BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 May, 2006, 11:50 GMT 16:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پسماندگی کوٹہ: حکومت سے جواب طلبی

 سپریم کورٹ
عدالت نے اعلیٰ ذات کے ڈاکٹروں سے بھی ہڑتال ختم کرنے کو کہا ہے
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقے کے لیے نشستیں مخصوص کرنے کی تجویز پر مرکزی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔

عدالت نے اعلیٰ ذات کے ڈاکٹروں سے عوام کے مفاد میں ہڑتال ختم کرنے کی بھی بات کہی ہے جوگزشتہ دو ہفتوں سے حکومت کی تجویز کے خلاف احتجاج میں ہڑتال پر ہیں۔

عدالت نے یہ ہدایات مفاد عامہ کی ایک عذرداری کی سماعت کے بعد دیں۔ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں حکومت کی تجویز کو چیلنج کیا ہے ۔

عدالت نے مرکزی حکومت سے پوچھا ہے کہ نئی ریزرویشن پالیسی کا جواز کیا ہے اور وہ اسے کس طرح نافذ کرے گی۔ حکومت کو اپنا جواب آٹھ ہفتے کے اندر دینا ہے۔

نئی پالیسی کے تحت مرکزي حکومت سرکاری امداد یافتہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آئندہ تعلیمی سال سے پسماندہ طبقوں کے لیئے 27 فیصد نشستیں مخصوص کرنا چاہتی ہے۔ ان اداروں میں 22.5 فیصد سیٹیں دلت اور قبائلی طبقے کے لیئے پہلےسے ہی مخصوص ہیں۔

اعلیٰ ذات کے ڈاکٹروں، انجینئروں اور دوسرے پیشہ ور طلباء پسماندہ ذاتوں کو ریزرویشن دیئے جانے کی تجویز کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ اس سے اعلی ذات کے طلباء کے لیے مواقع کم ہو جائیں گے۔

سماجی انصاف کے لیئے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پسماندہ ذاتوں کے ساتھ ان کی ذات کی بنیاد پر سماجی اور اقتصادی تفریق برتی گئی ہے اور اس تفریق کو فی الوقت تعلیم میں ریزروشن کی مدد سے بڑی حد تک دور کیا جا سکتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا ہے کہ’حکومت کی تجویز سے شہریوں کی ایک بڑی تعداد کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے اور اس سے معاشرے میں افرا تفری ، بے چینی اور لا قانونیت پیدا ہو رہی ہے‘۔

جواب طلبی
 عدالت نے مرکزی حکومت سے پوچھا ہے کہ نئی ریزرویشن پالیسی کا جواز کیا ہے اور وہ اسے کس طرح نافذ کرے گی۔ حکومت کو اپنا جواب آٹھ ہفتے کے اندر دینا ہے۔

درخواست گزار نے مزید کہا ہے کہ’چو نکہ سیٹیں مخصوص کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ پہلے ہی ایک واضح فیصلہ دے چکی ہے اس لیے مساوات اور انصاف کے تقاضے کے پیش نظر عدالت اعظمیٰ حکومت کی اس تجویز کا جائزہ لے‘۔

اس دوران مرکزی حکومت نے کافی صلاح و مشورے کے بعد علان کیا ہے کہ پسماندہ ذاتوں کے لیے سیٹیں مخصوص کرنے کی تجويز پر اس طرح عمل کیا جائے گا کہ اس سے اعلیٰ ذات کے طلبہ کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

مرکزی وزیر آسکر فرنانڈس نے اتوار کی رات احتجاج کرنے والے طلباء کو بتایا کہ نئی تجویز کے نفاذ سے قبل سب ہی تعلیمی اداروں میں مجموعی سیٹوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

طلباء نے سپریم کورٹ کے احکامات کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت سے وضاحت طلب کرنے سے ان کے اس موقف کی توثیق ہوتی ہے کہ ریزرویشن کے پورے معاملے کا ازسر نو جائزہ لیا جائے لیکن ڈاکٹروں نے اپنی ہڑتال جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
ریزرویشن کی سیاست
16 May, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد