’امیروں کوبھی کوٹہ میں حصہ ملے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت نے کہا ہے کہ پسماندہ طبقہ کے لیے سرکاری اعلی تعلیمی اداروں میں مجوزہ 27 فیصد ریزویشن سے اسی طبقے کے ’ کریمی لیئر‘ یعنی امیر ترین طبقہ کو باہر نہیں رکھا جائے گا۔ پارلیمانی امور کے وزیر پریے رنجن داس منشی نے کہا ہے کہ ’کابینہ نے تمام امور پر غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے سابقہ مسودے پر قائم رہے گی۔‘ پرانے مسودے میں’ کریمی لیئر‘ کو بلا تفریق پسماندہ طبقات کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کی بات کی گئی تھی۔ مسٹر منشی نے کہا کہ مرکزی تعلیمی ادارے میں داخلہ میں ریزرویشن سے متعلق بل 2006 کو پارلیمان کے رواں سرمائی اجلاس میں معمولی ترمیمات کے ساتھ پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ بل 25 اگست کو پارلیمان کےگزشتہ اجلاس کے آخری روز پیش کیا گیا تھا۔ جسے بعد میں پارلیمانی اسٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر دیاگیا تھا۔کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایک دسمبر کو کابینہ کو سونپ دی تھی۔ کمیٹی نےسفارش کی تھی کہ سب سے پہلے ریزر ویشن پسماندہ طبقہ کے ضرورت مند افراد کو دیا جائے اور اگر اس کے بعد سیٹیں خالی رہ جاتی ہیں تواسی طبقہ کے امیر طلبہ کو صلاحیت کے اعتبار سے منتخب کیا جائے۔ بائیں بازوں کی جماعتوں نے ریزرویشن کو ضرورت مندطبقہ تک پہچانے کے لیے ’ کریمی لیئر‘ کو باہر رکھنے پر زور دیا تھا جبکہ یو پی اے کی حمایت کرنے والی بعض جماعتوں نے ریزرویشن سے کریمی لیئر کو باہر رکھنے مخالفت کی تھی۔ | اسی بارے میں کوٹے کے لیئے نئی کمیٹی مقرر17 May, 2006 | انڈیا ہندوستان: مسلمانوں کے لئے ریزرویشن؟03 December, 2006 | انڈیا پسماندہ مسلم بھی دلتوں کےزمرےمیں 05 December, 2006 | انڈیا ریزرویشن کی سیاست16 May, 2006 | انڈیا کوٹہ: بہار کے وزیراعلیٰ کی مشکل20 May, 2006 | انڈیا پسماندگی کوٹہ: حکومت سے جواب طلبی29 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||