امیدواروں کومقدمات کا سامنا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے شہر ممبئی کے بلدیاتی انتخاب میں کم از کم بیس امیدواروں کے خلاف شہر کے مختلف پولیس سٹیشنوں میں کیس درج ہیں۔ ان میں کئی کے خلاف سنگین مجرمانہ کیس ہیں جن میں سے ایک امیدوار سنیل گھاٹے سابق مافیا سرغنہ اور موجودہ ممبر اسمبلی ارون گاؤلی کے ساتھی ہیں۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن ( بی ایم سی ) کے انتخابات یکم فروری کو ہوں گے۔ سن دو ہزار دو کے بی ایم سی انتخابات میں چالیس ایسے امیدوار کامیاب ہوئے جن کے خلاف مختلف پولس سٹیشنوں میں کیس درج تھے۔ اس برس لیکن ایسے امیدواروں کی تعداد نصف ہے۔ عشرت انصاری اس وقت ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں ہیں۔ ان پر انسداد دہشت گردی سرگرمیوں کے قانون ( پوٹا ) کے تحت کیس عدالت میں چل رہا ہے۔ ان پر مبینہ طور پر گھاٹ کوپر بم دھماکہ کا الزام ہے اور اس کے علاوہ سیپز کے قریب بم رکھنے کا بھی الزام ہے جو پھٹ نہیں سکا تھا۔ عشرت نے پولیس کے زبردست بندوبست میں اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا اور اب ان کے لئے الیکشن پروپیگنڈہ ان کے بڑے بھائی انجم انصاری کر رہے ہیں جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ورکر ہیں۔ انصاری اس الیکشن میں بہ حیثیت آزاد امیدوار کھڑے ہیں۔ عشرت کے وکیل سوشانت کنجو رمن نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیل گھاٹے بھی اس وقت جیل میں ہیں اور ان کے خلاف ہفتہ وصولی کے تحت پولس سٹیشن میں کیس درج ہے ان کے خلاف پولیس نے مکوکا قانون کے تحت کیس درج کیا ہے۔ گھاٹے گزشتہ بی ایم سی انتخاب میں بھی کامیاب ہو چکے تھے اور وہ موجودہ کارپوریٹر بھی ہیں۔ گھاٹے سابق مافیا سرغنہ اور موجودہ ممبر اسمبلی ارون گاؤلی کی پارٹی اکھل بھارتیہ سینا سے امیدوار ہیں۔مالونی ملاڈ علاقہ سے آسٹن مارکیوس گریشیس الیکشن میں امیدوار ہیں۔ ان کے خلاف درجنوں کیس ہیں اور اسی لئے پولیس نے انہیں انیس سو اکانوے میں قومی سلامتی قانون کے تحت ایک سال جیل کی سزا بھی دی تھی۔ سنگین جرائم کے تحت پولس ریکارڈ رکھنے والے امیدواروں کے علاوہ ایسے کئی امیدوار ہیں جن کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کے دوران قانون کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ جیسے سرکاری افسر پر حملہ یا جبری دکانیں بند کرانے اور غیر قانونی طور پر لوگوں کو جمع کرنے اور اشتعال انگیز تقاریر کرنا۔ایسے امیدواروں کی تعداد زیادہ ہے۔ ان میں ایسے چند نام پرکاش بالا ساونت ، ترشنا وشواس راؤ ، راجیندر ماہولکر ، جمیل مرچنٹ ، محسن حیدر ، منوہر گنگا رام پانچال ، چندر کانت بوجگر اور پرکاش پوار کے ہیں۔ انڈیا کا قانون ایسا ہے جو ملزمین کو الیکشن لڑنے کی آزادی دیتا ہے۔ ایڈوکیٹ عباس کاظمی کا کہنا ہے کہ الیکشن قانون کے مطابق ہر وہ شخص جس کے خلاف عدالت میں کیس چل رہا ہے لیکن اس کا جرم ثابت نہیں ہوا ہے ، وہ بے گناہ ہے اور اسے الیکشن لڑنے کی آزادی ہے۔ مہاراشٹر کے الہاس نگر علاقہ میں پپو کلانی ممبر اسمبلی رہ چکے ہیں جنہوں نے جیل سے الیکشن لڑا تھا اور وہ کامیاب ہوئے تھے۔ ممبئی پولس کے جوائنٹ پولس کمشنر ( نظم و نسق ) اروپ پٹنائیک کے مطابق قانون کے آگے پولیس بے بس ہے لیکن ایسے امیدواروں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں ممبئی شیئر بازار کانیاریکارڈ05 December, 2006 | انڈیا ممبئ بم دھماکے: مجرم 10004 December, 2006 | انڈیا ’امیروں کوبھی کوٹہ میں حصہ ملے گا‘08 December, 2006 | انڈیا سدھو کی سزا پر پابندی کا حکم 23 January, 2007 | انڈیا آسام: گورنر کا مذاکرات سے انکار25 January, 2007 | انڈیا ملائم نےاکثریت ثابت کر دی25 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||