نئے بیانات، نٹور پر دباؤ بڑھ گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی حکمران جماعت کانگریس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ سن دو ہزار ایک اور دو میں ان کے نوجوانوں کا کوئی گروپ عراق گیا تھا۔ کانگریس کا یہ بیان سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ کے بیٹے کے بیان کے مطابق ہے جن پر اقوام متحدہ کے عراق کے لیے تیل برائے خوراک پروگرام سے فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست ہریانہ میں وزیر ٹرانسپورٹ اور سن دو ہزار ایک میں یوتھ کانگریس کے سربراہ رندیپ سرجےوالا بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کی تنظیم کو عراق کے اس وقت کے صدر صدام حسین کی طرف سے کوئی دعوت نامہ نہیں ملا تھا۔ سرجے والا نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ملک کے سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ کے بیٹے جگت سنگھ کس حیثیت میں عراق گئے تھے۔ جگت سنگھ کا کہنا ہے کہ وہ سن دو ہزار میں کانگریس کے عراق جانے والے چار رکنی سرکاری وفد میں شامل نہیں تھے بلکہ انہوں نے وہ دورہ اپنے ضعیف والد کی مدد کے لیے کیا تھا۔ جگت سنگھ دو ہزار ایک میں یوتھ کانگریس کے جنرل سیکرٹری تھے اور سرجے والا اس تنظیم کے سربراہ۔ اقوام متحدہ کی وولکر کمیٹی نے نٹور سنگھ کا نام ان افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر عراق کے لیے شروع کیے جانے والے تیل برائے خوراک پروگرام سے فائدھ اٹھایا تھا۔ سرجے والا کا بیان نٹور سنگھ کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتا ہے جن پر پہلے ہی حزب اختلاف کی طرف سے مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ نامہ نگاروں کے مطابق نٹور سنگھ پر کانگریس کے اندر سے بھی مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ | اسی بارے میں نٹور سنگھ پر الزام کی توثیق و تردید02 December, 2005 | انڈیا ’حقائق ناکافی ہیں‘:منموہن سنگھ 30 October, 2005 | انڈیا کانگریس کے لیے پہلا بڑا بحران 08 November, 2005 | انڈیا اڈوانی: روسی رشوت کی تحقیقات02 October, 2005 | انڈیا کانگریسی وزراء کو رشوت ملی: مصنف18 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||