قتل کے مجرم سدھو کا استعفیٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے سابق کرکٹر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان نوجوت سنگھ سدھو نے قتل کے ایک معاملے میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد پارلیمان کی رکنیت سے استعفی دے دیا ہے۔ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے سابق کرکٹر اور رکن پارلیمان نوجوت سنگھ سدھو کو قتل کا مجرم قرار دیا ہے ۔ سدھوپر 1988 میں ایک شخص کو پیٹ کر ہلاک کرنے کا الزام تھا ۔عدالت نے انہں غیرارادی طور پرقتل کرنے کا مجرم قرار دیا ہے۔ اس معاملےمیں سزا کا تعین آ ئندہ ہفتےبدھ کو کیا جائے گا۔ اس سے قبل 1999میں ایک ذیلی عدالت نے سدھو کو قتل کےاس معاملےمیں بری کر دیا تھا۔ لیکن مقتول کے خاندان نے اس معاملے میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے سدھو کو دفعہ 304 کے تحت مجرم قرار دیا ہے۔ جج مہتاب سنگھ گل اور بل دیو میہتا اس معاملے میں بدھ کو سزا سنائیں گے۔ سدھو پنجاب کے امرتسر سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیامان ہیں۔ نوجوت سنگھ سدھو دوسرے رکن پارلیمان ہیں جن کو قتل کے معاملے میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے مرکزی وزیر شیبو سورین کو گزشتہ ہفتہ اپنے سیکریٹری کو قتل کرنے کے معاملے میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد وزیر نے استعفی دے دیا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان کے اس معاملے میں الجھنے سے اس کے تیور کمزور پڑنے لگے ہیں۔ معلوم ہو کہ شیبو سورین معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کانگریس کے خلاف حملہ آور رخ اپنا چکی تھی۔ | اسی بارے میں مغوی بھارتی ڈرائیور کا قتل23 November, 2005 | انڈیا دلی میں ایک کشمیری کا قتل 13 October, 2006 | انڈیا مرکزی وزیر قتل کے مجرم 28 November, 2006 | انڈیا جولائی بم دھماکے، فرد جرم داخل 30 November, 2006 | انڈیا سوروگنگولی ٹیم میں واپسی30 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||