BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 10:23 GMT 15:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہاراشٹر: ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری

مریض
ممبئی میں ڈاکٹر سات روز سے ہڑتال پر ہیں۔
ممبئی میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کا آج ساتواں دن ہے ۔اس دوران حکومت اور میونسپل انتظامیہ نے ایک سو پچاس ڈاکٹرں کو چھ ماہ کے لیئے معطل کر دیا ہے۔

پونے کے ساسون ہسپتال کے تین سو دس ڈاکٹروں کو معطلی کے نوٹس جاری کئے جا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈیڑھ ہزار ڈاکٹرز ابھی بھی ہڑتال پر ہیں۔

مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز (مارد) کے صدر ڈاکٹر سری کانت پنڈت نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ابھی تک کسی بھی ڈاکٹر کو معطلی کا نوٹس نہیں ملا ہے ‘۔

انکا کہنا ہے کہ میونسپل انتظامیہ نےمعطلی نوٹس ڈاکٹروں کے رہائشی کمروں پر لگا دیا ہے اور اس کے مطابق ان ڈاکٹروں کا رہائشی کمرے بھی خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن ان سب کے باوجود وہ اپنے مطالبات پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

مسٹر پنڈت کا کہنا ہے کہ ان کے مطالبات جائز ہیں ۔وہ ہسپتالوں میں اپنے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔’ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے کام کے اوقات کم کئے جائیں اور ان کو گزارہ کے لیئے جو رقم دی جاتی ہے اس میں اضافہ ہونا چاہیئے ۔ہسپتال میں خالی اسامیاں پر کی جائیں تاکہ ان پر سے کام کا بوجھ کم ہو ‘۔

مسٹر پنڈت نے بتایا کہ ڈاکٹرز ہسپتالوں میں بہت بری حالت میں رہنے پر مجبور ہیں ۔ایک کمرے میں چار سے پانچ ڈاکٹرز رہتے ہیں انہیں پینے کے پانی کی سہولت نہیں ہے۔ کمروں کی چھت ٹپکتی رہتی ہے ۔کمرے میں چوہے دوڑتے ہیں۔

پنڈت نے دعوی کیا کہ پیر کے روز سے ان کے ساتھ دہلی کے چار میڈیکل کالج اور پچیس ہسپتال بھی ہڑتال میں شامل ہو رہے ہیں انہیں پورے ملک کے کئی ہسپتالوں کے رہائشی ڈاکٹروں کا تعاون حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوں گے۔

ڈاکٹروں کی حکومت کے ساتھ تمام میٹنگز ناکام ہوئیں۔ریاستی وزیر صحت سریش شیٹی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے ہڑتال ان پر کئے گئے حملہ اور پھر ان کے تحفظ کے مطالبہ سے شروع کی لیکن اب انہوں نے مطالبات کی لمبی فہرست بنا لی ہے ۔

شیٹی کا کہنا ہے کہ ’ ڈاکٹروں کے مطالبات پر غور کرنے کے لیئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔’ لیکن مسٹر شیٹی کا کہنا تھا کہ ’ ڈاکٹرز اپنا فرض بھول گئے ہیں ۔ان کی وجہ سے مریضوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے‘۔

مسٹر شیٹی نے کہا کہ شہر کے کئی ہسپتالوں میں اب بحریہ اور صحت عامہ اور اسٹیٹ انشورنس کارپوریشن سے ڈیڑھ سو ڈاکٹروں کو طلب کیا گیا ہے جو شہر کے تمام ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج کریں گے ۔

اس پورے معاملہ میں سب سے زیادہ مریض پریشان ہیں سرکاری ہسپتالوں میں حالانکہ اب علاج کے لیئے فیس لگتی ہے لیکن اس کے باوجود چونکہ علاج سستا ہے اس لیئے غریب ہی نہیں متوسط طبقہ کے لوگ بھی علاج کے لیئے آتے ہیں۔

شمع اپنے شوہر سلیم کو لے کر دو روز سے اس امید میں ہسپتال آرہی ہے کہ شاید آج ہڑتال ختم ہو جائے۔اس کے شوہر کو کئی دنوں سے دست ہو رہے ہیں اور کھانسی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔

شمع کے مطابق اس کے شوہر کو ٹی بی بھی ہے ۔نجی ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اسے گلوکوز لگوانے نے کی ضرورت ہے لیکن اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں ۔ہسپتال کے ڈاکٹرز نے کہا کہ وہ صرف ایمرجنسی کیس کے مریضوں کا ہی علاج کر رہے ہیں ۔

ایک سینئر ڈاکٹر نے ہڑتالی ڈاکٹروں کی مذمت کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ہڑتال سراسر غلط ہے، انکا کہنا تھا " ہڑتال ان کے اپنے ہسپتال میں مریض کے رشتہ دار کےذریعہ مبینہ طور پر مارپیٹ کے بعد تحفظ کو لے کر ہوئی تھی جس کے لئے ہیلتھ سیکرٹری نے تحریری یقین دہانی بھی کرائی۔

انہوں نے کہا دیگر مطالبات کے لیئے کمیٹی کی رپورٹ آنے تک ڈاکٹروں کو انتظار کرنا چاہیئے تھا لیکن اس ہڑتال میں مہاراشٹر کے دیگر اضلاع کے ڈاکٹرز کود پڑے اور انہوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا اور اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب مریضوں کو ہو رہا ہے جس کی پوری ذمہ داری ہڑتالی ڈاکٹروں پر ہے۔

ممبئی کی انتظامیہ نے ہڑتال پرگئے کئی سو ڈاکٹروں کو چھ ماہ کے لیے معطل کردیا ہے۔

سرکاری ہسپتالوں کے جونیئر ڈاکٹر اپنے ایک ساتھی کے ساتھ بدسلوکی کے سبب گزشتہ ایک ہفتے سے ہڑتال پر ہیں اور حکومت کی بارہا اپیلوں کے باوجود وہ کام پر واپس نہیں آئےتھے۔

گزشتہ روز انتظامیہ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ کام پر واپس نہیں آئے تو انکے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔ مہاراشٹرایسو سی ایشین آف ریزیڈنٹ ڈاکٹرز کے ترجمان شری کانت پنڈت نے کہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن نے ساڑھے چار سو ڈاکٹروں کی رجسٹریشن کو آئندہ چھ ماہ کے لیے ختم کردیا ہے۔

جونیئر ڈاکٹروں کے رجسٹریشن کے خاتمے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس مدت میں نہ تو اپنے میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور نہ ہی وہ ڈاکٹری پیشے کی پریکٹس کر سکتے ہیں۔ ہڑتال میں زیادہ تر ایسے جونیئر ڈاکٹر شامل ہیں جو مختلف میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ایک مریض کے بعض لواحقین نے ایک ڈاکٹر کے ساتھ ہاتھا پائی کی تھی جس کے خلاف بطور احتجاج ہڑتال شروع کی گئی تھی لیکن اب وہ تنخواہوں میں اضافے اور بہتر حفاظتی بندوبست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر پنڈت کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر اس وقت تک ہڑتال جاری رکھیں گے جب تک انکے مطالبات پورے نہیں ہوجاتے اور حکومت انہیں تحریری طور پر یقین نہیں دلادیتی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اسکے لیے بھوک ہڑتال بھی کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد