BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 January, 2007, 08:21 GMT 13:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سدھو کی سزا پر پابندی کا حکم

نوجوت سدھو
سدھو نے سزا کے بعد لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا
سپریم کورٹ نے کرکٹ کے سابق کھلاڑی نوجوت سنگھ سدھو کو قتل کے ایک مقدمے میں سزا دیے جانے کے فیصلے پر عمل درآمد حمتی فیصلہ آنے تک روک دیا ہے۔

پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سدھو کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالتِ عظمیٰ نے کہا ’سدھو کو قصوروار قرار دیے جانے کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے‘۔


عدالت عظمی نے کہا ’جب تک عدالت سدھو کی اپیل پر اپنا حتمی فیصلہ نہیں سناتی اس وقت تک سدھو کو دی گئی سزا پر عمل نہیں ہوگا‘۔

سپریم کورٹ نے سزا پر عمل در آمد پر پابندی دو بنیادی وجوہات کی وجہ سے لگائی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر سے یہ واضح نہیں ہے کہ مقتول گرنام سنگھ کو مکا کس نے مارا تھا اور دوسرے یہ کہ گرنام کی موت برین ہیمریج یا دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی یہ بھی واضح نہیں ہے۔

اس فیصلے کے بعد سدھو کے امرتسر لوک سبھا سیٹ سے ضمنی انتخاب لڑنے کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ عدالت کے فیصلے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سدھو نے کہا ’میں عدالت کے ہر فیصلے کو بھگوان کا فیصلہ مانتا ہوں۔ عدالت کا جو بھی فیصلہ ہے میں اس پر عمل کروں گا‘۔

پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے گزشتہ سال دسمبر میں نوجوت سنگھ سدھوکو غیرارادتاً قتل کا مجرم قرار دیا تھا اور انہیں تین سال قید کی سزا سنائی تھی۔
یہ واقعہ 1988 میں پٹیالہ میں پیش آیاتھا۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق کار پارکنگ میں بحث و تکرار کے دوران سدھو نے 65 سالہ گرنام سنگھ کو مکا مارا تھا جس سے ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔

ذیلی عدالت نے اس مقدمے میں سدھو کو رہا کر دیا تھا لیکن ہائی کورٹ نے انہیں غیر ارادتًا قتل کا قصورار پایا تھا۔ مقتول کے لواحقین نے بھی عدالتِ عظمیٰ میں ایک اپیل دائر کی ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ سدھو کی سزا میں اضافہ کیا جائے اور ان کے خلاف ارادتاً نہیں بلکہ دانستہ قتل کا مقدمہ چلایا جائے۔ منگل کی اس فیصلے پر انہوں نے مایوسی بھی ظاہر کی ہے۔

نوجوت سنگھ سدھو امرتسر سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوک سبھا کے رکن تھے۔ قصوروار قرار دیے جانے کے بعد انہوں نے لوک سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ فروری میں اسی حلقے کے انتخاب ہونے والے ہیں۔ نامزدگی کی آخری تاریخ 25 جنوری ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد سدھو کے حامی یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ دوبارہ انتخاب لڑیں گے۔ سدھو نے بھی اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ انتخاب میں حصہ لیں گے۔

اسی بارے میں
سدھو کو تین سال کی قید
06 December, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد