں دوسری جماعتوں کی بھی یکساں ذمہ داری ہے
کانگریس نے اتحاد میں شریک جماعتوں اور خاص طور بائیں بازو کی جماعتوں سے کہا ہے کہ کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جسے بات چیت سے حل نہیں کیا جا سکتا اور اتحاد کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس میں شریک تمام جماعتیں اس بنیادی اصول کو سامنے رکھیں کہ انفرادی مفادات پر اتحادی مفاد کو ترجیح دی جائے گی۔ حکمراں اتحاد میں شامل بائیں بازو کی جماعتیں اکثر حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور امریکہ سے بڑھتے ہوئے تعلقات پر فکر مندی کا اظہار کرتی اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتی رہتی ہیں۔ | اسی بارے میں کانگریس کو چیلنج کا سامنا21 January, 2006 | انڈیا وولکر رپورٹ پر ہنگامہ جاری 06 December, 2005 | انڈیا نئے بیانات، نٹور پر دباؤ بڑھ گیا 04 December, 2005 | انڈیا تیل منافع والوں کو سزا ملے گی:سونیا15 November, 2005 | انڈیا نٹور سنگھ وزارتِ خارجہ سے محروم 07 November, 2005 | انڈیا سنگھ الزامات، تفتیش ہو رہی ہے04 November, 2005 | انڈیا کانگرس کا اقوامِ متحدہ کو نوٹس03 November, 2005 | انڈیا ’کانگریس کو پتہ تھا بابری مسجد کب گرے گی‘01 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||