نٹور سنگھ: الزام کی توثیق و تردید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کروشیا میں ہندوستان کے موجودہ سفیر انیل متھرانی نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ وؤلکر رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے انڈیا ٹو ڈے جیسے کسی میگزین کوئی انٹرویو انٹرویو دیا ہے۔ انیل متھرانی نے بی بی سی بات چیت میں کہا ہے کہ ٹیلی فون پر ان سے کی جانے والی بات چیت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ فون پر انکی آف دی ریکارڈ بات چیت ہوئی تھی اور جسے خفیہ طور ریکار کر کے ٹی وی پر نشر کردیا گيا اور ذاتیات پر حملہ ہے۔ اس سے پہلے ان کے حولے سے کہا گیا تھا کہ ’حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کے دفتر میں کام کرنے والے ایک سابق افسر نےکہا ہے کہ عراق میں تیل برائے خوراک پروگرام کی بد عنوانی معاملے میں نٹور سنگھ کا ہاتھ تھا اور انہوں نے تیل کوپن حاصل کرنے میں اپنے بیٹے کی مدد کی تھی‘۔ اس کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نٹور سنگھ کو فوری طور پرگرفتار کیا جائے جب کہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ اس معاملے میں قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ کروشیا میں ہندوستان کے سفیر انیل متھرانی سے یہ بیان منصوب کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’نٹور سنگھ اپنے بیٹے کے ساتھ دو ہزار ایک میں عراق کے دورے پر گئے تھے اور وہاں انہوں نے اپنے بیٹے جگت سنگھ اور ان کے دوست عندلیب سہگل کو تیل کے کوپن دلانے میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا تھا‘۔ واضح رہے کہ انیل متھرانی بھی نٹور سنگھ کے ساتھ عراق کے دورے پرگئے تھے۔ انیل متھرانی نے کہا ہے کہ اس بارے میں کانگریس کو ساری بات کا علم تھا اور تیل برائے خوراک پرگرام کے تحت جن دو ناموں کے لیے کوپن جاری کیے گئے تھے اس میں کانگریس اور نٹور سنگھ کے نام ایک ہی شخص کے لیے ہیں۔ انیل متھرانی کچھ دنوں پہلے تک کانگریس کے خارجی امور کے دفتر میں نٹور سنگھ کی ماتحت کام کرتے تھے۔ وؤلکر رپورٹ کے متعلق ان تازہ انکشافات سے جمعہ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زبردست ہنگامہ آرائی ہوتی رہی۔ حزب اختلاف نے مطالبہ کیا ہے کہ نٹور سنگھ کو گرفتار کیا جانا چاہیے اور کانگریس کی سونیا گاندھی کو بھی استعفٰی دینا چاہیے۔
وزیراعظم منمون سنگھ نے اس بارے میں صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’متھرانی کا بیان کافی اہم ہے اور اس بارے میں تفتیش کرنے والے افسران اس کی بھی چھان بین کریں گے۔ حکومت سچائی کا پتہ کرنا چاہتی ہے اور میں یقین دلاتا ہوں کہ اس معاملے میں جو بھی قصوروار ہوگا اسے سزا ملے گی‘۔ حزب اختلاف وزیراعظم کے بیان سے مطمئن نہیں ہے اور حزب اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے کہا کہ جس طرح تفتیش مکمل ہونے تک نٹور سنگھ سے وزارت خارجہ کا قلمدان لے لیا گیا ہے اسی طرح سونیا گاندھی کو بھی یو پی اے کی چئرپرسن کے عہدے سے دستبردار ہوجانا چاہیے۔ اس پر زبردست ہنگامہ ہوا۔ ادھر نٹور سنگھ نے متھرانی کے بیان کو شرمناک اور بغض و عناد سے پُر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’متھرانی نے یہ بیان اس وقت کیوں نہیں دیا جب وہ دلی میں تھے، میں ان کے خلاف کارروائی کرنےکے لیے اپنے وکیل سے مشورہ کرونگا‘۔ تیل برائے خوراک پروگرام کے بدعنوانی معاملے کی وؤلکر رپورٹ میں نٹور سنگھ کے نام آنے کے بعد ہی حکومت نے ان سے وزارت خارجہ کی ذمہ داریاں واپس لے لی تھیں۔ فی الوقت وہ وزیر بے قلمدان ہیں۔ عراق پر تجارتی پابندیوں کے دوران اقوام متحدہ نے ضروری اشیاء اور دواؤں کی خرید کے لیے عراق کو ایک مقررہ مقدار میں تیل فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس موقع پر عراق سے تیل کا ٹھیکہ حاصل کرنے میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگياں ہوئی تھیں۔ اقوام متحدہ نے وؤلکر کمیٹی سے اس معاملے کی تحقیقات کرائی تھیں۔ تحقیقات کے بعد کمیٹی کی رپورٹ میں نٹور سنگھ اور کانگریس پارٹی سمیت ہندوستان کی تقریباً سوا سو کمپنیوں کے نام سامنے آئے تھے جن پر غلط طریقے سے مالی لین دین کے الزمات عائد کیے گئے ہیں ۔ | اسی بارے میں وزارت خارجہ منموہن کے پاس18 November, 2005 | انڈیا تیل منافع والوں کو سزا ملے گی:سونیا15 November, 2005 | انڈیا ’حقائق ناکافی ہیں‘:منموہن سنگھ 30 October, 2005 | انڈیا نٹور سنگھ وزارتِ خارجہ سے محروم 07 November, 2005 | انڈیا قصوری کی نٹور سنگھ سے بات چیت02 November, 2005 | انڈیا نٹور سنگھ پاکستان کے دورے پر02 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||