کوٹے کے لیئے نئی کمیٹی مقرر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقے کے لیے ریزرویشن کے مسئلے پر غور و فکر کے لیئے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی اس بات پر غور کرے گی کہ کوٹے کے نفاذ کے لیئے کن نکات کا خیال رکھا جائے اور کونسا طریقہ اپنایا جائے جس سے سب ہی طبقے کے مطالبات پورے ہوسکیں۔ اس کمیٹی میں وزیر خزانہ پی چدمبرم، انسانی وسائل کے وزیر ارجن سنگھ، وزیر دفاع پرنب مکھرجی اور وزیر قانون ہنس راج بھاردواج شامل ہیں۔ اس مسئلے پر لوک سبھا میں بحث کے دوران ارجن سنگھ نے کہا ہے کہ ’اعلی تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقے کے لیئے سیٹیں مخصوص کرتے وقت سبھی طبقوں کا خیال رکھا جائے گا لیکن ریزرویشن کے فیصلے پر حکومت قائم ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوگی۔‘ مسٹر سنگھ نے یہ اشارہ ضرور دیا کہ اس کے نفاذ کے طور طریقوں پر بات چیت ہو رہی ہے اور انسٹی ٹیوٹ میں سیٹوں کے اضافے جیسی تجاویز زیر غور ہیں۔ ادھر دلی میں کوٹے کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی ہڑتال چوتھے روز بھی جاری رہی۔ لیکن ریزرویشن کے حامیوں نے بھی سڑکوں پر نکل کر مظاہرہ کیا ہے۔ دلت رہنما ادت راج کی قیادت میں ریزرویشن کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینس کے باہر دھرنا دینے جمع ہوئی تھی جہاں دونوں گروہوں میں تو تو میں میں ہوئی ہے۔ اس سے پہلے کہ معاملہ مار پیٹ تک پہنچتا پولیس نے مداخلت کر کے معاملہ رفع دفع کردیا۔ دلی کے ہسپتالوں میں جونیئر ڈاکٹوروں کی ہڑتال سے طبی خدمات متاثر ہوئی ہیں اسی لیے حکومت نے ڈاکٹروں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ لیکن ہڑتال پر گئے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں اس بارے میں ابھی کوئی نوٹس نہیں ملا ہے اور جب تک حکومت اس سلسلے میں اپنا موقف واضح نہیں کرتی وہ ہڑتال جاری رکھیں گے۔ |
اسی بارے میں مذہبی بنیاد پر کوٹہ نہیں: عدالت21 September, 2004 | انڈیا یہ بھی ہے انڈیا، دلتوں کا بائیکاٹ24 January, 2005 | انڈیا دلتوں سے امتیازی سلوک جاری ہے 06 December, 2005 | انڈیا بھوپال: گینگ ریپ کے ملزمان گرفتار11 July, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||