مغوی بھارتی ڈرائیور کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے کہا ہے کہ دلارام سے اسے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ افغانستان میں اغوا شدہ ایک ہندوستانی ڈرائیور کا قتل کردیا گیا ہے۔ جنوبی ہندوستان کے ایک باشندے منیاپن رامن کٹی کو افغانستان کے صوبہ نیمروز میں اس ہفتے کے اوائل میں اغوا کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری طالبان نے لی تھی۔ نئی دہلی میں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کٹُی کے قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ بیان کے مطابق ’ایک معصوم کا اس طرح قتل غیر انسانی اور بہیمانہ عمل ہے‘۔ حکومت نے کٹی کے خاندان کو دس لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی اس کے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔ کٹی کے دو کم سن بچے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اغوا ہونے کے بعد سے ہی انتظامیہ نے تمام ممکنہ کوششیں کیں کہ کٹّی کو محفوظ رہا کروالیا جائے لیکن اس کی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں۔ بیان کے مطابق ایران سے متصل جس سرحدی روڈ کی تعمیر سے کٹی وابسطہ تھے وہ افغانستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے اور اس پر کسی کو اعتراض ہونا نہیں چاہیے تھا۔ حکومت نے افغانستان کی ترقی کے لیے اپنا تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ انیس سو نومبر کو طالبان مزاحمت کاروں نے اس شخص کے ساتھ تین اور افغانوں کو اغواء کرنے کا دعوی کیا تھا۔ ایم رمن کٹی بھارت کی سرکاری بارڈر روڈز تنظیم میں ایک ڈرائیور تھے۔ یہ کمپنی ایران سے متصل سرحد پر ایک روڈ کی تعمیر کر رہی ہے۔ اٹھارہ سو کلو میٹر طویل دیلارام موٹر وے کو افغانستان میں قندھار، ہرات اورایران کی سرحد پر واقع زارہ جان سے ملانے والے منصوبے پر کام جاری ہے۔ کام کرنے والوں میں کچھ کا تعلق بھارت کی سرکاری بارڈر روڈز تنظیم سے ہے۔ بھارتی شہری کو اغوا کرنے کے بعد طالبان نے مطالبہ کیا تھا یہ کمپنی افغانستان چھوڑ کر چلی جائے ورنہ انہیں قتل کردیا جائے گا۔ مزاحمت کاروں نے بائیس نومبر کی شام تک کے لیے وقت دیا تھا اور خبروں کے مطابق مطالبہ پورا نہ ہو نے پر انہوں نے کٹُی کو گزشتہ شام ہی قتل کردیا تھا۔ | اسی بارے میں تیل ٹینکر پر حملہ، دو پاکستانی ہلاک08 June, 2005 | آس پاس تیرہ امریکی فوجیوں کی لاشیں برآمد 30 June, 2005 | آس پاس طالبان کے ہاتھوں چھ افراد کا قتل03 September, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||